جمعہ 6 ربیع الثانی 1440 - 14 دسمبر 2018
اردو

مشت زنی کا حکم اور اس کے علاج کا طریقہ

سوال

سوال: میرا ایک سوال ہے اور مجھے یہ سوال کرتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی ہے کہ ایک بہن جو حال ہی میں مسلمان ہوئی ہے وہ مجھ سے اپنے سوال کا جواب چاہتی ہے اور میرے پاس قرآن و سنت کی دلیل کے مطابق جواب نہیں ہے، مجھے امید ہے کہ آپ ہماری مدد کریں گے۔ نیز میں اللہ تعالی سے معافی بھی مانگتی ہوں کہ اگر سوال غیر مناسب ہو تو ، تاہم بطورِ مسلمان ہمیں حصولِ علم کیلیے شرمانہ نہیں چاہیے۔
اس کا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں مشت زنی جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

کتاب و سنت کے دلائل کے مطابق مشت زنی اور خود لذتی حرام ہے۔

اول: قرآن مجید سے دلائل:

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: امام شافعی  اور ان کی موافقت کرنے والے علمائے کرام نے ہاتھ سے منی خارج کرنے کے عمل کو اس آیت سے حرام قرار دیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ اور وہ لوگ جو اپنے شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں [5] ما سوائے اپنی بیویوں  کے یا لونڈیوں کے جن کے وہ مالک ہیں۔[المؤمنون: 5، 6]

امام شافعی کتاب النکاح میں لکھتے ہیں: "جب  مومنوں کی صفت یہ بیان کر دی گئی کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کہیں  استعمال نہیں کرتے، اس سے ان کے علاوہ کہیں بھی شرمگاہ کا استعمال حرام ہوگا۔۔۔ پھر اللہ تعالی نے اسی بات کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا: فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَچنانچہ جو شخص ان کے علاوہ کوئی اور راستہ تلاش کرے تو وہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ [المؤمنون: 7]  اس لیے مردانہ عضوِ خاص کو صرف بیوی اور لونڈی  میں ہی استعمال کیا جا سکتا ہے ، اس لیے مشت زنی حلال نہیں  ہے، واللہ اعلم" ماخوذ از امام شافعی کی "کتاب الام "

کچھ اہل علم نے اللہ تعالی کے اس فرمان سے بھی خود لذتی کو حرام قرار دیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِاور جو لوگ نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے تو وہ اس وقت تک عفت اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے[النور: 33] لہذا عفت اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شادی کے علاوہ ہر قسم کی جنسی تسکین سے صبر کریں۔

دوم: احادیث نبویہ سے خود لذتی کے دلائل:

علمائے کرام نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  کی روایت کو دلیل بنایا کہ جس میں ہے کہ: "ہم نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ  تھے اور ہمارے پلے کچھ نہیں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے شادی  کی ضروریات [شادی کے اخراجات اور جماع کی قوت] رکھتا ہے وہ شادی کر لے؛ کیونکہ یہ نظروں کو جھکانے والی ہے  اور شرمگاہ کو تحفظ دینے والی ہے، اور جس کے پاس استطاعت نہ ہو تو وہ روزے لازمی رکھے، یہ اس کیلیے توڑ ہے [یعنی حرام میں واقع ہونے سے رکاوٹ بن جائے گا])" بخاری: (5066)

تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی استطاعت نہ رکھنے کی صورت میں  روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی حالانکہ روزہ رکھنا مشکل کام ہے، لیکن آپ نے خود لذتی کی اجازت نہیں دی، حالانکہ خود لذتی روزے کی بہ نسبت ممکنہ آسان حل ہے اور ایسی صورت میں فوری حل بھی ہے، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی۔

اس مسئلے کے بارے میں مزید دلائل بھی ہیں لیکن ہم انہی پہ اکتفا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم

رہا یہ مسئلہ کہ جو شخص اس گناہ میں ملوث ہو  تو اس کیلیے اس بیماری سے بچنے کیلیے متعدد مشورے اور عملی اقدامات ہیں :

1- اس گناہ سے بچنے کا محرک یہ ہو کہ میں نے اللہ کے حکم کی پاسداری کرنی ہے اور اللہ کی ناراضی سے بچنا ہے۔

2- اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلیے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پہ عمل کرے اور شادی کر لے۔

3- مشت زنی اور خود لذتی کی طرف لے جانے والے خیالات اور وسوسوں سے  دور رہے، اپنے ذہن اور فکر کو دینی اور دنیاوی  مفید سر گرمیوں میں مشغول رکھے؛ کیونکہ وسوسوں میں پڑ کر انہی میں گھِرتے چلے جانے سے  وسوسوں کا انسان پر تسلط قائم ہو جاتا ہے اور پھر بیماری عادت بن جاتی ہے اور اس سے خلاصی پانا مشکل ہو جاتا ہے۔

4- نظروں کی حفاظت کریں؛ کیونکہ ہیجان انگیز تصاویر یا ویڈیوز دیکھنے  سے شہوت بھڑکتی ہے اور انسان حرام کام پر آمادہ ہو جاتا ہے، اسی لیے اللہ تعالی کا فرمان ہے:قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْآپ کہہ دیں مومنوں کو وہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں۔ [النور: 30]، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (ایک نظر کے بعد دوسری مرتبہ نظر مت دوڑاؤ) ترمذی: (2777) اور صحیح الجامع (7953)میں [البانی نے] اسے  حسن قرار دیا ہے۔ لہذا پہلی نظر وہ ہے جو اچانک پڑ جائے، تو اچانک پڑنے والی نظر میں کوئی گناہ نہیں ہے؛ لیکن دوسری نظر حرام ہے، اسی طرح ایسی جگہوں سے بھی دور رہیں جہاں پر ہیجان انگیز صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔

5- مختلف قسم کی عبادات میں مصروف عمل رہیں اور گناہ کیلیے فرصت ہی نہ چھوڑیں۔

6- مشت زنی اور خود لذتی سے جسمانی صحت پر رونما ہونے والے طبی نقصانات  کو ذہن میں اجاگر رکھیں کہ اس سے نظر کمزور ہوتی ہے، اعصاب ڈھیلے پڑتے ہیں اور عضو خاص بھی کمزور ہو جاتا ہے، اسی طرح کمر کا درد شروع ہو جاتا ہے، یا اسی طرح کے دیگر نقصانات اہل طب بیان کرتے ہیں ان سب کو ذہن نشین رکھیں۔ ایسی ہی نفسیاتی نقصانات مثلاً: ذہنی تناؤ اور ضمیر کی ملامت، ان سب نقصانات میں سے سب سے بڑھ کر یہ کہ نمازیں ضائع ہو جائیں گی کیونکہ بار بار غسل کرنا پڑے گا یا غسل کرنے کو دل نہیں چاہے خصوصا جب سردیوں کا موسم ہو، اسی طرح روزہ خراب ہو جائے گا۔

7- اپنے آپ کی دی گئی غلط تسلیوں سے دور کریں؛ کیونکہ کچھ نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ  اپنے آپ کو زنا یا لواط سے بچانے کیلیے  خود لذتی جائز ہے، حالانکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انسان زنا یا لواط کے قریب جا ہی نہ سکتا ہو۔

8- ارادی قوت اور عزم مصمم  ہر وقت ساتھ ہو، اور یہ کہ اپنے آپ کو شیطان کے سامنے ڈھیر مت کرے، تنہائی سے  بچے ، مثلاً رات کو اکیلے مت سوئے، اور ویسے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (کوئی بھی شخص اکیلے رات مت گزارے) اسے امام احمد نے روایت کیا ہے اور صحیح الجامع  (6919) میں بھی موجود ہے۔

9- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تجویز کردہ کار گر علاج اپنائے ، یعنی روزے رکھے، کیونکہ روزہ شہوانیت کو ماند کر دیتا ہے اور جنسی خواہش کو معتدل بنا دیتا ہے، تاہم غیر مناسب طریقے مت اپنائے کہ قسم اٹھا لے کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا ، یا نذر مان لے؛ کیونکہ اگر اس نے دوبارہ یہی کام کر لیا تو یہ قسم توڑنے کی بنا پہ ایمان میں کمی کا باعث ہو گا ، اسی طرح ایسی ادویات مت استعمال کرے جو شہوت کو ٹھنڈا کر دیں؛ کیونکہ ان سے طبی اور جسمانی نقصانات رونما ہو سکتے ہیں، کیونکہ صحیح احادیث میں یہ بھی  منع ہے کہ انسان ایسی چیزیں کھائے جن سے شہوت کلی طور پر ختم ہو جائے۔

10- سوتے وقت سونے کے اذکار کی پابندی کرے، دائیں کروٹ پہ سوئے اور منہ کے بل اوندھا مت لیٹے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔

11- گناہوں سے دوری اور پاکدامنی کا دامن کبھی نہ چھوٹے؛ کیونکہ حرام کاموں سے رکے رہنا  ہمارے لیے لازمی ہے؛ اگرچہ نفس چاہتا ہے کہ گناہ کرے۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ  جب نفس عفت اور پاکدامنی کا عادی ہو جائے تو پھر یہ انسان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص عفت چاہے اللہ تعالی اسے پاکدامنی عطا کر دیتا ہے اور جو اللہ تعالی سے تونگری چاہے تو اللہ تعالی اسے غنی فرما دیتا ہے اور جو صبر چاہے اللہ تعالی اسے صبر عطا کر دیتا ہے، اور کوئی شخص صبر جیسی نعمت عطا نہیں کیا گیا) بخاری مع الفتح: (9/146)

12- اگر انسان اس گناہ میں ملوث ہو بھی جائے تو فوری توبہ استغفار کر لے، نیکی کرے ، مایوسی اور اداسی کا شکار نہ ہو؛ کیونکہ یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔

13- آخر میں یہ ہے کہ اللہ تعالی سے صدق دل کے ساتھ گڑگڑا کر دعا کر کے اس قبیح عادت سے  خلاصی کا علاج ہو سکتا ہےی سب سے مؤثر علاج ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہے جب بھی وہ اللہ کو پکارتا ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الشيخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں