منگل 21 ذو القعدہ 1440 - 23 جولائی 2019
اردو

مال ميں نصاب كيا ہے ؟

تاریخ اشاعت : 28-05-2011

مشاہدات : 6743

سوال

نوٹوں ميں زكاۃ كا نصاب كيا ہے، اور كيا نقدى يعنى نوٹوں ميں سونے كے نصاب كو مد نظر ركھا جائے گا يا كہ چاندى كے نصاب كو ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ڈالر، روپے اور ريال وغيرہ ميں زكاۃ كا نصاب بيس مثقال سونا يا ايك سو چاليس مثقال چاندى كى قيمت كے برابر ہو گا، اور يہ قيمت اس وقت كى ہو گى جب زكاۃ فرض ہوتى ہے، يعنى جب زكاۃ واجب ہو تو سونے يا چاندى كى اس وقت كى قيمت كے مطابق ڈالر وغيرہ ميں لگائى جائےگى، كيونكہ فقراء اور مساكين كو اس ميں زيادہ فائدہ ہے، كہ سونے اور چاندى كى قيمت ميں بہت زيادہ فرق ہے، اور پھر ملك اور علاقے مختلف ہونے كى بنا پر بھى قيمت مختلف ہوتى ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 257 ) ( 9 / 254 ).

اور يہ ديكھتے ہوئے كہ اس وقت چاندى كے نصاب كى قيمت سونے كے نصاب كى قيمت سے كم ہے، تو اس بنا پر اگر ايك شخص كے پاس چاندى كے نصاب كى قيمت كى كرنسى اس كے پاس ہو تو وہ زكاۃ ادا كرے گا، اور چاندى كا نصاب تقريبا ( 595 ) گرام بنتا ہے، لہذا اتنى قيمت كى كرنسى كا مالك انسان سال گزرنے پر اپنے پاس موجود كرنسى ميں ہر ايك ہزار پر اس كرنسى كے پچيس ادا كرے گا.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں