96462: كيا قربانى كرے يا اپنا عقيقہ كيونكہ والد نے عقيقہ نہيں كيا تھا


انتاليس برس كى عورت قربانى كرنا چاہتى ہے، اسے كہا گيا كہ پہلے اپنا عقيقہ كرو كيونكہ والد نے اس كا عقيقہ نہيں كيا اور اس كے خاوند نے بھى اپنى اولاد كا عقيقہ نہيں كيا، اس كى ايك بيٹى اور ايك بيٹا ہے، كيا وہ اپنا اور اپنى اولاد كا عقيقہ كرے يا كہ والد ان كا عقيقہ كريگا، يہ علم ميں رہے كہ بيٹا سولہ اور بيٹى پندرہ برس كى ہو چكى ہے، اور كيا عقيقہ واجب ہے، يا بچہ بالغ ہو جائے تو ساقط ہو جاتا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

راجح قول كے مطابق عقيقہ سنت مؤكدہ ہے، اس كا بيان سوال نمبر ( 20018 ) كے جواب ميں ہو چكا ہے، اور اس سے مخاطب والد ہے، اس ليے نہ تو ماں اور نہ ہى بچوں سے اس كا مطالبہ ہوگا.

اور بچہ بالغ ہو جانے كى صورت ميں عقيقہ ساقط نہيں ہو گا، اگر والد استطاعت ركھتا ہو تو جن بچوں كا عقيقہ نہيں كيا ان كا عقيقہ كرنا مستحب ہے.

اور اگر والد نے بچے كا عقيقہ نہيں كيا تو بچے يا كسى اور كے ليے اپنا عقيقہ كرنا مشروع ہے ؟

جواب:

فقھاء كرام كے ہاں اس ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ظاہر يہى ہوتا ہے كہ يہ مشروع اور مستحب ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر اس كا عقيقہ بالكل كيا ہى نہ گيا ہو اور بچہ بالغ ہو جائے اور كمائى كرنے لگے، تو اس پر عقيقہ نہيں، امام احمد رحمہ اللہ سے اس مسئلہ كے متعلق دريافت كيا گيا تو انہوں نے فرمايا: يہ والد كے ذمہ ہے، يعنى وہ اپنا عقيقہ خود نہ كرے؛ كيونكہ اس كے علاوہ دوسرے كے حق ميں سنت ہے.

اور عطاء اور حسن كا قول ہے: وہ اپنا عقيقہ خود كر لے؛ كيونكہ اس كى جانب سے مشروع ہے، اور اس ليے بھى كہ وہ عقيقہ كے بدلے رہن اور گروى ركھا ہوا ہے، اس ليے اس كے ليے اپنے آپ كو آزاد كرانا مشروع ہوا.

اور ہمارا قول يہ ہے كہ: يہ والد كے حق ميں مشروع ہے، اس ليے كوئى اور عقيقہ نہ كرے، مثلا اجنبى اور صدقہ فطر يعنى فطرانہ كى طرح " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 9 / 364 ).

اور ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" الفصل التاسع عشر:

جس كا عقيقہ نہ ہوا ہو تو كيا بلوغت كے بعد وہ اپنا عقيقہ خود كريگا ؟

خلال رحمہ اللہ كہتے ہيں:

جس كا بچپن ميں عقيقہ نہ ہوا تو بڑا ہو كر اپنا عقيقہ خود كرنے كا استحباب:

پھر انہوں نے اسماعيل بن سعيد الشالنجى كے مسائل ميں سے ذكر كيا وہ كہتے ہيں ميں نے احمد سے ايسے شخص كے متعلق دريافت كيا جس كے والد نے اسے بتايا كہ اس كا عقيقہ نہيں كيا گيا تو كيا وہ اپنا عقيقہ خود كر لے ؟

ان كا جواب تھا: يہ والد كے ذمہ ہے.

اور الميمونى كے مسائل ميں سے ہے: وہ كہتے ہيں:

ميں نے ابو عبد اللہ سے كہا: اگر اس كا عقيقہ نہ ہوا ہو تو كيا بڑى عمر ميں اس كا عقيقہ كيا جا سكتا ہے ؟

تو انہوں نے كچھ بيان كيا كہ بڑے كى جانب سے ضعف بيان كيا جاتا ہے، اور ميں نے ديكھا كہ وہ اسے بہتر قرار ديتے تھے كہ اگر بچپن ميں اس كا عقيقہ نہ ہوا ہو تو بڑى عمر ميں عقيقہ كيا جائے.

اور ان كا كہنا ہے: اگر كوئى انسان ايسا كرے تو ميں اسے ناپسند نہيں كرتا.

وہ كہتے ہيں: مجھے عبد الملك نے ايك دوسرى جگہ بتايا كہ انہوں نے ابو عبد اللہ سے كہا: تو كيا بڑى عمر ميں اس كا عقيقہ كيا جائے گا؟

تو ان كا جواب تھا: مجھے پتہ نہيں، اور ميں نے بڑے كے متعلق كچھ نہيں سنا، پھر مجھے كہنے لگے: اور جو ايسا كرے تو يہ بہتر ہے، اور كچھ لوگ اسے واجب قرار ديتے ہيں " انتہى.

