Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
37940

ٹیچر آوازبلند رکھنے کے لیے روزہ نہيں رکھتا

تدریسی عمل آواز بلندہونے کا متقاضی ہے ، اورمیں روزے کی حالت میں کچھ پی نہيں سکتا جس کی وجہ سے مجھے بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے میرے لیے پانی پیان ضروری ہے ( مجھے کھانے کی کوئي ضرورت نہيں کیونکہ میں صرف اپنی آواز کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں جس کی بنا پر میں دوران تدریس روزے نہيں رکھتا اوران ایام کی قضاء چھٹیوں میں رکھتا ہوں ) میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے بتائيں کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے کہ نہيں ؟

الحمد للہ :

ماہ رمضان کے روزے رکھنا ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے ، اوردین کے سب سے اہم واجبات میں سے ہے ، لھذا کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہيں کہ وہ اس میں سستی کرتے ہوئے رمضان کے روزے نہ رکھے ۔

اورجب دینی اوردنیاوی مصلحتوں میں تعارض پیدا ہوجائے تو آپ دینی مصلحت کو مدنظر رکھیں اوراسے ہی مقدم کریں ۔

اس لیے یا تو آپ روزے اورتدریسی عمل میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کریں ( جوکہ انشاء اللہ بہت ہی آسان کام ہے اورمسلمان ہمیشہ سےہی تدریسی فریضہ سرانجام دیتے آئے اورروزے بھی رکھتے آئے ہيں ) اگرچہ تدریسی کام بلاتنخواہ ہی کیوں نہ کریں ، تا کہ اس مہینہ کے روزے رکھ سکیں ۔

آپ مزید تفصیل دیکھنے کے لیے سوال نمبر ( 12592 ) کے جواب کا مطالعہ کریں ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments