الحمد للہ.
اس عورت كے ليے يتيموں كے مال سے نذر پورى كرنا حلال نہيں كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
اور تم يتيموں كے مال كے قريب تك نہ جاؤ مگر اچھے اور احسن انداز كے ساتھ الانعام ( 152 ).
اور اس كا يتيم كے مال سے نكالنے ( نذر پورى كرنے ) ميں يتيم كا كوئى فائدہ نہيں، بلكہ اگر مال ليا گيا تو وہ چورى شمار ہو گى، اور جس شخص كے پاس بھى يتيم ہوں اسے چاہيے كہ وہ يتيموں كے مال ميں تصرف وہيں كرے جہاں يتيم كے ليے كوئى مصلحت اور فائدہ ہو، اور جہاں يتيم كے ليے مال ميں كوئى فائدہ اور مصلحت نہ ہو يا پھر اس ميں مصلحت تو ہے ليكن كيا وہ زيادہ مصلحت ہے تو پھر اس دليل كى بنا پر يتيم كے مال ميں تصرف كرنا جائز نہيں، آيت ميں ہے كہ:
اور تم يتيموں كے مال كے قريب نہ جاؤ مگر اچھے اور احسن انداز كے ساتھ الانعام ( 152 ).
لہذا اس ميں تصرف كرنا جائز نہيں چاہے وہ اس كى اولاد ہى كيوں نہ ہوں.