93635: مسلمان لڑكى كا كيتھولك عيسائى سے شادى كرنا اور اولاد كا كفار كى طرف منسوب ہونا


ميں يہ معلوم كرنا چاہتى ہوں كہ ايسا شخص جو ابھى نيا مسلمان ہوا ہو اور اس كا خاندان كيتھولك عيسائى ہو شادى كر لے تو كيا ہو گا.
اور شادى كے بعد بچے اپنے آخرى باپ كا نام اپنے ساتھ لگا سكتے ہيں يا نہيں حالانكہ وہ غير مسلم ہے، برائے مہربانى مجھے كوئى نصيحت كريں .؟

الحمد للہ:

دين اسلام نے مسلمان عورت كے ليے مسلمان شخص كے علاوہ كسى اور سے شادى كرنا حرام قرار ديا ہے، اور يہ معاملہ متفق عليہ ہے علماء كرام ميں اس كے بارہ ميں كوئى اختلاف نہيں.

امام قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" امت كا اس پر اجماع ہے كہ كسى بھى حالت ميں مشرك شخص مومن عورت سے وطئ نہيں كر سكتا، كيونكہ اس ميں اسلام كى توہين ہے "

ديكھيں: تفسير القرطبى ( 3 / 72 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 69752 ) اور ( 6402 ) اور ( 22468 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

مسلمان عورت كے ليے ايسے مسلمان شخص كے ساتھ شادى كرنا جائز ہے جسے اللہ نے ہدايت دى اور وہ كفر كو ترك كر كے مسلمان ہو گيا، اور يہ كوئى اہم نہيں كہ اس كا خاندان اور فيملى كيتھولك ہو يا كوئى كفريہ مذہب ركھتا ہو، اس كى كوئى اہميت نہيں كہ اس كا اسلام قديم ہو يعنى وہ بہت عرصہ قبل مسلمان ہو چكا ہو، يا پھر وہ كچھ عرصہ قبل اسلام قبول كرنے والا ہو.

ليكن اہم چيز تو يہ ہے كہ اس كا اسلام حقيقى ہو نہ كہ صورى جو صرف ايك مسلمان عورت سے شادى كرنے كے ليے قبول كيا جائے؛ وہ اس طرح كہ وہ اپنا اسلام قبول كرنے كو اطمنان اور راضى و خوشى اسلام قبول كرنا ظاہر كرے، ليكن حالت اس كے برعكس اور خلاف ہو، اگر اس حالت پر معلوم ہو جائے تو پھر اس جيسے شخص پر اسلام كے احكام لاگو نہيں ہونگے.

شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" آپ كے ليے " لا الہ الا اللہ " كلمہ كو سمجھنا ضرورى ہے يہ كلام سب سے افضل ہے، اور دين كى اصل يہى كلمہ ہے، اور ملت كى اساس بھى يہى كلمہ لا الہ الا اللہ ہے، اور يہى وہ كلمہ ہے جس كى سب انبياء نے اپنى اقوام كو دعوت دى تھى، سب انبياء نے اپنى قوموں كو اسى كلمہ كى دعوت كى ابتدا ديتے ہوئے كہا تھا كہ وہ اس كے بغير كامياب نہيں ہو سكتے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھى مبعوث كيا اس كى جانب ہم نے يہى وحى كى كہ ميرے علاوہ كوئى اور معبود برحق نہيں تم ميرى ہى عبادت كرو }الانبياء ( 25 ).

اور ہر رسول نے اپنى قوم كو يہى كہا كہ:

{ اللہ كى عبادت كرو، تمہارے ليے اس كے علاوہ كوئى اور معبود و الہ نہيں ہے }.

يہ كلمہ دين و ملت كى اساس و بنياد ہے، يہ كلمہ كہنے والے كے ليے اس كے معانى كو جاننا ضرورى ہے، اس كا معنى يہ ہے كہ اللہ عزوجل كے علاوہ كوئى اور معبود حق نہيں، اور اس كلمہ كى كچھ شروط ہيں:

اس كے معانى كا علم ہو، اور اس پر يقين ہو كہ صحيح ہے اور كسى بھى قسم كا شك و شبہ نہ، اور يہ كلمہ خالصتا اللہ وحدہ كے ليے ادا كيا جائے، اور دل و زبان كى صدق و سچائى كے ساتھ كہا جائے، اور يہ كلمہ جس اخلاص پر دلالت كرتا ہے اس سے محبت بھى ہو، اور اسے قبول كيا جائے، اور اس كے سامنے سرخم تسليم بھى ہو، اور اللہ كى توحيد كا اقرار ہو، اور شرك اور غير اللہ كى عبادت سے برات اور اسے چھوڑا جائے، اور اس كے باطل ہونے كا عقيدہ ركھا جائے.

يہ سب لا الہ الا اللہ كى شروط ہيں، اور اس كا معنى يہى صحيح ہے كہ مومن مرد اور مومن عورت غير اللہ كى عبادت سے برات كا اظہار كرے، اور حق كے سامنے سر تسليم خم اور اس كى اطاعت كرے، اور اسے قبول كرتا ہوا اللہ سے محبت ركھے اور اس كى توحيد كو مانے، اور اس كے ليے اخلاص ہو، اور اس كلمہ كے معانى ميں كوئى شك و شبہ نہ ہو.

كيونكہ بعض لوگ يہ كلمہ تو پڑھتے ہيں ليكن وہ اس پر ايمان نہيں ركھتے بالكل منافقين كى طرح جس طرح انہيں شك تھا يہ بھى شك كا شكار ہيں، يا پھر تكذيب كرتے ہيں.

