جمعرات 19 جمادی اولی 1440 - 24 جنوری 2019
اردو

بيوى كو طلاق دے دى ليكن طلاق كا اسٹام نہيں بنوايا

10209

تاریخ اشاعت : 02-11-2010

مشاہدات : 4236

سوال

ايك عورت كو اس كے خاوند نے طلاق دے دى اور اس كى عدت بھى گزر چكى ہے، ليكن وہ اب تك اسلامك سينٹر سے طلاق كا پيپر نہيں لا سكى، اور نہ ہى اس كے پاس اس ملك كے سركارى محكمہ سے طلاق كا كوئى ثبوت ہے جہاں وہ منتقل ہوئى ہے، تو كيا اس كے ليے شادى كرنا جائز ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن جبرين حفظہ اللہ كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

" جس ملك ميں منتقل ہوئى ہے وہاں كى عدالت ميں جا كر وہ خاوند غائب ہونے اور اخراجات نہ بھيجنے كو مد نظر ركھتے ہوئے فسخ نكاح طلب كرے، تو يہ فسخ طلاق كے قائم مقام ہو گا "

واللہ تعالى اعلم.

ماخذ: الشیخ عبداللہ بن جبرین

تاثرات بھیجیں