Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
99176

شدا نامى چينل كا كارڈ خريدنے كا حكم

المجد چينل كے كارڈ كے ضمن ميں شدا نامى چينل بھى ديكھا جا سكتا ہے، اس كے متعلق آپ كى رائے كيا ہے، كارڈ ماہانہ شراكت كى بنا پر ملتا ہے، اور يہ چينل اسلامى اشعار و ترانوں پر مشتمل ہے، ميں اس كى خريدارى كرنا چاہتا ہوں، يہ علم ميں رہے كہ ميں نے ا سكا مشاہدہ نہيں كيا، ليكن سنا ہے كہ لوگ اسے حرام كہتے ہيں، اور ميرے گھر والے مجھے اس ميں شراكت پر مجبور كر رہے ہيں، وہ نظميں اور ترانے سننا پسند كرتے ہيں، اس چينل كے متعلق ميں آپ كى رائے معلوم كرنا چاہتا ہوں، آيا يہ حلال ہے يا حرام ؟

الحمد للہ:

اول:

پہلى بات تو يہ ہے كہ شدا نامى چينل المجد كارڈ كے ضمن ميں نہيں ہے، بلكہ المجد چينل اس كے ذريعہ ماركيٹنگ كرتا ہے.

دوم:

ترانے يا نظميں اور اشعار تو سر لگا كر پڑھى گئى كلام ہے، جب يہ اشعار اور نظميں اور ترانے، اور اسے پڑھنے اور سر لگانے كا لہجہ و طريقہ معلوم ہو جائے تو ان كا حكم بھى معلوم ہو جاتا ہے، آيا اس ميں گانے بجانے كے آلات تو استعمال نہيں كيے گئے ؟

اور معتبر قسم كے علماء و مشائخ كى كلام پر غور و فكر كرنے كے بعد اشعار و نظميں اورترانے كے جواز كے ليے شرعى اصول و ضوابط اور شروط جمع كرنا ممكن ہيں، كہ ان شروط اور اصول و ضوابط كے ساتھ جائز ہونگے:

1 - مخرب الاخلاق اور حرام كلام سے اشعار خالى ہوں.

2 - ان اشعار و اور ترانوں ميں آلات موسيقى استعمال نہ كيے گئے ہوں، اور دف بھى مخصوص حالات ميں صرف عورتوں كے ليے بجانى جائز ہے.

3 - ان آوازوں سے خالى ہوں جو موسيقى كے آلات كى آواز كے مشابہ ہيں.

4 - اشعار ( نظميں اور ترانے ) سننے والے كے ليے عادت نہ ہوں، اور وہ اپنا وقت اسى پر ضائع نہ كرتا پھرے، اور اسے دوسرى مستحب اور واجب اشياء پر فوقيت نہ دے، مثلا قرآن مجيد كى تلاوت اور دعوت الى اللہ.

5 - اشعار پڑھنے والى عورت نہ ہو كہ و ہ مردوں كے سامنے اشعار پڑھے، اور نہ ہى نظميں اور ترانے پڑھنے والا مرد عورتوں كے سامنے اشعار پڑھے.

6 - رقيق اور باريك آواز سننے سے اجتناب كيا جائے، اور اس آواز كو بھى جو لہك لہك كر اور اپنے جسم كو گھما اور لہكا كر پڑھى گئى ہو اسے بھى نہ سنا جائے، كيونكہ اس ميں فتنہ اور فاسق قسم كے افراد كے مشابہت ہے.

7 - كيسٹوں پر موجود تصاوير سے اجتناب كيا جائے، اور اس سے بہتر يہ ہے كہ ويڈيو ميں ترانے اور اشعار سے اجتناب كيا جائے، اور خاص كر جب گانے والے كى كچھ حركات و سكنات شہوت انگيزى كا باعث بنتى ہو، اور فاسق گانے والوں كى مشابہت ہوتى ہو.

8 - اشعار پڑھنے كا مقصد صرف كلمات ہوں، نہ كہ لحن و طرب و گانا اور جھومنا.

ان اصول و ضوابط اور شروط اور علماء كرام كى كلام سوال نمبر ( 91142 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے.

ہميں افسوس كے ساتھ يہ كہنا پڑ رہا ہے كہ شدا چينل ان ميں سے اكثر شروط اور ضوابط كا خيال نہيں ركھتا، حتى كہ وہ وقت پورا كرنے كے ليے ہر قسم كے اشعار اور نظميں و ترانے پيش كرنے لگا ہے، چاہے اس ميں شرعى مخالفت ہى كيوں نہ ہوتى ہو، انہوں نے اشعار و ترانے پڑھنے كے ليے لڑكوں كا ايك گروپ جو ايك جيسا لباس پہن كر مختلف قسم كى آوازوں پر زمين كے ساتھ پاؤں مار كر ايك مخصوص قسم كا رقص كرتے ہيں، اور يہ آوازيں موسيقى كى غرض پورى كرتى ہيں، اور ان ميں سے بعض اشعار تو شادى بياہ كے موقع پر ريكارڈ كيے گئے ہيں، اس گروپ كے كچھ افراد كو لوگوں كے سامنے سگرٹ نوشى كرتے ديكھا گيا ہے، اور پھر اس كے متعلق كہا جاتا ہے كہ يہ اسلامى ترانے اور نظميں ہيں!

اور ان اشعار اور ترانوں ميں سے كچھ تو بعض تقريبات اور مہرجانات سے نقل كيے گئے ہيں، جس ميں ہميں تاليوں اور سيٹيوں كى آواز سنائى ديتى ہے جو اشعار پڑھنے والے كو داد دينے،اور ا سكا شكريہ ادا كرنے كے ليے بجائى گئى ہيں! اور ان ميں سے بعض تو بالكل داڑھى منڈے ہيں، اور بعض نے اسے بالكل آخرى حد تك كاٹ ركھا ہے، يا پھر ان كا لباس ٹخنوں سے بھى نيچے ہے، اس كے بارہ ميں آپ جتنا چاہيں بيان كريں وہ كم ہے.

ان اشعار اور ترانوں ميں اور بھى بہت خطرناك چيز يہ ہے كہ: عورتيں ان اشعار اور نظميں اور ترانے پڑھنے والوں سے فتنہ ميں پڑ چكى ہيں آپ ديكھتے ہيں كہ اس گروپ ميں كوئى ايك بہت ہى خوبصورت اور قيمتى جبہ پہن كر نكلتا ہے، اور بعض نے ميك اپ كر ركھا ہوتا ہے! اور فاسق و فاجر گانا گانے والوں كى مشابہت ميں وہ كيسٹوں پر اپنى تصاوير اور موبائل نمبر بھى دينے لگے ہيں! كچھ عورتوں كا ان اشعار پڑھنے والوں سے فتنہ ميں پڑنا فى الواقع امر ہے جس كا انكار كرنا ناممكن ہے، اس ليے گھر كے ذمہ دار اور نگران شخص كو اس طرح كے خطرناك معاملہ سے ذرا بچ كر رہنا چاہيے، كہ اس كے گھر والے بھى كہيں اس ميں نہ گر جائيں.

اس چينل كے كچھ ذمہ داران نے تو اس ميں شراكت كو شرعى كرنے كى بھى كوشش اس طرح كہ شيخ عبدالعزيز الفوزان سے تزكيہ لينے كى كوشش كى، ليكن جب شيخ كو اس چينل كى حالت اور واقع كا علم ہوا كہ يہ المجد چينل كے ضمن ميں نہيں، بلكہ يہ تو صرف اشعار و نظميں اورترانوں كے ليے مخصوص ہے ـ حالانكہ انہيں يہ كہا گيا تھا كہ: يہ چينل المجد چينل كے تابع ہے، اور يہ نوجوانوں كا چينل ہے ـ تو شيخ نے اپنے اس تزكيہ سے برات كا اظہار كر ديا، اور اسے نشر كرنے كے منع كيا.

اور سعودى عرب كے مفتى عام شيخ عبد العزيز آل شيخ نے بھى اس چينل سے بچنے اور چوكنا رہنے كا كہا ہے:

بروز جمعرات تاريخ ( 13 / 9 / 1427 ) ھـ ميں عصر كے وقت المجد چينل ميں اپنے پروگرام مفتى عام سے ملاقات ميں شيخ سے شد چينل كے متعلق سوال كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

" شدا چينل اشعار و نظميں اورترانے پيش كرنے كا چينل ہے، ميں المجد چينل كے ذمہ داران سے اميد ركھتا ہوں كہ وہ اس چينل كو بند كر دينگے، كيونكہ حقيقت ميں يہ اشعار و نظميں اور ترانے ہو سكتا ہے اپنے اندر صوفيوں كے اشعار سموئے ہوئے ہو، اور اس ميں وہ سريلى آوازيں ہوں جو لوگوں كو اس سے بہتر اور افضل چيز سے دور كر دے، صوفيوں كے اسلوب اور طريقہ، اور صوفيوں كے اشعار، اور صوفيوں كى محفل سماع يہ سب كچھ ايسا ہے جس پر علماء اور محققون نے انكار كيا، اور روكا ہے، ان كا كہنا ہے:

يہ سب اللہ تعالى كى ياد سے لوگوں كو روكتا ہے، يہ گانا ہے، ليكن انہوں نے اسے يہ كہہ كر بہتر كرنے كى كوشش كى ہے كہ يہ اسلامى اشعار اور نظميں اور ترانے ہيں، يہ .... اور يہ .....

اس ليے مطلوب يہ ہے كہ: آپ اس چينل ميں شراكت نہ كريں اور اسے اپنے گھر ميں داخل نہ كريں، ميں اسے نہيں ديكھتا، اور اسے چھوڑنے كى نصيحت كرتا ہوں، اور جس نے اس چينل كو لانے كى كوشش كى ميں اس سے اميد ركھتا ہوں كہ وہ اس سے دور ہى رہے، اور اس كى تائيد بھى نہ كرے، اور نہ ہى اس پر خرچ كرے، اور اسے ا سكا حسن و خوبصورتى دھوكہ نہ دے، يا اس كى دعوت دينے والوں سے دھوكہ مت كھائے، يا اسے نكالنے كى كوشش كرنے والے سے دھوكہ مت كھائے، يہ صرف اشعار و نظميں ہيں جو لوگوں كو اس سے بھى بہتر اور افضل چيز سے روك دينگے . انتہى.

شيخ عبد العزيز آل شيخ حفظہ اللہ كا يہ كہنا كہ: ان اشعار ميں صوفيوں كے قصيدے ہو سكتے ہيں كى تائيد و تاكيد درج ذيل اشياء سے ہوتى ہے:

ا ـ اس ميں بڑے بڑے صوفى سرداروں كى مشاركت ہے، اور ان كے ہاں يہ بڑے قصائد اور اشعار شمار ہوتے ہيں!

ب ـ مدينہ اور مدينہ كے ساكنين، اور قبر نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى بارہ ميں كثرت سے اشعار پڑھنے.

ج ـ ان كے بہت سے ا شعار ميں تصوف پر مبنى عبارات كا ہونا مثلا: ميرے مولا، ميرے سہارا، ميں اس كى چوكھٹ پر اپنے رخسار رگڑوں! ميرى مدد كرو!! وغيرہ الفاظ!

شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اشعار ( ترانے اور نظموں ) كے متعلق تفصيل معلوم كرنا چاہتا ہوں، اور اسى طرح اس كى كيسٹ فروخت كرنے كا حكم بتايا جائے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

كونسے اشعار ( ترانےاور نظميں ) ؟

سائل: كسيٹوں ميں ريكارڈ شدہ اسلامى اشعار ؟

شيخ رحمہ اللہ نے جواب ديا:

" ميں اس پر حكم نہيں لگا سكتا؛ كيونكہ يہ مختلف قسم كے ہوتے ہيں، ليكن ميں آپ كو ايك عمومى قاعدہ اور اصول بتاتا ہوں:

1 ـ اگر تو ان اشعار ( نظموں اور ترانوں ) ميں دف بجائى گئى ہو تو يہ حرام ہيں؛ كيونكہ صرف معين اور مخصوص حالت ميں ہى دف بجانى جائز ہے، نہ كہ ہر وقت، اور جب اس ميں موسيقى يا ڈھول ہو تو يہ بالاولى حرام ہے.

2 - اگر ان اشياء سے خالى ہو تو پھر ہم ديكھيں گے كہ كيا يہ گندے اور مخرب الاخلاق گانوں كى طرز پر تو نہيں گائے گئے، اگر ايسا ہے تو يہ بھى جائز نہيں، كيونكہ اس طرح انسان اس طرح كے گانوں كا عادى ہو جائيگا، اور انہيں سننے پر جھومےگا، اور ہو سكتا ہے وہ اس سے تجاوز كركے حرام گانے بھى سننے لگے.

3 - اگر يہ نظميں اور ترانے ان نوجوانوں نے گائے ہوں جن كى آواز ہى فتنہ ہو، يعنى: ا نكى آواز سن كر شہوت انگيزى ہو، يا پھر انسان صرف آواز ہى سنے، اوراس كا مقصد قصيدہ اور اشعار نہ ہو تو يہ بھى جائز نہيں.

ليكن اگر يہ حماسى قصيدے اور نظميں اور ترانے اس طريقہ كے علاوہ ہوں جو ميں نے كہا ہے، تو اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اس سے بھى بہتر اور افضل تو يہ ہے كہ قرآن مجيد كى تلاوت سنى جائے، يا پھر كوئى مفيد قسم كا ليكچر يا تقرير سنى جائے، يا پھر علماء كرام ميں سے كسى عالم دين كا درس سن ليا جائے، تو يہ افضل ہے، اسے اس طرح دينى فائدہ حاصل ہوگا، اور ايك فائدہ يہ بھى كہ انسان پر يہ راستے كو آسان بنا ديگا؛ كيونكہ ہو سكتا ہے انسان مثلا مكہ سے مدينہ كا سفر كرے تو وہ كسى ايسى چيز كا محتاج ہو گا جو اسے بيدار كر كے ركھے.

سائل: ليكن اسے فروخت كرنے كا حكم كيا ہے ؟

شيخ كا جواب تھا:

" ميں آپ كو ايك قاعدہ اور اصول ديتا ہوں:

ہر وہ چيز جس كا استعمال حرام ہے، اسے فروخت كرنا بھى حرام ہو گا؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اور يقينا جب اللہ تعالى كسى قوم پر كوئى چيز كھانى حرام كرتا ہے تو اس پر اس كى قيمت بھى حرام كر ديتا ہے "

اسے ابو داود نے روايت كيا ہے، اور يہ حديث صحيح ہے.

لقاءات الباب المفتوح ( 111 ) سوال نمبر ( 7 ).

اور شيخ صالح بن فوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:

ہم صحيح اور صاف اشعار كہنے اور ا نہيں حفظ كرنے كا انكار نہيں كرتے، ليكن ہم درج ذيل كا انكار ضرور كرتے ہيں:

1 - ہم اسے اسلامى اشعار اور ترانے اور نظموں كا نام دينے سے انكار كرتے ہيں.

2 - ہم اس ميں وسعت اختيار كرنے سے انكار كرتے ہيں كہ يہ اس حد تك پہنچ جائے كہ اس سے بہتر اور افضل اور نفع مند چيز سے مقابلہ كرنے لگے.

3 - ہم اسے دينى پروگرام كے ضمن ميں شامل كرنے سے بھى انكار كرتے ہيں، يا پھر يہ كہ اسے اجتماعى آواز ميں پڑھا اور گايا جائے، يا پرفتن آواز ميں گانا بھى صحيح نہيں.

4 - اس كى ريكارڈنگ اور اسے فروخت كرنا بھى صحيح نہيں، ہم اس سے بھى انكار كرتے ہيں؛ كيونكہ يہ لوگوں كو مشغول كرنے كا وسيلہ اور ذريعہ ہے، اور مسلمانوں ميں اس راہ سے صوفيوں كى بدعات كے داخل ہونے كا ذريعہ اور وسيلہ ہے، يا پھر قوميت يا جماعت اور گروہ، يا وطنيت كے نعروں كى ترويج كا بھى وسيلہ اورسبب ہيں " انتہى.

ديكھيں: البيان لاخطاء بعض الكتاب صفحہ ( 341 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments