بدھ 17 صفر 1441 - 16 اکتوبر 2019
اردو

سماعت و بصارت کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ شکر کرے؟

96807

تاریخ اشاعت : 23-01-2015

مشاہدات : 2665

سوال

سوال: کیا اللہ تعالی کی نعمتوں مثلاً: سماعت وغیرہ پر سجدہ شکر کرنا جائز ہے؟ میں آپ سے دلائل کیساتھ وضاحت کی امید رکھتا ہوں۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

سجدہ شکر  نئی ملنی والے نعمت پر کیا جاتا ہے، مثلاً: اولاد کی پیدائش ، کسی گم شدہ شخص کی واپسی، یا  دشمن پر فتح وغیرہ،  سماعت و بصارت جیسی ہمیشہ ساتھ رہنے والی نعمتوں پر سجدہ شکر نہیں کیا جاتا، کیونکہ شریعت میں ایسی کوئی  بات ثابت نہیں ہے، اگر ایسا کرنا شرعی عمل ہوتا تو اسکا مطلب یہ ہوتا کہ انسان اپنی ساری زندگی  اللہ کے شکرمیں سجدہ کرتے ہوئے گزار دے۔

نووی رحمہ اللہ "المجموع" (3/564) میں کہتے ہیں:
"امام شافعی اور دیگر [شافعی] فقہاء  کہتے ہیں کہ: "سجدہ شکر کسی ظاہری نعمت  کے حصول یا ظاہری مصیبت کے زوال پر کیا جاتا ہے، چاہے نعمت یا مصیبت  کسی فردکیلئے ہو یا تمام مسلمانوں  کیلئے ہو" ہمارے فقہاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ: "اسی طرح اگر کسی شخص کو بدنی  مصیبت میں دیکھے یا گناہ وغیرہ یا پھرکسی اور مشکل میں پھنسا ہوا دیکھے تو  اس کیلئے بارگاہِ الہی میں سجدہ شکر کرنا  مستحب ہے البتہ دائمی نعمتوں  پر سجدہ شکر شرعی عمل نہیں ہے؛ کیونکہ یہ منقطع نہیں  ہوتیں"انتہی

ابن قدامہ رحمہ اللہ  "المغنی" (1/363) میں کہتے ہیں:
"حصول نعمت یا زوالِ نقمت کے وقت سجدہ شکر مستحب ہے، اسی کے امام شافعی، اسحاق، ابو ثور، اور ابن المنذر رحمہم اللہ قائل ہیں۔
اس کی دلیل کے طور پر ابن المنذر نے اپنی سند کیساتھ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ  سے بیان کیا ہے کہ : "نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کیلئے پر مسرت معاملہ پیش آتا تو آپ سجدہ ریز ہوجاتے"اور ابو داود نے اسے نقل کرتے ہوئے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس جب کوئی پر مسرت معاملہ یا خوشخبری آتی تو اللہ کا شکر کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے"، امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں: "یہ حدیث حسن اور غریب ہے"، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یمامہ کے فتح ہونے پر  سجدہ شکر ادا کیا، اور علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے مقتولین میں  عورت کے پستان جیسے بازو والے شخص کو دیکھ کر سجدہ شکر ادا کیا تھا، اس کے علاوہ بھی متعدد صحابہ کرام سے سجدہ شکر منقول ہے" انتہی

ابن قیم رحمہ اللہ  "إعلام الموقعين" (2/296) میں کہتے ہیں:
"نعمتوں کی دو قسمیں ہیں: [پہلی]جاری و ساری  اور [دوسری]نئی  نعمتیں،  جاری و ساری نعمتوں کا شکر عام عبادات ، اور اطاعت گزاری سے ہوتا ہے، جبکہ نئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلئے سجدہ شکر ہے،  سجدہ شکر کے ذریعے اللہ کا شکر، اس کے سامنے انکساری، اور عاجزی کا اظہار کیا جاتا ہے، اس طرح انسان نعمتوں پر شیخیاں  بکھیرنے اور  ان پر دلی میلان  سے بچ جاتا ہے،  اس حالت میں سجدہ شکر  نفس کیلئے سب سے بڑی دوا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی شیخیاں بکھیرنے والے، اور سرکشوں کو  پسند نہیں فرماتا، اس لئے اس بیماری کی دوا بار گاہِ رب العالمین میں عاجزی و انکساری  کو بنایا گیا"انتہی

شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ  "الشرح الممتع على زاد المستقنع" (4/105) میں کہتے ہیں:
"مصنف  کا قول: "سجدہ شکر نئی نعمتوں پر ہوتا ہے"یعنی: ایسی نعمت جو پہلے حاصل نہیں تھی، بلکہ ابھی ملی ہو ،  یہ قید انہوں نے اس لئے لگائی ہے تا کہ پہلے سے جاری و ساری نعمتیں سجدہ شکر کے سبب میں شامل نہ ہوں، چنانچہ اگر پہلے سےجاری و ساری نعمتوں پر سجدہ شکر کرنا مستحب ہو تو انسان ہر وقت سجدہ کی حالت میں ہی رہے گا، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ: (وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لا تُحْصُوهَا) یعنی: اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو  شمار نہیں کرسکو گے[إبراہیم:34] چنانچہ جاری و ساری نعمتیں ہر وقت انسان کے ساتھ ہی رہتی ہیں، مثلاً: قوت سماعت، بصارت، بولنے کی طاقت، اور تندرست و توانا جسم یہ سب کچھ نعمت ہے، حتی کہ سانس لینا بھی اللہ کی نعمت ہے، اور ان نعمتوں کیلئے سنت نبوی میں سجدہ شکر کرنا ثابت نہیں ہے، ہاں یہ فرض کر لیں کہ کسی شخص کو سانس لینے میں تنگی محسوس ہونے لگی، پھر اچانک اللہ تعالی نے اس تنگی کو دور فرما دیا تو اس پر اُس شخص نے سجدہ شکر کیا ، تو یہ درست ہے، کیونکہ سانس رکنے کے بعد سانس دوبارہ چل پڑے یہ اللہ کی طرف سے نئی نعمت ہے، اس کی کچھ اور مثالیں بھی ہیں:

-   ایک انسان امتحان میں کامیاب ہوگیا، لیکن اسے خدشہ تھا کہ وہ کامیاب نہیں ہوسکے گا، تو یہ اس کیلئے نئی نعمت تھی، جس کیلئے وہ سجدہ شکر بجا لائے گا۔

- ایک شخص نے کسی علاقے میں مسلمانوں کی فتح کے بارے میں سنا ، تو یہ اللہ تعالی کی نئی نعمت ہے، جس کیلئے سجدہ شکر کیا جا سکتا ہے۔

- ایک شخص کو اولاد کی خوشخبری دی گئی، یہ نئی نعمت ہے، اس کیلئے سجدہ کیا جائے گا، اسی بنیاد پر دیگر امور کو قیاس کر لیں۔

مصنف کا کہنا کہ"یا زوال نقمت"یعنی: کسی مصیبت میں پھنسنے کا بہت زیادہ خدشہ تھا، لیکن مصیبت سے بچ گیا، اسکی مثال یہ ہے کہ:

- ایک آدمی کا گاڑی میں جاتے ہوئے ٹریفک حادثہ ہوا گاڑی الٹ گئی، لیکن وہ صحیح سالم  باہر نکل آیا، تو یہاں وہ سجدہ کریگا؛ کیونکہ گاڑی الٹنے کی وجہ سے نقمت کا سبب پایا گیا، لیکن پھر بھی وہ سلامت رہا۔

- ایک شخص کے گھر میں آگ بھڑک اٹھی، تو  اللہ تعالی نے آسانی سے اسے بجھانے میں مدد فرمائی، تو یہ بھی نقمت کا زوال ہے، جس پر اللہ تعالی کیلئے سجدہ شکر کیا جاسکتا ہے۔

- ایک انسان کنویں میں گر گیا، لیکن پھر بھی صحیح سلامت باہر نکل آیا، تو یہ بھی زوالِ نقمت ہے؛ اس پر بھی اللہ کا شکر کرتے ہوئے سجدہ شکر کیا جا سکتا ہے۔

چنانچہ یہاں زوالِ نقمت سے مراد یہ ہے کہ نقصان کے اسباب موجود تھے، لیکن پھر بھی نقصان سے محفوظ رہا، جبکہ ہمیشہ سے جاری و ساری نعمتوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے، اور اگر ہم ان  نعمتوں پر سجدہ شکر کو مستحب سمجھ لیں تو انسان ہمیشہ سجدہ کی حالت میں ہی رہے گا"انتہی

خلاصہ کلام یہ ہے کہ:
سجدہ شکر  صرف نئی حاصل ہونے والی نعمت پر کیا جائے گا، پہلے سے جاری و ساری نعمتوں پر سجدہ شکر نہیں ہوگا۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں