Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
71213

رمضان المبارك ميں دن كے وقت مشت زنى اور عورت سے مباشرت كر كے انزال كرنا

اگر كوئى شخص مشت زنى كرے، يا بيوى سے جماع كيے بغير بوس كنار سے ہى منى خارج ہو جائے تو كيا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟ اور اس كے ذمہ كيا واجب آتا ہے ؟ اور كيا اس كا كفارہ بھى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

مشت زنى كرنا حرام ہے، اس كى تفصيل سوال نمبر ( 329 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے، اور پھر رمضان المبارك ميں تو اس كى حرمت اور بھى شديد ہو جاتى ہے.

دوم:

مشت زنى كرنا اور اسى طرح عورت كے ساتھ بوس و كنار كرنا حتى كہ منى خارج ہوجانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جو شخص بھى ايسے فعل كا مرتكب ہو اسے اس حرام فعل پر اللہ تعالى كے سامنے توبہ و استغفار كرنى چاہيے، اور جو روزہ اس نے خراب كيا ہے اس كى قضاء ميں ايك روزہ ركھنا ہوگا، اور اس پركفارہ نہيں؛ كيونكہ كفارہ رمضان المبارك ميں روزے كى حالت ميں جماع كيے بغير واجب نہيں ہوتا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور اگر كسى نے مشت زنى كى تو اس نے حرام فعل كا ارتكاب كيا، اگر منى خارج نہ ہوئى ہو تو روزہ فاسد نہيں ہوگا، ليكن اگر منى خارج ہوگئى تو روزہ فاسد ہو جائيگا " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 4 / 363 ).

اور ابن قدامہ ايك دوسرى جگہ پر يہ كہتے ہيں:

" جب اس نے " يعنى بيوى كا " بوسہ ليا اور منى خارج ہوگئى تو ہمارے علم كے مطابق بغير كسى اختلاف كے اس كا روزہ ٹوٹ گيا " انتہى.

ديكھيں: مغنى ابن قدامہ ( 4 / 361 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" جب عورت سے فرج كے علاوہ كہيں اور مرد اپنى شرمگاہ كے ساتھ مباشرت كرے، يا اس كا بوسہ لے، يا عورت كے جسم كو ہاتھ وغيرہ سے چھوئے اگر تو ايسا كرنے سے اس كى منى خارج ہوگئى تو اس كا روزہ باطل ہے، اور اگر منى خارج نہيں ہوتى تواس كا روزہ باطل نہيں.

حاوى وغيرہ كے مصنف نے بيان كيا ہے كہ فرج ( يعنى عورت كى شرمگاہ ) كے علاوہ كہيں اور مباشرت كرنے، يا بوسہ لينے سے انزال ہو جائے تو روزہ باطل ہونے پر اجماع ہے " انتہى مختصرا.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 6 / 349 ).

اور بدايۃ المجتھد ميں ہے:

سب ـ يعنى سب آئمہ ـ كا كہنا ہے كہ جس نے بھى بوس و كنار كيا اور اس كى منى خارج ہو گئى تو اس كا روزہ ٹوٹ گيا " انتہى.

ديكھيں: بدايۃ المجتھد ( 1 / 382 ).

اور ابن عبد البر " الاستذكار " ميں رقمطراز ہيں:

" ميرے علم كے مطابق كسى عالم دين نے بھى روزے دار كے ليے ايك شرط كے بغير عورت كا بوسہ لينے كى رخصت نہيں دى، وہ شرط يہ ہے كہ ايسا كرنے كے نتيجہ ميں جو كچھ ہوتا ہے اس سے سلامت رہتا ہو، اور جس كے متعلق يہ علم ہو كہ ايسا كرنے كے نتيجہ ميں روزہ ٹوٹنے كے اسباب پيدا ہو سكتے ہيں، تو اس شخص كو ايسا كرنے سے اجتناب كرنا ہوگا " انتہى.

ديكھيں: الاستذكار ( 3 / 296 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" جب كسى شخص كو اپنے متعلق علم ہو كہ بيوى سے بوس و كنار كرنے سے اس كا انزال ہو جاتا ہے، تو اس كے ليے بيوى سے بوس و كنار كرنا حلال نہيں، كيونكہ بعض لوگوں كو انزال بہت جلد ہوجاتا ہے، مثلا اگر وہ بيوى سے بوس و كنار كرے تو اس كى منى خارج ہو جاتى ہے، تو ہم ايسے شخص كو كہينگے كہ:

جب آپ كو انزال كا خدشہ ہے تو آپ كے ليے ( روزے كى حالت ميں ) بيوى سے بوس و كنار كرنا حلال نہيں " انتہى.

ديكھيں: فتاوى الصيام صفحہ نمبر ( 237 ).

اور الشرح الممتع ميں كہتے ہيں:

" اگر كسى بھى وسيلہ اور طريقہ سے سے منى نكالى جائے، چاہے مشت زنى كر كے يا زمين وغيرہ پر رگڑ كے، يا كسى اور طريقہ سے منى خارج كى جائے تو ايسا كرنے سے اس كا روزہ خراب ہو جائيگا، آئمہ اربعہ امام مالك، امام شافعى، امام ابو حنيفہ، امام احمد رحمہم اللہ سب اسى كے قائل ہيں.

ليكن ظاہرى اس كا انكار كرتے ہوئے كہتے ہيں: مشت زنى سے روزہ خراب نہيں ہوتا چاہے منى خارج بھى ہو جائے، كيونكہ اس سے روزہ ٹوٹنے كى كتاب و سنت ميں كوئى دليل نہيں، اور اللہ تعالى اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دليل ملے بغير ہم اللہ كے بندوں كى عبادت فاسد نہيں كر سكتے.

ليكن ميرے نزديك اس سے روزہ ٹوٹنے كا استدلال دو طرح سے ہو سكتا ہے، باقى علم اللہ كے پاس ہے:

پہلى وجہ: نص ہے، كيونكہ حديث قدسى ميں اللہ سبحانہ وتعالى نے روزے دار كے متعلق فرمايا ہے:

" وہ اپنا كھانا پينا اور اپنى شہوت ميرى وجہ سے ترك كرتا ہے "

اور مشت زنى كرنا، اور منى خارج كرنا دونوں ہى شہوت ہيں، منى پر شہوت كے نام كا اطلاق ہونے كى دليل يہ ہے كہ:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اور تم ميں سے ہر ايك كے عضو ميں بھى صدقہ ہے، صحابہ كرام عرض كرنے لگے: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيا ہم ميں كوئى ايك اپنى شہوت پورى كرے تو اسے اس كا بھى اجروثواب ملے گا؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

اچھا تم مجھے يہ بتاؤ كہ اگر كوئى اسے حرام ميں استعمال كرے تو كيا اس كو اس كا گناہ ہوگا ؟ تو اسى طرح حلال ميں ركھنے پر اسے اجروثواب بھى ملتا ہے "

اور جو چيز ركھى جاتى ہے وہ منى ہے.

دوسرى وجہ:

قياس ہے:

ہم يہ كہينگے كہ: سنت نبويہ ميں جان بوجھ كر قئ كرنے والے اور سنگى لگوا كر خون نكلوانے والے كا روزہ ٹوٹنے كا ذكر ملتا ہے، اور يہ دونوں ہى جسم كو كمزور كرتى ہيں.

معدہ سے كھائى ہوئى چيز نكلنے سے ظاہر ہے جسم ميں كمزورى اور نقاہت پيدا ہوتى ہے، اور منى خارج ہونے سے بھى بلا شك و شبہ جسم ڈھيلا پڑ جاتا ہے، اسى ليے غسل كرنے كا حكم ديا گيا ہے كہ بدن ميں چستى اور نشاط واپس پلٹ آئے، تو اس طرح يہ قئ اور سنگى لگوانے پر قياس ہو گا.

اس بنا پر ہم كہتے ہيں كہ: جب منى شہوت كے ساتھ خارج ہو تو يہ دليل اور قياس كى بنا پر روزہ توڑ دےگى " انتہى باختصار.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 234 - 235 ).

ان دونوں دليلوں شہوت پورى كرنے، اور بدن كمزور ہونے سے ہى شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے اس پر استدلال كيا ہے كہ: مشت زنى كرنا روزہ توڑ ديتى ہے "

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 25 / 251 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" روزے كى حالت ميں عمدا اور جان بوجھ كر مشت زنى كى جائے اور منى خارج ہو جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اگر فرضى روزہ ہو تو اسے اس روزہ كى قضاء ميں ايك روزہ ركھنا ہو گا، اور اس كے ساتھ ساتھ اللہ تعالى كے ہاں توبہ و استغفار بھى كرنا ہوگى؛ كيونكہ نہ تو روزے كى حالت ميں مشت زنى كرنا جائز ہے، اور نہ ہى روزے كے بغير، لوگ اسے سرى عادت كا نام بھى ديتے ہيں " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 15 / 267 ).

اور مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:

" رمضان المبارك يا رمضان كے علاوہ كسى بھى وقت مشت زنى كرنا حرام ہے، يہ فعل جائز نہيں، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور وہ لوگ جو اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كرتے ہيں، مگر اپنى بيويوں يا لونڈيوں سے تو بلا شبہ ( ان سے جنسى خواہش پورى كرنے ميں ) وہ ملامت زدہ نہيں، پھر جو كوئى بھى اس كے علاوہ كوئى اور راہ اختيار كرے يہى لوگ حد سے تجاوز كرنے والے ہيں ﴾المؤمنون ( 5 - 7 ).

اس بنا پر جو شخص بھى رمضان المبارك ميں روزے كى حالت ميں ايسا فعل كرے اسے اللہ تعالى كے ہاں توبہ و استغفار كرنا ہوگى، اور وہ اس روزے كى قضاء بھى ادا كرےگا جس ميں اس نے مشت زنى كا ارتكاب كيا اور اس كے ذمہ كفارہ واجب نہيں؛ كيونكہ كفارہ تو خاص كر جماع ميں واجب ہوتا ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 256 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments