سوموار 16 جمادی اولی 1440 - 21 جنوری 2019
اردو

يتيم كا مال چورى كرنا

1203

تاریخ اشاعت : 16-06-2006

مشاہدات : 3828

سوال

ميرے ذمہ ايك نذر ہے، اور ميرے پاس يتيم بچے ہيں، تو كيا ميں ان يتيم بچوں كے مال سے نذر پورى كر سكتى ہوں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اس عورت كے ليے يتيموں كے مال سے نذر پورى كرنا حلال نہيں كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

اور تم يتيموں كے مال كے قريب تك نہ جاؤ مگر اچھے اور احسن انداز كے ساتھ الانعام ( 152 ).

اور اس كا يتيم كے مال سے نكالنے ( نذر پورى كرنے ) ميں يتيم كا كوئى فائدہ نہيں، بلكہ اگر مال ليا گيا تو وہ چورى شمار ہو گى، اور جس شخص كے پاس بھى يتيم ہوں اسے چاہيے كہ وہ يتيموں كے مال ميں تصرف وہيں كرے جہاں يتيم كے ليے كوئى مصلحت اور فائدہ ہو، اور جہاں يتيم كے ليے مال ميں كوئى فائدہ اور مصلحت نہ ہو يا پھر اس ميں مصلحت تو ہے ليكن كيا وہ زيادہ مصلحت ہے تو پھر اس دليل كى بنا پر يتيم كے مال ميں تصرف كرنا جائز نہيں، آيت ميں ہے كہ:

اور تم يتيموں كے مال كے قريب نہ جاؤ مگر اچھے اور احسن انداز كے ساتھ الانعام ( 152 ).

لہذا اس ميں تصرف كرنا جائز نہيں چاہے وہ اس كى اولاد ہى كيوں نہ ہوں.

ماخذ: ديكھيں: مجلۃ الدعوۃ ( عربى ) عدد نمبر ( 1798 ) صفحہ نمبر ( 61 )

تاثرات بھیجیں