ہفتہ 7 ربیع الثانی 1440 - 15 دسمبر 2018
اردو

توبہ

سوال

میں نے اتنے گناہ کئے ہیں کہ اللہ ہی جانتا ہے، اب میں کیا کروں کہ اللہ تعالی میری توبہ قبول فرمائے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

جب  ایمان کمزور ہو ، شہوت کا غلبہ ہو  اور شیطان برائیاں  مزین کر کےدکھاتا ہوتو ایک مسلمان  اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتا ہے اور حرام کردہ امور میں ملوث ہو جاتا ہے، دوسری جانب اللہ تعالی کی ذات ہے کہ  اپنے بندوں کے ساتھ انتہائی نرمی والا معاملہ فرماتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ظلم و زیادتی کرنے کے بعد توبہ کر لے تو اللہ  تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ  پھر جو شخص ایسا ظلم کرنے کے بعد توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے وہ یقیناً بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ [المائدة: 39]

اللہ تعالی معاف کرنے والا اور نہایت کرم کرنے والا ہے اسی لیے تو اپنے تمام بندوں کو سچی توبہ کرنے کا حکم بھی دیتا ہے تا کہ رحمت الہی  اور اللہ کی جنت حاصل کر کے کامیاب ہو جائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ اے ایمان والو ! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو یقینی بات ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ [التحريم: 8]

نیز توبہ کا دروازہ تمام بندوں کیلیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک سورج  مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (بیشک اللہ عزوجل اپنے ہاتھ رات کے وقت پھیلاتا ہے تا کہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے اور دن میں اللہ تعالی اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے، [یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا] جب تک سورج مغرب کی سمت سے طلوع نہ ہو جائے) مسلم : (2759)

سچی توبہ محض زبانی جمع خرچ کا نام نہیں ہے ، بلکہ سچی توبہ کی قبولیت کیلیے شرط یہ ہے کہ انسان گناہ سے فوری طور پر باز آ جائے اور اپنے کئے پر ندامت کا اظہار کرے اور توبہ کردہ گناہ دوبارہ نہ کرنے کا پورا عزم کرے، نیز اگر کسی کے حقوق سلب کئے ہیں تو مستحقین کو ان کے حقوق لوٹا دے، نیز توبہ کیلیے یہ بھی شرط ہے کہ موت نظر آنے سے پہلے انسان توبہ کرے؛ اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (17) وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا  اللہ تعالی پر قبولیت توبہ کا حق صرف ایسے لوگوں کے لیے ہے جو نا دانستہ جب کوئی برا کام کر بیٹھتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ اللہ ایسے ہی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے [17] توبہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برے کام کرتے رہتے ہیں حتی کہ ان میں سے کسی کی موت جب آ جاتی ہے تو کہنے لگتا ہے کہ " میں اب توبہ کرتا ہوں "  اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے ہے جو کفر کی حالت میں ہی مر جاتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے [النساء: 17، 18]

اللہ تعالی نہایت  رحم کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے؛ اسی لیے گناہ گاروں کو اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے تا کہ ان کی توبہ قبول کر کے انہیں معاف فرما دے، فرمانِ باری تعالی ہے: كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ کہ تم میں سے کوئی شخص  لاعلمی سے کوئی برا کام کر بیٹھے پھر اس کے بعد وہ توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو یقیناً وہ معاف کر دینے والا اور رحم کرنے والا ہے [الأنعام: 54]

اللہ تعالی اپنے بندوں کے ساتھ نہایت نرمی والا معاملہ فرماتا ہے ، اسی لیے توبہ کرنے والوں کو پسند بھی کرتا ہے، اور ان کی توبہ قبول بھی فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے اور وہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو ہر چیز سے با خبر ہے۔[الشورى: 25]

ایک اور مقام پر اللہ تعالی کا فرمان ہے: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ بیشک اللہ تعالی توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاکیزہ رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ [البقرة: 222]

بلکہ اگر کوئی کافر مسلمان ہو جائے تو اللہ تعالی اس کے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ہے ، اس کے سابقہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ کفر کرنے والوں سے کہہ دو: اگر وہ باز آ جائیں تو ان کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ [الأنفال: 38]

اللہ تعالی اتنا غفور و رحیم ہے کہ اپنے بندوں سے توبہ کے عمل کو پسند فرماتا ہے اور انہیں توبہ کرنے کا حکم بھی دیتا ہے تا کہ اللہ تعالی انہیں بخش دے، جبکہ انسانی اور جناتی شکل میں شیطان یہ چاہتے ہیں کہ لوگ حق سے بیزار ہو کر باطل کی طرف چلے جائیں ، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًااور اللہ تعالی تو چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے جبکہ شہوانیت کے رسیا یہ چاہتے ہیں کہ تم دور کی گمراہی میں چلے جاؤ۔ [النساء: 27]

اللہ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، انسان کے گناہ کتنے ہی زیادہ ہوں، انسان نے اپنی جان پر کتنا ہی ظلم ڈھایا ہو، کتنے ہی پاپ کئے ہوں، لیکن بعد میں توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اللہ تعالی اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے چاہے ان کی مقدار کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اس کے بارے میں اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا: قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ آپ لوگوں سے کہہ دیجیے : اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں [٧١] پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے  [الزمر: 53]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی حدیث مبارکہ میں فرمایا: (ہر رات جب رات کی آخری تہائی باقی رہ جاتی ہے تو ہمارا پروردگار آسمان دنیا تک نازل ہو کر فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کر لوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں؟  کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟) بخاری: (1077) مسلم: (758)

انسانی جان بسا اوقات گناہوں کے آگے بہت کمزور ثابت ہوتی ہے ، تاہم اگر گناہ ہو بھی جائے تو اسے چاہیے کہ فوری توبہ کر لے اور ہر وقت اللہ تعالی سے بخشش مانگے؛ کیونکہ اللہ تعالی  نہایت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے، اللہ تعالی کا ہی فرمان ہے: وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا اور جو بھی برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہے تو وہ اللہ کو نہایت بخشنے والا اور بہت زیادہ رحم کرنے والا پائے گا۔[النساء: 110]

مسلمان سے غلطی کوتاہی ہوتی رہتی ہے، اس سے گناہ بھی ہو جاتے ہیں، اس لیے انسان کو ہر دم توبہ استغفار کرتے رہنا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (اللہ کی قسم! میں اللہ تعالی سے ایک دن میں توبہ اور استغفار ستر بار سے بھی زیادہ مرتبہ مانگتا ہوں) بخاری: (6309)

اللہ تعالی توبہ پسند فرماتا ہے اور اسے شرف قبولیت سے بھی نوازتا ہے، بلکہ اللہ تعالی کو اپنے بندے کی توبہ کرنے پر خوشی بھی ہوتی ہے جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث مبارکہ میں بتلایا کہ: (اللہ تعالی کو اپنے بندے کے توبہ کرنے پر اس شخص سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کا اونٹ ویران اور بیابان علاقے میں گم ہو نے کے بعد دوبارہ مل جائے) متفق علیہ ، بخاری: (6309)

واللہ اعلم.

ماخذ: ماخوذ از کتاب: أصول الدين الإسلامي، از محمد بن ابراہیم تویجری

تاثرات بھیجیں