سوموار 17 شعبان 1440 - 22 اپریل 2019
اردو

اجنبى اور غير محرم مرد گزرنے كا احتمال ہونے كى بنا پر دوران نماز عورت كا چہرہ چھپانا

تاریخ اشاعت : 13-02-2008

مشاہدات : 6660

سوال

كيا اجنبى اور غير محرم مردوں كى موجودگى يا ان كے گزرنے كا احتمال ہو تو نماز ميں چہرے كا پردہ كرنا واجب ہے، جيسا كہ حرم ميں ہوتا ہے، يا كہ چہرہ ننگا كرنے ميں كوئى حرج نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

شيخ صالح الفوزان كہتے ہيں:

نماز ميں عورت سارى كى سارى پردہ ہے، اس ليے اگر وہاں غير محرم مرد نہ ہوں تو چہرے كے علاوہ باقى سارا بدن چھپانا واجب ہوگا.

اس ليے اگر وہ اكيلى ہو، يا پھر وہاں اس كے محرم مرد ہوں تو وہ نماز ميں چہرہ ننگا ركھےگى.

ليكن اگر وہاں غير محرم مرد ہوں تو وہ نماز يا عام حالت ميں اپنا چہرہ چھپا كر ركھے گى، كيونكہ چہرہ بھى پردہ ميں شامل ہے.

ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلمۃ ( 1 / 315 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 21803 ) اور ( 1046 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں