جمعہ 14 شعبان 1440 - 19 اپریل 2019
اردو

تصاوير كى حرمت والى احاديث كے متعلق آرٹ كا پيشہ ركھنے والوں ك موقف

34509

تاریخ اشاعت : 03-10-2008

مشاہدات : 4055

سوال

تصاوير كى حرمت ميں بہت سارى احاديث وارد ہيں، ليكن آرٹسٹ كا اس كے متعلق موقف كيا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

يہ لوگ ان احاديث كا انكار كرتے ہيں، حالانكہ يہ سنت نبويہ كے مصادر اور كتب ميں ثابت ہيں، اس كے ثبوت ميں كوئى شك و شبہ نہيں، اور يا پھر يہ لوگ ان احاديث كى تاويل كرتے ہيں، يا يہ دعوى كرتے ہيں كہ يہ احاديث اس دور كے ساتھ خاص تھيں، يا اس كى قسم كے ساتھ مخصوص ہيں، ليكن عمومى احاديث اور صريح ہونے كى بنا پر اس كى كوئى وجہ نہيں بنتى.

اور يہ لوگ يہ بھى خيال كرتے ہيں كہ ايسے اسباب پيدا ہو چكے ہيں جن كا تقاضا ہے كہ اس ميں رخصت ہونى چاہيے، حالانكہ واقع اس بات كا شاہد ہے كہ ان آرٹسٹوں كے پاس ايسا كوئى سبب نہيں جو اسے جائز كر سكے، صرف جمال و خوبصورتى كا فن اور رغبت و چاہت اور اپنے خيالات اور خواہش اور ذہن كے پيچھے چل كر اس كى بات تسليم كرنے كے علاوہ كچھ نہيں.

اور آرٹ كا فن اور پيشہ اختيار كرنے كا مقصد صرف كمائى اور آمدنى كا ذريعہ بنانا ہے، جو كوئى ايسا سبب نہيں بنتا كہ اس كى اجازت دى جائے، كيونكہ بالنص وجوبا اس كى ممانعت موجود ہے، اور پھر يہ اكبر الكبائر ميں شامل ہوتا ہے " انتہى.

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 1 / 478 )

تاثرات بھیجیں