1239: ضرر دینے والے جانور کے پیدا کرنے کی حکمت


ان جانوروں کے پیدا کرنے میں اللہ تعالی کی کیا حکمت ہے مثلا سانپ بچھو اور چوہے وغیرہ حالانکہ ہم انہیں کھاتے نہیں ہیں ؟

الحمدللہ

اس کے جواب کی دو شقیں ہیں ، عام اور خاص :

عام : بے شک مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ عزوجل حکیم و علیم ہے (اس کے سب کام حکمتوں سے پر ہیں ) وہ کسی چیز کو فضول نہیں اور بے فائدہ پیدا نہیں فرماتا اور اس کے سارے افعال جو بھی صادر ہوتے ہیں وہ حکمتوں سے پر ہوتے ہیں تو اگر کسی فعل کی حکمت مخفی رہے اور اس کا علم نہ ہو سکے تو مومن کو اصل کی طرف لوٹنا چاہۓ ( کہ اس میں کوئی حکمت ہے لیکن اس کی سمجھ نہیں آسکی ) اور اپنے رب کے بارہ میں غلط گمان نہ کرتا پھرے ۔

خاص :

بے شک اس طرح کی مخلوقات پیدا کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالی کی پیدا کردہ اشیاء اور اس کی تدابیر اور مخلوقات میں کاریگری کی مضبوطی کا ظہور ہے تو باوجود ان کی کثرت کے اللہ تعالی سب کو رزق فراہم کرتا ہے اور اسی طرح ان کے ساتھ آزمائش لیتا اور جسے یہ نقصان دیں انہیں اجر دیتا ہے اور جو اسے قتل کرے اس کی شجاعت و بہادری کا ظہور ہوتا ہے۔

اور اسی طرح ان کے پیدا کرنے کے ساتھ اپنے بندوں کو ایمان اور یقین کے اعتبار سے بھی آزماتا ہے تو مومن اس پر راضی اور اسے تسلیم کرتا ہے لیکن جسے شک ہو وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے کیوں پیدا کیا ہے اور کیا ارادہ تھا ؟ اور اسی طرح ایسی مخلوق جو کہ انسان سے کمتر ہے اس کے سبب انسان کی کمزوری اور مرض اور تکلیف کا عدم برداشت کا ظہور ہے ۔

کسی عالم سے مکھی پیدا کرنے کی حکمت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس لۓ کہ اس کے ساتھ بڑے بڑے جابروں کی ناک کاٹی جاۓ اور انہیں ذلیل کیا جاۓ ۔

اور نقصان دہ مخلوق کو پیدا کرنے سے نفع مند چیزوں کو پیدا کرنے کے عظیم احسان کا ظہور ہوتا ہے جس طرح کہ کہا گیا ہے ۔ اس کی ضد ( مخالف ) سے چیز کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔

پھر میڈیکلی اور تجربات سے کتنے ہی ایسے نفع دینے والے انجیکشن اوردوائيں ہیں جو کہ سانپ وغیرہ کے زہر سے تیار کۓ جاتے ہیں سبحان اللہ وہ سب عیبوں سے پاک ہے جس نے ان امور جو ظاہری طور پر نقصان دہ ہیں انہیں نافع بنایا ہے، پھر بہت سے نقصان دہ حیوانات کی خوراک ہیں جس سے ماحول میں اور طبیعت میں توازن قا‎ئم ہے جس کی اللہ تعالی نے بڑے احسن اور مضبوط طریقے سے تخلیق کی ہے۔

اور مسلمان پر یہ واجب ہے کہ وہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالی کے سب افعال خیر ہیں اور اس کی کسی بہی مخلوق میں خالص شر نہیں ہے بلکہ کسی دوسری وجہ سے اس میں لازمی طور پر بہلا‎‎ئی اور خیر ہوگی اگرچہ وہ ہم میں سے کسی ایک پر مخفی رہے ۔

مثلا ابلیس کی پیدائش حالانکہ وہ شر اور برائی کی جڑ ہے تو اس کے پیدا کرنے میں بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی اس کے ساتھ اپنی مخلوق کو آزماتا ہے تاکہ گنہگاروں میں سے اطاعت کرنے والوں کی پہچان ہوسکے اور کوتاہی کرنے والوں کا پتہ چل سکے اور جہنمیوں میں سے جنتیوں کی تمییز ہوسکے۔

ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں قوت ایمان اور دینی بصیرت عطا فرما‎ئے ۔

اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل کرے۔

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments