9348: انشورنس كے ذريعہ لين دين كرنے والى كمپنى ميں ملازمت


ميں ايك كارگو كمپنى ميں ملازم ہوں جو دنيا كے ہر كونے ميں سامان كارگو كرتى ہے، مجھے ملازمين كے نگران نے بتايا كہ ميرے ليے سامان كارگو كرنے والے شخص يہ بتانا ضرورى ہے كہ كارگو كى قيمت ميں 3.5 % فيصد انشورنس جمع كروانا ممكن ہے جس سے كارگو كيا گيا سامان محفوظ رہے گا، اگر تو گاہك اس سے اتفاق كرے تو مجھے صرف ايك بٹن دبانا ہو گا، اور اس طرح يہ معاملہ چند سيكنڈ ميں پايہ تكميل تك پہنچ جاتا ہے، تو كيا انشورنس كى بنا پر ميرى ملازمت حرام ہو جاتى ہے؟ اور كيا يہ سود ہے؟ اور كيا ميں اللہ تعالى كى لعنت كا مستحق ٹھرتا ہوں ؟

الحمد للہ :

اول:

جب كارگو كيا گيا سامان شرعى طور پر جائز ہو اور حرام اشياء ميں سے نہ ہو مثلا: يہ كہ شراب يا خنزير كا گوشت، يا كھانے پينے والے حرام مواد ميں سے يا حرام لباس وغيرہ نہ ہو تو پھر كارگو كا كام كرنا جائز ہے.

دوم:

تجارتى انشورنس جس كا انشورنس كمپنياں لين دين كرتى ہيں وہ حرام ہے، اور اس كى حرمت ميں يہ ہے كہ يہ انشورنس سود اور جوئے پر مشتمل ہے، اور يہ دونوں ہى قرآن وسنت اور مسلمانوں كے اجماع سے حرام ہيں.

اس كى مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 8889 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے:

زندگى اور ممتلكات كى انشورنس شرعا حرام اور ناجائز ہے، اس ليے كہ اس ميں دھوكہ و فراڈ اور سود پايا جاتا ہے، اور اللہ عزوجل نے ان معاملات كى وجہ سے ہونے والے نقصان كى حفاظت كے ليے ہر قسم كے سودى معاملات اور دھوكہ وفراڈ پر مبنى معاملات كو حرام قرار ديا ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{اور اللہ تعالى نے خريد وفروخت كو حلال كيا اور سود كو حرام كيا ہے}

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح ثابت ہے كہ انہوں نے دھوكہ والى خريد و فروخت سے منع فرمايا ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے. اھـ

ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 5 ).

سوم:

اللہ سبحانہ وتعالى نے سود كو بہت عظيم گناہ قرار ديا اور اس پر بہت سخت وعيد بيان كرتے ہوئے فرمايا ہے:

{اے ايمان والو! اللہ تعالى كا ڈر اختيار كرو اور جو سود باقى بچا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم پكے اور سچے مومن ہو، اور اگر تم ايسا نہيں كرو گے تو پھر اللہ تعالى اور اس كے رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى طرف سے اعلان جنگ ہے }البقرۃ ( 278 - 279 )

اور امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود خور اور سود كھلانے والے اور اسے لكھنے والےاور اس كے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائى اور فرمايا: وہ سب برابر ہيں" صحيح مسلم حديث نمبر ( 1598 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى اس كى شرح ميں كہتے ہيں:

اس ميں سودى معاملات كرنے والوں كى سودى بيع كو لكھنے اور اس كى گواہى دينے كى تصريح ہے، اور اس ميں يہ بھى ہے كہ: باطل كى اعانت اور مدد كرنا بھى حرام ہے. اھـ

انشورنس كے معاملہ كى تكميل كے ليے آپ كا بٹن دبانا بھى لكھنے كے مترادف اور اس كى جگہ پر ہے، اور سابقہ حديث ميں شامل ہوتا ہے.

چہارم:

كسى بھى مسلمان شخص كے ليے ايسى كمپنى اور ادارے ميں ملازمت كرنى جائز نہيں جس ميں كسى بھى طرح سے سودى اور حرام معاملات كا لين دين ہوتا ہو، اور يہ حرمت صرف سود لكھنے اور اس كى گواہى دينے والے كے ساتھ ہى خاص نہيں بلكہ كمپنى ميں كام كرنے والے سب ملازمين شامل ہوتے ہيں حتى كہ گيٹ كيپر اور صفائى كرنے والا بھى، كيونكہ اس ميں كمپنى كے حرام كاموں ميں كمپنى كى معاونت ہے.

اور اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{اور تم نيكى اور بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كيا كرو، اور برائى اور گناہ اور ظلم و زيادتى كے كاموں ميں تعاون نہ كيا كرو} المائدۃ ( 2 ).

پنجم:

مسلمان شخص كو حلال كام كرنے كى حرص ركھنى چاہيے، كيونكہ حرام خورى دعاء كى عدم قبوليت كا باعث بنتى ہے اور اس كى عدم قبوليت كے اسباب ميں سے ايك سبب ہے، اور جہنم ميں داخل ہونے كے اسباب ميں سے بھى ايك سبب حرام خورى ہے، لہذا جو جسم بھى حرام پر پلا اس كے ليے آگ زيادہ بہتر اور اولى ہے.

اور جب كوئى مسلمان اللہ تعالى كى اطاعت اور فرمانبردارى كرتے ہوئے حرام كو ترك كرتا ہے تو اللہ تعالى اسے اس كے بدلے ميں اس سے بھى افضل اور اچھى چيز عطا فرمائے گا، اس ليے كہ جس نے بھى كسى چيز كو اللہ تعالى كى ليے ترك كيا اللہ تعالى اسے اس كےعوض ميں اس سے بہتر عطا فرماتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments