Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
10209

بيوى كو طلاق دے دى ليكن طلاق كا اسٹام نہيں بنوايا

ايك عورت كو اس كے خاوند نے طلاق دے دى اور اس كى عدت بھى گزر چكى ہے، ليكن وہ اب تك اسلامك سينٹر سے طلاق كا پيپر نہيں لا سكى، اور نہ ہى اس كے پاس اس ملك كے سركارى محكمہ سے طلاق كا كوئى ثبوت ہے جہاں وہ منتقل ہوئى ہے، تو كيا اس كے ليے شادى كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن جبرين حفظہ اللہ كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

" جس ملك ميں منتقل ہوئى ہے وہاں كى عدالت ميں جا كر وہ خاوند غائب ہونے اور اخراجات نہ بھيجنے كو مد نظر ركھتے ہوئے فسخ نكاح طلب كرے، تو يہ فسخ طلاق كے قائم مقام ہو گا "

واللہ تعالى اعلم.

الشيخ عبد اللہ بن جبرين
Create Comments