32725: بيوى كى شكايت كہ خاوند امر بالمعروف و نہى عن المنكر كے ادارہ سے منسلك ہے


الحمد للہ ميں ايك دينى التزام كرنے والے نوجوان سے شادى شدہ ہوں، اور وہ امر بالمعروف و نہى عن المنكر كے ادارہ سے تعاون كرتا رہتا ہے، ميں جانتى ہوں كہ اس ادارہ سے تعاون كرنا ميرے ليے ايك شرف كى بات ہے، اللہ جانتا ہے كہ اگر كچھ برائياں ختم كرنے ميں ميرا خاوند كامياب ہو جائے تو ميرے ليے يہ خوشى كا مقام ہوگا.
ليكن مشكل يہ ہے كہ ميرا خاوند اس ادارہ سے صرف خيالى طور پر تعلق ركھتا ہے، مثلا جب ہم دونوں سير و تفريح كے ليے باہر نكلتے ہيں اور وہ كوئى برائى ديكھے تو اس كا پيچھا كر كے امر بالمعروف و نہى عن المنكر كے ادارہ والوں سے رابطہ كرتا ہے اور وہ آ جاتے ہيں.
ليكن جب ميں اس سے كسى معاملہ ميں بات چيت اور بحث كرتى ہوں تو وہ يہ سمجھنے لگتا ہے كہ ميں برائى كو خم نہيں كرنا چاہتى!!
حالانكہ اللہ جانتا ہے كہ ميں ايسا نہيں چاہتى، ليكن ميں تو چاہتى ہوں كہ يہ ايك حد تك ہو، اور يہ بھى كہ وہ اس سلسلہ ميں مجھے پريشان مت كرے وہ كثرت سے عورتوں كے ساتھ بات چيت كرتا ہے، اور جب كہتا ہے كہ اس عورت نے ايسا لباس پہن ركھا ہے اور اس كى شكل ايسى ہے تو ميرى غيرت اور بڑھ جاتى ہے، مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟
اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

سب سے پہلے تو ہم آپ كو اپنے خاوند كے اس عظيم كام سے خوشى محسوس كرنے پر مباركباد ديتے ہيں، كيونكہ يہ انبياء بھى امربالمعروف و نہى عن المنكر اور دعوت الى اللہ كا كام كرتے رہے ہيں، ہم آپ كو نصيحت كرتے ہيں كہ آپ اس كام كے ليے اپنے خاوند كا تعاون كريں اور اسے زيادہ مواقع فراہم كريں، اور اس كے اس كام ميں شك و شبہ سے كام نہ ليں.

رہا يہ كہ آپ كو جو كچھ عورتوں كے بارہ ميں بتاتا ہے وہ ظاہر يہى ہوتا ہے كہ آپ پر اعتماد كرتے ہوئے سب كچھ كہتا ہے اس ليے نہيں كہ آپ اس سے ناراض ہوں، اور نہ ہى وہ اس ليے يہ سب كچھ كرتا ہے كہ وہ عورتيں اسے اچھى لگتى ہيں ليكن وہ تو صرف آپ كو ان كى بعض برائياں بتاتا ہے جن كا وہ ارتكاب كر رہى ہيں تا كہ آپ ان برائيوں سے اجتناب كريں، يا پھر وہ اپنے اندر كا غبار نكالتا چاہتا ہے.

كيونكہ كچھ لوگ جب كسى برائى كو ديكھتے ہيں تو ان كا دل جلنے لگتا ہے اور وہ اپنے دل كا غبار نكالنے كے ليے كسى كو ايسے شخص كو تلاش كرتے ہيں جو ان كے اندر كى بات سنے، اس ليے آپ اسے مدنظر ركھيں اور شيطان كو اس ميں داخل ہونے كا موقع مت ديں.

اور اگر وہ آپ كے ساتھ كوئى كمى و كوتاہى كرے تو اس ميں اسے نصيحت كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن شرط يہ ہے كہ نصيحت اچھے طريقہ سے كى جائے اور اس ميں نہ تو بداخلاقى كا مظاہرہ ہو اور نہ ہى شكوك و شبہات.

اور خاوند كو يہ نصيحت ہے كہ وہ اپنے بيوى بچوں كو ان كے حقوق ادا كرے، اور ان كے ساتھ حسن معاشرت اختيار كرتے ہوئے اچھا سلوك كرے، اور اس كے ساتھ ساتھ اسے ان كے جذبات اور احساسات كا بھى خيال كرنا چاہيے، وہ اپنى بيوى كے سامنے دوسرى عورتوں كے اوصاف بيان نہ كرے، كيونكہ جس طرح مرد راضى نہيں ہوتا كہ كوئى اس كى بيوى كسى دوسرے مرد كے اس كے سامنے شخص كے سامنے اوصاف بيان كرے، تو بيوى بھى يہ نہيں چاہتى كہ اس كے سامنے بھى دوسرى عورتوں كے اوصاف بيان نہ كيے جائيں.

اس بنا پر اسے عورتوں كے ساتھ زيادہ بات چيت نہيں كرنى چاہيے، بلكہ صرف حسب ضرورت ہى بات كرے جو برائى كو ختم كرنے كے ليے ضرورى ہو، يا پھر برائى پر كسى عورت كو متنبہ كرنے كے ليے.

كيونكہ اس ميں ضرورت سے زيادہ كلام كرنا اور سستى و كوتاہى كرنے كا انجام اچھا نہيں ہوگا، اور پھر اسے نظريں بھى نيچى ركھنے كى كوشش كرنى چاہيے، كيونكہ نظر تو ابليس لعين كے تيروں ميں سے ايك تير ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى سب كو ايسے كام كرنے توفيق عطا فرمائے جو اللہ پسند كرتا اور جن سے راضى ہوتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments