بدھ 24 صفر 1441 - 23 اکتوبر 2019
اردو

احساس ختم ہونے كو روكنے كے ليے فوت شدہ مزيد عورتوں كو غسل دينے سے انكار كرنا

10803

تاریخ اشاعت : 06-05-2006

مشاہدات : 2913

سوال

ايك عورت فوت ہونے والى عورتوں كو غسل ديتى تھى بالآخر اس نے يہ كہتے ہوئے اب مزيد عورتوں كو غسل دينے سے انكار كر ديا ہے كہ اس سے فوت شدگان كے متعلق احساس ختم ہو جاتا اور سختى پيدا ہوتى ہے، حالانكہ اس عورت كے محتاج بھى ہيں، تو كيا اس رائے پر موافقت كرلى جائے يا نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اس عورت كے ليے مشروع تو يہى ہے كہ جب لوگوں كو مردے غسل دينے ميں اس كى ضرورت ہے اور وہ اس كے محتاج ہيں، اور وہ اس كام كى ماہر ہے اور خير و بھلائى ميں بھى معروف ہے تو پھر وہ اس كام ميں صبر كرے اور اجروثواب كى نيت ركھتے ہوئے يہ كام جارى ركھے.

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو كوئى شخص اپنے كسى بھائى كى ضرورت ميں اس كے كام آتا ہے، اللہ تعالى اس كى ضرورت و حاجت پورى كرتا ہے"

صحيح بخارى و صحيح مسلم.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ بھى فرمان ہے:

" اور اللہ تعالى اس وقت تك بندے كى مدد و معاونت ميں ہوتا ہے جب تك وہ اپنے بھائى كى مدد كرتا ہے"

اسے مسلم رحمہ اللہ تعالى نے صحيح مسلم ميں روايت كيا ہے.

اس معنى اور موضوع كى احاديث بہت زيادہ ہيں.

ماخذ: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ ( 13 / 117 )

تاثرات بھیجیں