اس ليے علم و يقين اور صدق و سچائى ، اخلاص و محبت، اور اطاعت و قبول اور براءت شرط ہے.

ديكھيں: فتاوى الشيخ ابن باز ( 3 / 49 - 50 ).

كلمہ كى شروط اور اس كے دلائل كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 9104 ) اور ( 12295 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

مسلمان عورت كا كسى مسلمان شخص سے شادى كرنے كے بعد اس كى اولاد اپنے باپ كى طرف منسوب ہو گى،اس كے علاوہ كسى اور كى طرف منسوب ہونا جائز نہيں، حتى كہ اگر اس كے گھر والے كافر بھى ہوں تو اس نسب كى بنا پر اس كے نتيجہ ميں بہت سارے احكام ثابت ہوتے مثلا: صلہ رحمى وراثت اور حرمت يا شادى كى اباحت وغيرہ.

اس ليے كسى مسلمان بيٹے كا اپنے باپ اور اس كے خاندان كے علاوہ كسى اور كى طرف منسوب ہونا جائز نہيں، اس سلسلہ ميں سنت نبويہ ميں بہت شديد قسم كى وعيد آئى ہے، اور اس واقع كے مخالف كو كبيرہ گناہ كا مرتكب ٹھرايا گيا ہے.

سعد بن ابى وقاص اور ابو بكرہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى اسلام ميں اپنے باپ كے علاوہ كسى اور كے باپ ہونے كا دعوى كيا اور وہ جانتا ہو كہ وہ شخص اس كا باپ نہيں ہے تو اس پر جنت حرام ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4072 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 63 ).

اور ابو ذر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو شخص بھى جان بوجھ كر باپ كے علاوہ كسى اور كى طرف منسوب ہو تو اس نے كفر كيا، اور جس نے بھى كسى قوم ميں سے ہونے كا دعوى كيا اور وہ ان ميں سے نہيں تو وہ اپنا ٹھكانہ جہنم ميں بنائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3317 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 61 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" حديث ميں معروف نسب سے نفى كرنے اور كسى اور كى طرف منسوب ہونے كى نفى كى گئى ہے.

ديكھيں: فتح البارى ( 10 / 308 ).

انبياء اور صحابہ كرام اور تابعين اور اہل علم ميں سے كسى سے يہ معروف نہيں كہ انہوں نے اپنے اباء و اجداد اور والدين كے كافر ہونے كى بنا پر كسى اور كى طرف نسبت كى ہو! بلكہ كوئى عقل و دانش والا شخص ايسا كر ہى نہيں سكتا؛ كيونكہ اس كے نتيجہ ميں بہت سارى خرابياں پيدا ہوتى ہيں.

اور اگر كوئى شخص شخصيات كى سيرت اور ان كے تراجم والى كتب پر غور و فكر كرے تو وہ ان شخصيات كے آباء وا جداد كے عجمى نام ديكھےگا جو كہ بہت سارے مسلمان علماء كے والدين تھے؛ كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اولاد پر مسلمان ہونے كا انعام كيا، ليكن ان كے باقى خاندان اور گھر والے كافر ہى رہے اور ان علماء كرام كا نسب نامہ وہى رہا اور عجمى اور عجيب و غريب نام ہونے كے باوجود ان كا نسب نامہ تبديل نہ ہو، حالانكہ ان كا دين بھى كفر والا تھا.

اور جب شريعت مطہرہ نے منہ بولا بيٹا حرام كر ديا تو پھر اس منہ بولے بيٹے كو بھى اپنے باپ كے علاوہ كسى اور كى طرح اور كسى دوسرے قبيلہ اور قوم كى طرف منسوب كرنا حرام كر ديا گيا.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

} انہيں ان كے باپوں كے نام سے پكارو، يہ اللہ كے ہاں زيادہ انصاف والى بات ہے {الاحزاب ( 5 ).

اور باپ كا علم نہ ہونے كى صورت ميں يعنى اگر بچہ گمشدہ ہو تو اسے كسى معين شخص كى طرف منسوب نہيں كيا جائيگا، بلكہ اسے بھائى اور غلام كے ساتھ پكارا جائيگا.

جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے مندرجہ بالا آيت كے آخر ميں فرمايا ہے:

اگر تمہيں ان كے باپوں كا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دينى بھائى اور غلام ہيں .

اور كفار كى تقليد ميں كچھ مسلمانوں ميں جو خرابياں پائى جاتى ہيں ان ميں يہ بھى كہ بعض مسلمان اپنى بيوى كو خاوند كى طرف منسوب كرتے ہيں يعنى بيوى كے ساتھ خاوند كا نام ذكر كيا جاتا ہے، يہ حرام اور برائى ہے، بلكہ بيوى كو اس كے باپ كى طرف منسوب كرنا واجب ہے.

بيوى كا اپنے باپ كى بجائے كسى اور طرف منسوب ہونے كے حكم كو ہم سوال نمبر ( 2537 ) اور ( 1942 ) اور ( 4362 ) اور ( 6241 ) كے جوابات ميں بيان كر چكے ہيں آپ اس كا مطالعہ كريں.

خلاصہ:

مسلمان عورت كے ليے اس مسلمان شخص سے شادى كرنا جائز ہے جس نے نيا نيا اسلام قبول كيا ہو، ليكن شرط يہ ہے كہ اس كا قبول اسلام صدق دل اور يقن كے ساتھ ہو، اور اس كى كوئى اہميت نہيں كہ اس كا خاندان ابھى كفر پر بھى ہو، اور يہ واجب ہے كہ اس كى اولاد مسلمان والد كى طرف منسوب ہو گى چاہے اس كے آباء و اجداد كافر ہى ہوں، اس كے علاوہ كچھ جائز نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments