49018: اگر خاوند بيوى كى شرمگاہ ديكھے تو كيا وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟


اگر خاوند بيوى كى شرمگاہ ديكھے تو كيا وضوء ٹوٹ جائيگا ؟

الحمد للہ:

اس سے وضوء نہيں ٹوٹےگا، سوال نمبر ( 14321 ) كے جواب ميں وضوء توڑنے والى اشياء كا بيان ہو چكا ہے جن ميں مرد كا اپنى يا كسى دوسرے كى شرمگاہ ديكھنا شامل نہيں ہے.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا ننگے مرد اور عورت كو صرف ديكھنے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے، اور اگر كوئى شخص اپنى شرمگاہ كو ديكھے تو كيا اس كا وضوء ٹوٹ جائيگا ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" باوضوء شخص كا ننگے مردوں يا عورتوں كو صرف ديكھنے سے ہى وضوء نہيں ٹوٹتا، اور نہ ہى اس كا اپنى شرمگاہ ديكھنے سے وضوء ٹوٹےگا كيونكہ اس كى كوئى دليل نہيں ملتى " اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 270 ).

كميٹى سے يہ سوال بھى كيا گيا:

اگر كسى باوضوء شخص نے اپنى شرمگاہ ديكھ لى تو كيا وہ قرآن مجيد كو پكڑ سكتا ہے يا وہ نماز ادا كر سكتا ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" جى ہاں جائز ہے، اور شرمگاہ كى طرف ديكھنا نواقض وضوء ميں شامل نہيں ہوتا " اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 283 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments