بدھ 14 ربیع الثانی 1441 - 11 دسمبر 2019
اردو

غسل اور احرام کے کپڑے پہننے کے بعد خوشبو لگائی اس پر کیا لازم ہے؟

سوال

سوال: غسل اور احرام کے کپڑے پہننے کے بعد میں نے اپنے جسم پر خوشبو کی نیت سے خوشبو دار کریم لگائی ، تو اس پر مجھے کیا کرنا ہوگا؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

احرام باندھتے وقت یعنی غسل کے بعد اور احرام کی نیت کرنے سے پہلے بالوں یا جسم پر خوشبو لگانا سنت ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے وقت خوشبو لگایا کرتے تھے، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : "میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے اچھی خوشبو لگاتی تھی، کہ مجھے خوشبو کی چمک سر اور داڑھی میں نظر آتی "
بخاری: (5923)
یہاں چمک سے مراد : کستوری  کا رنگ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی مانگ میں احرام کی حالت میں نظر آتا تھا۔

چنانچہ اگر آپ نے اپنے جسم پر کریم غسل کے بعد لیکن احرام کی نیت کرنے سے پہلے لگائی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہے آپ نے احرام کا لباس زیب تن ہی کیوں نہ کر لیا ہو۔

اور ممنوع عمل یہ ہے کہ انسان احرام کی نیت کرنے کے بعد خوشبو لگائے۔

تاہم اگر آپ نے یہ ممنوع عمل  لا علمی کی وجہ سے کیا تھا کہ آپ کو اس کی ممانعت کا علم نہیں تھا ، یا علم تو تھا لیکن بھول کر خوشبو لگا لی تو آپ کے ذمہ کچھ بھی واجب نہیں ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ بقدر استطاعت اس خوشبو کے اثرات کو آپ زائل کریں یہ آپ کیلئے لازمی امر ہے۔

چنانچہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کوئی احرام باندھنے والا شخص احرام کی حالت میں بھول کر یا لا علمی میں کوئی ممنوع عمل کا ارتکاب کر لے  تو اس پر کچھ نہیں ہے، تاہم اتنا ضرور ہے کہ جب اسے یاد آئے یا کوئی غلطی  کا احساس کرو ا دے تو فوری ممنوع کام سے دور ہو جائے" انتہی
"فتاوى أركان الإسلام" (536)

مزید کیلئے دیکھیں: سوال نمبر: (36522) اور (49026)

اور اگر آپ نے کریم کا استعمال احرام کی نیت کرنے کے بعد کیا اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ایسا کرنا منع ہے تو پھر آپ کو "فدیہ الاذی" دینا ہوگا جو کہ تین کاموں میں سے ایک  کی صورت میں ہوگا: ایک بکری ذبح کریں، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں، ہر مسکین کو نصف صاع دیں، یا پھر تین روزے رکھیں؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:
( وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ )
ترجمہ: اور اپنے سر اس وقت تک نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے  پر نہ پہنچ جائے۔ مگر جو شخص مریض ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف  ہو (تو سر منڈوا سکتا ہے بشرطیکہ) روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے اس کا فدیہ ادا کر دے ۔[البقرة:196]

لیکن احرام کی چادروں کو خوشبو لگانا  جائز نہیں ہے، چاہے احرام کی نیت سے پہلے ہو یا بعد میں کسی بھی وقت چادروں کو خوشبو لگانا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام والے شخص کو ایسا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے جسے خوشبو لگی ہوئی ہو۔

اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا:
"ایسا کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (ایسا لباس مت پہنے جسے زعفران یا ورس  لگی ہوئی ہو)" انتہی
"مجموع الفتاوى" از ابن عثیمین: (22/9)

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں