Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
37679

بیوی سے جماع کرتے ہوئے اذان فجر کا سننا

جب کوئي شخص اپنی بیوی سے جماع کررہا ہو اوراذان فجر شروع ہوجائے توکیا حکم ہے آیا وہ اپنی حاجت پوری کرے یا کہ اذان سنتے ہی ہم بستری ترک کردے ، اس کے متعلق ہمیں فتوی دے کرعنداللہ ماجورہوں ؟

الحمد للہ :

جب کوئي شخص بیوی سے جماع کررہا ہو اورطلوع فجر ہوجائے تو اسے فورا اس سے رک جانا چاہیے ، اوراس کا روزہ صحیح ہوگا اوراس پر کچھ بھی نہيں ، لیکن اس کے لیے یہ جائز نہيں کہ طلوع فجر کے بعد بھی ہم بستری میں مشغول رہے ، اگر اس نے ایسا کیا تو اس کا روزہ فاسد ہوجائے لھذا اس پر قضاء کے ساتھ کفارہ بھی دینا لازم ہے ۔

اوراس کا کفارہ یہ ہے کہ : غلام آزاد کیا جائے ، اگروہ اس کی طاقت نہ رکھے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے ، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہوتو پھر ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے ، آپ اس کی مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 1672 ) کے جواب کا مطالعہ ضرور کریں ۔

یہ تو طلوع فجر کے متعلق تھا لیکن مؤذن کی اذان فجر کے بارہ میں ہم یہ کہیں گے کہ :

اگر تو مؤذن طلوع فجر کے ساتھ ہی اذان دیتا ہے تو پھراذان سنتے ہی فوری طور پر جماع سے رکنا ضروری ہے ، اگر ایسا نہيں کرے گا تو پھر روزے کی قضاء کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا پڑے گا ۔

لیکن اگر مؤذن طلوع فجر سے قبل اذان کہتا ہے ، جیسا کہ بعض مؤذن حضرات غلط اجتھاد کرتے ہوئےاپنے گمان میں روزے کی لیے احتیاط کرتے ہوئے پہلے ہی اذان کہہ دیتےہیں تواس حالت میں طلوع فجر کے یقین ہونے تک جماع کیا جاسکتا ہے ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذیل سوال کیا گيا :

جب کوئي شخص اذان فجر سنن کے بعد پانی پیئے تو کیا اس کا روزہ صحیح ہوگا ؟

توشيخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

جب مؤذن نے طلوع فجر کے یقین ہونے کے بعداذان کہی تواس کے بعد روزے دار کےلیے کھانا پینا جائز نہیں ، لیکن اگر مؤذن طلوع فجر سے پہلے ہی اذان کہتا ہے تو پھر کھانے پینے میں کوئي حرج نہیں حتی کہ طلوع فجر ہوجائے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اب تم ان سے مباشرت کرو اورجوکچھ اللہ تعالی نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اسے تلاش کرو ، اور صبح کا سفیددھاگہ رات کے سیاہ دھاگے سے ظاہر ہونے تک کھاؤ پیئو } ۔

اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان ہے :

( بلاشبہ بلال رضي اللہ تعالی عنہ اذان رات کے وقت کہتے ہيں لھذا عبداللہ بن ام مکتوم رضي اللہ تعالی عنہ کی اذان سننے تک تم کھاؤ پیئو ، کیونکہ وہ طلوع فجر کے وقت اذان کہتے ہیں ) ۔

اس لیے مؤ‎ذنوں کو چاہیے کہ وہ اذان فجر میں تحیقیق سے کام لیں اوراس وقت تک اذان نہ کہیں جب تک کہ طلوع فجر نہ ہوجائے اورطلوع فجر کا یقین صحیح گھڑیوں سے نہ کرلیں یہ نہ ہوکہ وہ لوگوں کودھوکہ میں ڈال کران پر اللہ تعالی کی حلال کردہ کو حرام کرکے فجر کی نماز وقت سے قبل ہی حلال کردیں ، اوراس عمل میں بہت شدید قسم کا خطرہ ہے ۔ ا ھـ

دیکھیں کتاب : فتاوی اسلامیۃ ( 1 / 122 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments