Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
90029

عقيقہ ميں كچھ بھى صدقہ نہ كرنا اور خود كھانے كا حكم

ميرا عقيقہ كے متعلق سوال يہ ہے كہ: ميرے تين بيٹے ہيں پہلے اور دوسرے بيٹے كى ولادت كے وقت مجھے علم نہيں تھا كہ بچے كى جانب سے دو بكرے ذبح كرنے ہيں، يہ علم ميں رہے كہ پہلے بيٹے كى پيدائش كے وقت اصل ميں ميرے اندر ايك بكرا بھى ذبح كرنے كى استطاعت نہ تھى، بلكہ ميرے والد صاحب نے ميرے بچے كا عقيقہ كيا تھا، تو كيا اب مجھے پہلے بيٹے كے عقيقہ ميں ايك يا دو بكرے ذبح كرنا ہونگے ؟
اور دوسرے بيٹے كے عقيقہ ميں ايك بكرا ذبح كيا تھا ليكن ميں نے خاندان والوں اور دوست و احباب كے ليے كھانا نہيں پكايا تھا، بلكہ ہم نے خود ہى سارا گوشت كھا ليا تھا، اور چار ماہ كے بعد خاندان اور جان پہچان والوں اور دوست و احباب كى دعوت كى ايك بكرا پكا كر دعوت كى تھى.
ميرا سوال يہ ہے كہ كيا دوسرے بيٹے كى جانب سے اب مجھے دو بكرے ذبح كرنے ہيں يا ايك ؟
اور تيسرے بيٹے كے عقيقہ ميں ہم نے دو بكرے ذبح كيا ليكن تقريبا ايك بكرے كا نصف ہم نے خود كھا ليا اور باقى تقسيم كر ديا تو كيا يہ عمل جائز ہے يا نہيں ؟
آپ سے گزارش ہے كہ آپ ميرے سوالات كا جواب ضرور ديں ميں اپنى اولاد كا عقيقہ سنت كے مطابق صحيح طريقہ سے كرنا چاہتا ہوں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

اول:

عقيقہ سنت مؤكدہ ہے، اور ترك كرنے والے گناہ نہيں، كيونكہ سنن ابو داود ميں عمرو بن شعيب عن ابيہ عن جدہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كا بچہ پيدا ہو اور وہ اس كى جانب سے جانور ذبح كرنا پسند كرے تو ذبح كرے، بچے كى جانب سے دو كفائت كرنے والے بكرے، اور بچى كى جانب سے ايك بكرا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2842 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح ابو داود ميں حسن قرار ديا ہے.

دوم:

عاجز يا عقيقہ سے جاہل ہونے كى بنا پر جو شخص اپنى اولاد كا عقيقہ نہ كر سكے تو اس كے ليے بعد ميں عقيقہ كرنا مستحب ہے چاہے كتنى بھى لمبى مدت گزر جائے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

سوال:

ايك شخص كے كئى بيٹے ہيں اس نے كسى كا بھى عقيقہ نہيں كيا، كيونكہ وہ فقر و تنگ دست تھا، اور كئى برس بعد اللہ سبحانہ و تعالى نے اسے مالدار اور غنى كر ديا تو كيا اس كے ذمہ عقيقہ ہے ؟

جوا:

اگر تو واقعتا ايسا ہى ہے جيسا بيان ہوا ہے تو اس كے ليے ہر بيٹے كى جانب سے دو بكرے عقيقہ كرنا مشروع ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 441 ).

سوم:

دادا اپنے پوتوں كى جانب سے عقيقہ كر سكتا ہے جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے نواسوں حسن اور حسين رضى اللہ تعالى عنہما كى جانب سے عقيقہ كيا تھا.

ديكھيں: سنن ابو داود حديث نمبر ( 2841 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 4219 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 2466 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اس بنا پر اگر آپ سنت پر مكمل عمل كرنا چاہتے ہيں تو آپنے پہلے بيٹے كى جانب سے ايك بكرا ذبح كريں تا كہ دادے كى جانب سے ايك عقيقہ كو پورا كيا جا سكے، اور اگر آپ اسى پر اكتفا كرنا چاہيں تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

چہارم:

بعض فقھاء كہتے ہيں كہ:

عقيقہ بھى احكام و مصرف ميں قربانى كى طرح ہے، اس ليے اسے تين حصوں ميں تقسيم كرنا مستحب ہے، ايك حصہ اپنے ليے اور ايك دوست و احباب كے ليے، اور ايك فقراء كے ليے.

اور بعض كہتے ہيں كہ: عقيقہ قربانى كى طرح نہيں تو جس طرح وہ چاہے كر سكتا ہے، آپ سوال نمبر ( 8423 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

بہر حال اگر عقيقہ كے گوشت ميں سے كچھ بھى دوسروں كا نہ ديا جائے تو بھى كفائت كر جائيگا، ليكن قربانى كے متعلق يہ ہے كہ اگر كوئى شخص قربانى كا سارا گوشت خود ہى كھا جائے اور اس ميں سے كچھ بھى صدقہ نہ كرے تو وہ ضامن ہے، اور ايك اوقيہ گوشت خريد كر اسے صدقہ كرے "

ديكھيں: كشاف القناع ( 3 / 23 ).

اس بنا پر دوسرے بيٹے كا عقيقہ پورا ہو چكا ہے، اور اسى طرح تيسرے بيٹے كا بھى الحمد للہ عقيقہ ہو گيا.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كى اولاد ميں بركت پيدا كرے اور انہيں اطاعت و فرمانبردارى ميں آپ كا معاون بنائے اور اسلام و مسلمانوں كے ليے ذخيرہ بنائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments