155483: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ کے نفلی روزے کافی تعداد میں جمع ہوجاتے اور پھر آپ شعبان میں انکی قضا دیتے؟


کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ کے تین روزے رکھتے تھے، تو بسا اوقات آپ ان روزوں کو مؤخر کردیتے ، یہاں تک کہ پورے سال کے روزے جمع ہوجاتے، تو پھر آپ شعبان میں یہ سارے روزے رکھتے)

الحمد للہ:

یہ حدیث ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے، بسا اوقات ان روزوں کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ پورے سال کے روزے اکٹھے ہوجاتے، اور پھر آپ شعبان میں روزے رکھتے۔

اس روایت کو طبرانی نے " المعجم الأوسط " (2/320) میں ذکر کیا ہے، اسکی سند یہ بیان کی: حدثنا احمد قال : نا علی بن حرب الجنديسابوری قال : نا سليمان بن ابی هوذة قال : نا عمرو بن ابی قيس ، عن محمد بن عبد الرحمن بن ابی ليلى ، عن أخيه عيسى ، عن أبيه عبد الرحمن ، عن عائشہ ۔۔۔۔ پھر اسکے بعد کہا: " یہ حدیث صرف اسی سند کیساتھ عبد الرحمن بن ابی لیلی سے بیان کی جاتی ہے، اور اس سند میں عمرو بن ابی قیس کا تفرد پایا جاتا ہے"انتہی

یہ سند محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی کی وجہ سے ضعیف ہیں، آپ مشہور فقیہ ہیں، لیکن علم حدیث کے بارے میں امام احمد انکے متعلق کہتے ہیں:

" كان سيء الحفظ ، مضطرب الحديث " یعنی حافظہ کافی کمزور تھا، اور انکی احادیث میں اضطراب بھی پایا جاتا ہے۔

شعبہ کہتے ہیں کہ:

"میں نے ابن ابی لیلی سے بڑھ کر کچے حافظے والا شخص نہیں دیکھا"

علی بن المدینی کہتے ہیں:

" كان سيء الحفظ ; واهي الحديث " یعنی : آپکا حافظہ کافی کمزور تھا، اور آپکی احادیث میں بھی بہت کمزوری پائی جاتی تھی۔

چنانچہ مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اہل علم نے انکی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔

ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"اس حدیث کی سند میں محمد بن ابی لیلی ہے، اور اس کے بارے میں کلام کی گئی ہے"انتہی

" مجمع الزوائد " (3/195)

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

" ابن ابی ليلى ضعيف ہے، یہاں بیان کردہ روایت ، اور اسکے بعد والی روایت ابن ابی لیلی کے ضعف پر دلالت کرتی ہے"انتہی

" فتح الباری" (4/252)

شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"اسکی سند میں ابن ابی لیلی ہیں جو کہ ضعیف ہیں"انتہی

" نيل الأوطار " (4/332)

اہل علم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کی حکمت بیان کرنے کیلئے کافی آراء پیش کی ہیں، جن میں سے ایک سابقہ قول بھی ہے، لیکن اسکی دلیل صحیح ثابت نہیں ہوسکی، اس قول کو سب سے پہلے ابن بطال نے شرح صحیح بخاری (4/115) میں بیان کیا ہے، ابن بطال نے دیگر اقوال بھی ذکر کئے ہیں جنہیں حافظ ابن حجر نے نقل کیا اور کچھ اضافہ بھی کیا ، پھر حافظ ابن حجر نے کہا:

"روزوں کی حکمت کے متعلق مناسب وجہ وہ ہے جو گذشتہ حدیث سے بہتر حدیث میں بیان کی گئی ہے، جسے نسائی، ابو داود نے روایت کیا ہے ، اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرارد یا ہے، چنانچہ اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: رسول اللہ! میں شعبان کی طرح آپکو کسی بھی ماہ میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھتا، تو آپ نے فرمایا: (رجب اور رمضان کے درمیان لوگ اس مہینے سے غافل ہوجاتے ہیں، حالانکہ اس ماہ میں اعمال رب العالمین کی طرف بھیجے جاتے ہیں، تو مجھے اچھا لگتا ہے کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں پیش کئے جائیں)"انتہی

" فتح الباری" (4/215)

واللہ اعلم .

اسلام سوال و جواب
Create Comments