ديكھيں: تحفۃ المودود فى احكام المولود فصل التاسع عشر.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ يہ كلام نقل كرنے كے بعد كہتے ہيں:

پہلا قول اظہر ہے، وہ يہ كہ اپنا عقيقہ خود كرنا مستحب ہے؛ كيونكہ سنت مؤكدہ ہے، اور اس كے والد نے اس كا عقيقہ نہيں كيا تو جب بھى وہ استطاعت ركھے اپنا عقيقہ كرنا مشروع ہے؛ كيونكہ عمومى احاديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہر بچہ اپنے عقيقہ كے ساتھ گروى اور رہن ہے، اس كى جانب سے ساتويں روز عقيقہ كيا جائے اور سر مونڈا جائے اور نام ركھا جائے "

اسے امام احمد اور اصحاب سنن نے سمرہ بن جندب رضى اللہ تعالى عنہ سے صحيح سند كے ساتھ روايت كيا ہے.

اور ام كرز كعبيہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بچے كى جانب سے دو بكرے اور بچى كى جانب سے ايك بكرا ذبح كرنے كا حكم ديا "

اسے پانچوں نے روايت كيا ہے، اور ترمذى رحمہ اللہ نے اسى طرح عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے.

اس حديث ميں والد كو خطاب نہيں كيا گيا تو يہ ماں اور بيٹے اور اقربا وغيرہ سب كو عام ہے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 26 / 266 ).

اس بنا پر سوال كرنے والى بہن كو اس كے متعلق كہا جاتا ہے كہ:

آپ اپنا عقيقہ خود كر سكتى ہيں، يا اگر آپ كى اولاد كا ان كے والد نے عقيقہ نہيں كيا تو ان كا عقيقہ بھى آپ كر سكتى ہيں.

دوم:

قربانى سنت مؤكدہ ہے، يہ مرد اور عورت سب كے ليے مشروع ہے، اور آدمى اور اس كے گھر والوں سے ايك قربانى كفائت كر جاتى ہے، اور اسىطرح عورت اور اس كے گھر والوں كى طرف سے بھى.

تو اس عورت كو قربانى كرنے كا حق حاصل ہے، چاہے اس كا خاوند قربانى كرے يا نہ كرے.

اور اگر وہ عورت قربانى كرے تو يہ اس كے عقيقہ سے كفائت كر جائيگى.

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" الفصل الثامن عشر: عقيقہ اور قربانى جمع كرنے كا حكم:

خلال رحمہ اللہ كہتے ہيں: عقيقہ قربانى سے كفائت كر جاتا ہے كا مروى قول كے متعلق باب:

ہميں عبد الملك الميمونى نے بتايا كہ انہوں نے ابو عبد اللہ ( يعنى امام احمد ) كو كہا: كيا عقيقہ كى جگہ بچے كى جانب سے قربانى كرنى جائز ہے ؟

تو ان كا جواب تھا:

مجھے معلوم نہيں، پھر كہنے لگے: كئى ايك اس كا كہتے ہيں.

ميں نے دريافت كيا: كيا تابعين ميں سے ؟

تو انہوں نے جواب ديا: جى ہاں.

اور مجھے عبد الملك نے ايك اور جگہ بتايا: ابو عبد اللہ نے ذكر كيا كہ بعض كا قول ہے: اگر وہ قربانى كرے تو يہ عقيقہ سے كفائت كر جائيگا.

اور ہميں عصمۃ بن عصام نے بيان كيا انہوں نے بتايا كہ ہميں حنبل نے حديث بيان كى كہ ابو عبد اللہ نے كہا:

مجھے اميد ہے كہ جس كا عقيقہ نہ ہوا ہو اس كى قربانى عقيقہ سے كفائت كر جائيگى.

اور مجھے عصمۃ بن عصام نے ايك اور جگہ بتايا وہ كہتے ہيں مجھے حنبل نے بيان كيا كہ ابو عبد اللہ نے كہا:

اگر اس كى جانب سے قربانى كى جائى تو عقيقہ سے قربانى كفائت كر جائيگى.

وہ كہتے ہيں: ميں نے ابو عبد اللہ كو قربانى خريد كر اپنى اور اپنے اہل و عيال كى جانب سے ذبح كرتے ہوئے ديكھا، اور ان كا بيٹا عبد اللہ چھوٹا تھا، اسے ذبح كيا، ميرے خيال ميں يہ انہوں نے يہ عقيقہ اور قربانى دونوں كا ارادہ كيا، اور ان كا گوشت تقسيم بھى كيا اور خود بھى كھايا "

انتہى.

ماخوذ از: تحفۃ الودود.

مزيد آپ سوال نمبر ( 38197 ) اور ( 20018 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments