Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
83776

خاوند بيوى كا شہوت سے دل نہيں بھرتا اور بيوى مشت زنى كا سہارا ليتى ہے

بعض اوقات خاوند سے ميرى شہوت پورى نہيں ہوتى تو ميں جماع كے بعد مجھے مشت زنى كا سہارا لينا پڑتا ہے، اور پھر خاوند كو اس كا علم نہيں ہوتا، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ شريعت اسلاميہ ميں ايسے فعل كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

مرد اور عورت دونوں كے ليے مشت زنى حرام ہے، چاہے يہ ہاتھ كے ذريعہ ہو يا كسى اور چيز كے ذريعہ، سوال نمبر ( 329 ) كے جواب ميں آپ كو مشت زنى كى حرمت كے دلائل مل سكتے ہيں آپ اس كا مطالعہ كر ليں.

خاوند اور بيوى كو حق حاصل ہے اور ان كے جائز ہے كہ وہ ايك دوسرے سے جس طرح چاہيں لطف اندوز ہوں، ليكن شرط يہ ہے كہ حيض اور نفاس كى حالت ميں جماع سے اجتناب كيا جائے، اور اسى طرح پاخانہ والى جگہ استعمال كرنى حرام ہے، اس ليے بيوى كے ليے اپنے خاوند كے ہاتھ سے منى كا اخراج كرنا يا پھر خاوند كا اپنى بيوى كے ہاتھ سے منى خارج كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن كوئى بھى خود اپنے ہاتھ سے ايسا مت كرے.

دوم:

ليكن آپ نے سوال ميں جو بيان كيا ہے كہ آپ كا اس سے دل نہيں بھرتا، تو اس كا علاج يہ ہے كہ آپ خاوند كے ساتھ صراحت كے ساتھ بات كريں، اور آپس ميں سمجھوتہ كريں، اور اسى طرح دونوں اطراف سے اس كے ليے اپنے آپ كو تيار كيا جائے، اور اس كے ساتھ ساتھ دونوں اپنى ذمہ دارى كا احساس كريں، اور دوسرے كى سعادت و خوشى كے حصول كى رغبت ركھيں.

اور اسى طرح محبت و مودت اور نرمى كا برتاؤ پيدا كريں كيونكہ بہت سارے خاوند اپنى بيوى كے حق استمتاع و لطف اندوزى اور حاجت پورى ہونے سے غافل رہتے ہيں، اور اپنى حاجت پورى كر كے جلد فارغ ہو جاتے ہيں، حالانكہ ابھى بيوى فارغ نہيں ہوتى.

اس كا سبب يہ ہوتا ہے كہ غالب طور پر خاوند اپنى بيوى كى حالت سے جاہل ہوتا ہے، اور پھر اس ميں بيوى كا بھى ہاتھ ہے كہ وہ اپنے خاوند كے ساتھ اس سلسلہ ميں وضاحت نہيں كرتى، بلكہ اسے پورى صراحت كے ساتھ خاوند سے بات كرنى چاہيے تا كہ خاوند بھى اس كى ضرورت كا خيال ركھے.

اور اس كے ليے علاج كى كوشش كريں، اور اسى طرح اس سلسلہ ميں خصوص كتاب كا مطالعہ بھى كيا جائے، ان شاء اللہ اس كے علاج ميں يہ چيز ممد و معاون ثابت ہونگى.

اسى طرح يہ بات بھى ياد ركھيں كہ اگر عورت كو مشت زنى كرنے كى عادت پڑ جائے اور وہ اس كى عادى ہو جائے تو ويہ چيز اسے اپنے خاوند سے روك دے گى اور وہ خاوند كے پاس جانے سے لطف اندوز ہى نہيں ہوگى، اور اسے جماع و ہم بسترى كى رغبت ہى نہيں رہےگى.

يا پھر جماع اس كى رغبت و شہوت پورى كرنے كے ليے كافى نہيں ہوگا، ماہرين نے مشت زنى كے نقصانات بيان كرتے ہوئے اس چيز كو بھى شامل كيا ہے كہ عادى عورت ميں يہ چيز آ سكتى ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 23390 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

ہمارى دعا ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى سب مسلمانوں كو ايسے عمل كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جن سے اللہ راضى ہوتا ہے، اور جنہيں پسند فرماتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments