سوموار 14 شوال 1440 - 17 جون 2019
اردو

دنیاوی علوم کے طالب علم کو زکاۃ دینا

95418

تاریخ اشاعت : 12-06-2016

مشاہدات : 1155

سوال

سوال: میری بہن کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی ہے جو کبھی کبھا ر کام کرتا ہے، ساتھ میں کنجوس بھی ہے، وہ میری بہن اور اپنے بچوں پر خرچ بھی نہیں کرتا، چنانچہ میری بہن ہی محنت کر کے گھر کے سارے اخراجات سنبھالتی ہے، اب اسے اعلی تعلیم مکمل کرنے کا پابند کر دیا گیا ہے، وگرنہ اسے ملازمت سے نکال دیا جائے گا اور آمدن کا ذریعہ بند ہو جائے گا، تو کیا میں اسے اپنے مال کی زکاۃ دے دوں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

جس کے پاس اپنے اخراجات پورے کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے  ایسے دنیاوی علوم کے طالب علم  کو زکاۃ دی جا سکتی ہے ، بشرطیکہ اس کی تعلیم شرعی طور پر جائز ہو، اور اس کی ضرورت بھی ہو، اور اس تعلیم کے بعد ملازمت یا کاروبار کرنے کے مواقع بھی اس کیلئے پیدا ہوں۔
کیونکہ اب ڈگری کا حصول انتہائی ضروری ہوچکاہے، اور اس کے بغیر کام یا ملازمت ملنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

مرداوی رحمہ اللہ "الإنصاف" (3/218) میں کہتے ہیں:
"شیخ تقی الدین نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ : "کتابیں خریدنے کیلئے زکاۃ وصول کرنا جائز ہے، بشرطیکہ کہ یہ کتب ایسے علم پر مشتمل ہوں جن سے دینی اور دنیاوی فائدہ حاصل ہو" انتہی ، اور ان کا یہ موقف درست ہے"

اس بنا پر آپ اپنی بہن کو اپنے مال کی زکاۃ دے سکتے ہیں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں