ہفتہ 18 ذو القعدہ 1440 - 20 جولائی 2019
اردو

آب زمزم کی برکت مکہ کے اندر یا باہر کہیں بھی پینے سے حاصل ہو جاتی ہے۔

125862

تاریخ اشاعت : 13-08-2016

مشاہدات : 2406

سوال

سوال:کیا آبِ زمزم نوش کرتے ہوئے دعا کی خصوصیت مکہ میں موجود مقیم، زائر، حاجی، یامعتمر وغیرہ کے ساتھ خاص ہے؟ یا زمزم پیتے وقت دعا پوری دنیا میں موجود مسلمانوں کیلیے عام ہے؟ واضح رہے کہ میں نے شیخ البانی کا "سلسلۂ ہدی و النور" میں سنا تھا کہ : آبِ زمزم نوش کرتے ہوئے دعا کی خصوصیت صرف مکہ مکرمہ میں موجود لوگوں کیلیے ہے، تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی دلیل نہیں دی تھی۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اللہ تعالی نے آبِ زمزم   میں برکت  ڈالی ہے اسے کسی جگہ کے ساتھ منسلک یا مربوط نہیں فرمایا، چنانچہ آبِ زمزم کی برکت کسی جگہ یا حج و عمرہ کےا یام سے منسلک نہیں ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  خود  اس برکت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: (یہ بابرکت پانی ہے ، یہ کھانے والوں کیلیے کھانا بھی  ہے) مسلم: (2473)
جبکہ بزار، طبرانی اور بیہقی وغیرہ میں  اس بات کا اضافہ ہے کہ: (بیماری سے شفا بھی ہے ) دیکھیں: سنن کبری از بیہقی: (5/147)

دلائل ظاہری طور پر ان شاء اللہ اسی  طرف ہیں کہ  آبِ زمزم کی برکت  ہمہ قسم کے زمزم  کیلیے ہے چاہے وہ مکہ میں موجود ہو یا مکہ سے باہر منتقل ہو چکا ہو، یہی وجہ ہے کہ متعدد اہل علم نے آبِ زمزم کو مکہ سے باہر لے جانے کی صراحت کے ساتھ شرعی طور پر اجازت دی ہے، نیز آبِ زمزم کے مکہ سے باہر منتقل ہونے پر اس کی برکت باقی رہتی ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کوئی آبِ زمزم لے کر جائے تو یہ جائز ہے ، سلف صالحین اپنے ساتھ زمزم لے جایا کرتے تھے۔"

صاوی مالکی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"آبِ زمزم ساتھ لے کر جانا مستحب ہے، آبِ زمزم منتقل ہونے  کے باوجود بھی اس کی خصوصیات باقی رہتی ہیں، آبِ زمزم کے مکہ سے منتقل ہونے پر اس کی خصوصیات زائل سمجھنے والے کی بات درست نہیں ہے" انتہی
" حاشية الصاوي على الشرح الصغير " (2/44)، اسی طرح کی بات: " منح الجليل شرح مختصر خليل " (2/273) میں بھی موجود ہے۔

شیخ علی شبراملسی شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"حدیث: (آبِ زمزم جس مقصد کیلیے پیا جائے اسی کیلیے ہوتا ہے) میں وہ شخص بھی شامل ہے جو آبِ زمزم مکہ سے باہر نوش کرے" انتہی
" حاشية نهاية المحتاج " (3/318)

اسی طرح شیخ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ " تحفة المحتاج " (4/144) میں کہتے ہیں:
"آبِ زمزم اپنے ملک میں اپنے لیے یا کسی اور کیلیے شفا یا برکت کی غرض لے جانا جائز ہے " انتہی

اسی طرح سخاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کچھ لوگوں سے یہ باتیں   سنی گئی ہیں کہ زمزم کی صرف برکت مکہ میں ہی ہے، لہذا اگر زمزم مکہ سے باہر لے جائیں تو برکت باقی نہیں رہتی، یہ بے بنیاد بات ہے؛ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو کو لکھ بھیجا تھا کہ: (اگر تمہارے پاس میرا یہ خط رات کو پہنچے تو صبح ہونے سے پہلے اور اگر دن میں پہنچے تو شام ہونے سے پہلے میری طرف آبِ زمزم ارسال کر دینا)"
اس میں یہ بھی ہے کہ سہیل بن عمرو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب دو مشکیزے زمزم کے ارسال کیے اس وقت آپ فتح مکہ سے پہلے مدینہ میں تھے۔یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے۔

اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا بھی زمزم کا پانی لاتی تھیں اور بتلاتیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے ساتھ زمزم کا پانی لاتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کا پانی مختلف برتنوں اور مشکیزوں میں بھر کر لاتے تھے، مریضوں پر زمزم ڈالتے اور انہیں پلاتے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہ  کے پاس جب کوئی مہمان آتا تو ان کی آبِ زمزم سے ضیافت کرتے۔
عطاء رحمہ اللہ سے زمزم ساتھ لے جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "زمزم کا پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حسن و حسین رضی اللہ عنہ بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے"
اس بارے میں امالی میں میں نے تفصیلی گفتگو کی ہے" انتہی
"المقاصد الحسنة"از: سخاوی (1/569)

بلکہ ملا علی قاری رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ:
"آبِ زمزم کو تبرک کے طور پر ساتھ لے جانا متفقہ طور پر مستحب عمل ہے" انتہی
مرقاة المفاتيح (9/194)

اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
"آبِ زمزم کی برکت حاصل کرنے کیلیے مکہ مکرمہ  میں ہی نوش کرنا اور پینا شرط ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"ایسی کوئی شرط نہیں ہے؛ یہی وجہ ہے کہ کچھ سلف صالحین اپنے  ساتھ زمزم لانے والوں سے زمزم طلب کر کے نوش فرماتے، اور اس حدیث (آبِ زمزم جس مقصد کیلیے پیا جائے اسی کیلیے ہوتا ہے) کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ کے ساتھ مقید نہیں فرمایا" انتہی
" فتاوى نور على الدرب " ( شروح الحديث والحكم عليها )

اسی طرح ایک جگہ آپ کہتے ہیں:
"ظاہری طور پر دلائل یہی کہتے ہیں کہ آبِ زمزم مکہ ہو یا کہیں بھی ہر جگہ پر یکساں مفید ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: (آبِ زمزم جس مقصد کیلیے پیا جائے اسی کیلیے ہوتا ہے) اس میں مکہ یا بیرونِ مکہ تمام جگہیں یکساں شامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض سلف صالحین آبِ زمزم بھر کر اپنے علاقوں میں بھی لے جاتے تھے" انتہی
" فتاوى نور على الدرب " (فتاوى الحج والجهاد/باب محظورات الإحرام)

ایسے ہی دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی  (1/298) میں ہے کہ:
"آبِ زمزم کے بارے میں جو نقل کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (آبِ زمزم جس مقصد کیلیے پیا جائے اسی کیلیے ہوتا ہے) اسے امام احمد اور ابن ماجہ  نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، یہ حسن درجے کی حدیث ہے، نیز یہ روایت عام بھی ہے ، آبِ  زمزم کے بارے میں اس سے بھی صحیح ترین فرمانِ نبوی یہ ہے: (یہ بابرکت پانی ہے ، یہ کھانے والوں کیلیے کھانا اور بیماری سے شفا بھی ہے ) اسے مسلم اور ابو داود نے روایت کیا ہے  جبکہ یہ الفاظ ابو داود طیالسی کے ہیں۔
چنانچہ اگر آپ زمزم کا پانی پینا چاہیں تو اپنے علاقے سے حج کیلیے جانے والے کسی بھی شخص کو حج سے واپسی پر اپنے ساتھ زمزم لانے کی تاکید کر سکتے ہیں" انتہی

مزید کیلیے دیکھیں: " الموسوعة الفقهية " (24/14)

ہو سکتا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے  زمزم کا پانی بھر کر لے جانے اور مکہ سے باہر زمزم بطور برکت پینے سے رجوع کر لیا ہو، یا کم از کم یہ کہہ سکتے ہیں کہ : البانی رحمہ اللہ کا اس مسئلے میں ایک اور قول بھی جو ہماری ذکر کردہ گفتگو کے مطابق ہے۔

شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"حاجی اور عمرہ کرنے والا  اپنے  ساتھ بطور تبرک حسب استطاعت زمزم کا پانی بھر سکتا ہے، کیونکہ : (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کا پانی مختلف برتنوں اور مشکیزوں میں بھر کر لاتے تھے، مریضوں پر زمزم ڈالتے اور انہیں پلاتے تھے)
اس حدیث کی تخریج کے بارے میں شیخ البانی کہتے ہیں: اس حدیث کو بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ترمذی نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے نیز ترمذی نے اسے حسن بھی قرار دیا ہے۔

نیز یہ حدیث سلسلہ احادیث صحیحہ (883) میں بھی موجود ہے۔
مزید برآں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے پہلے مدینہ میں رہتے ہوئے سہیل بن عمرو  کو خط ارسال کرتے کہ ہمیں زمزم کا پانی تحفۃً بھیج دو، بھول مت جانا، تو وہ آپ کی طرف دو مشکیزے بھیج دیتا تھا۔
اس حدیث کی تخریج میں شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اس روایت کو بیہقی نے جید سند کے ساتھ جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے ، نیز اس روایت کا ایک مرسل شاہد بھی ہے جو کہ مصنف عبد الرازاق (9127) میں موجود ہے، نیز ابن تیمیہ رحمہ اللہ  نے یہ ذکر کیا ہے کہ سلف صالحین بھی زمزم کا پانی بھر کر لے جایا کرتے تھے۔

دیکھیں:  مناسك الحج والعمرة (42) از البانی ،یہی موقف انہوں نے سلسلہ صحیحہ حدیث نمبر: (883) بعنوان: " حمل ماء زمزم ، والتبرك به "(2/543) کے تحت بھی ذکر کیا ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں