جمعہ 19 صفر 1441 - 18 اکتوبر 2019
اردو

ویڈیو گیمز کے مجوزہ متبادل ذرائع

210867

تاریخ اشاعت : 27-09-2017

مشاہدات : 1604

سوال

ایسی کون سی سرگرمیاں اور امور ہیں کہ بچوں کو اسکرین کے سامنے بیٹھنے سے روکنے کے لیے ان کو پیش کرنا میرے لئے ممکن ہو؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

یہ بات کسی سے بھی مخفی نہیں ہے کہ انواع و اقسام کی ویڈیو گیمز بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں، نیز بچوں کی جانب سے ان کو  حاصل کرنے کی ہوس بھی بہت  زیادہ ہے، اسی طرح ان گیمز میں زیادہ دیر تک مشغول رہنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے طبی مسائل  اور منفی اثرات  سب پر عیاں ہیں ، اس سے بڑھ کر یہ بھی حقیقت ہے کہ بچوں کو ان گیموں کی لت پڑنے کا سب کو یقین بھی ہے اور شکایت بھی، اسی لیے اس  بیماری کی روک تھام کیلیے کانفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں، اس بری عادت کے خاتمے کیلیے  تنظیمیں وجود میں آ رہی ہیں خصوصاً مغربی ممالک میں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس مسلمان کو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی فکر ہوتی ہے ، بلکہ مسلمان کے علاوہ بھی ہر شخص  جو اپنے بچوں کی نفسیاتی، معاشرتی اور سلوکی تربیت کا خیال رکھنا چاہتا ہے وہ  ان ویڈیو گیمز کی وجہ سے پیدا ہونی والی بے راہ روی  سے پریشان رہتا ہے، بہت سے بچے ان ویڈیو گیمز کے دیوانے ہو چکے ہیں، انہی وجوہات کی بنا پر یہ سوال کرنا کہ  ایسی گیمز کے ساتھ کیسے نمٹیں؟ اور اس کے متبادل ذرائع کیا ہو سکتے ہیں؟ بالکل بر محل اور ہر اس شخص کیلیے ضروری سوال ہے جو اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنا چاہتا ہے، یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں  کہ:

- یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ براہِ راست منع کرنے کا اسلوب ایسے ماحول میں کار گر ثابت نہیں ہوتا جہاں دیگر بچوں کو ان ویڈیو گیمز تک رسائی کی آزادی  ہو، بلکہ تربیتی حوالے سے بھی ایسا طریقہ کار مناسب نہیں ہو گا؛ اس  لیے کرنا یہ ہو گا کہ ایسے ماحول میں بچے پر خوب محنت کریں ، گیمز میں خود ان کے ساتھ گھلیں ملیں   اور ساتھ میں رہنمائی بھی کریں۔

-  گیمز کھیلنے کیلیے بچے کی عمر کے حساب سے اور گناہوں سے پاک گیم لیں اور اس میں کوئی ایسی بات بھی نہ ہو جس سے بچے کی نفسیاتی یا سلوکی صحت  پر منفی اثر مرتب ہو۔

- رہنمائی کیلیے بچے کے ساتھ بات چیت کریں اور بچے کو اس بات پر قائل کریں کہ کھیلنے کا وقت معین اور مقرر ہونا چاہیے، تا کہ بچے کی صحت ، تعلیمی واجبات   اور دیگر مثبت سرگرمیوں پر پر منفی اثرات نہ پڑیں، یہ بھر پور کوشش رہے کہ ویڈیو گیمز بچے پر حاوی نہ ہوں، دوسری جانب والد بھی بچوں کو سمجھاتے ہوئے صبر سے کام لے، اچھا انداز اپنائے، اور بات منوانے کے مختلف طریقے استعمال کرے: (بات چیت، کہانی سنا کر، جدید آلات کے خطرات سے متعلق سچے واقعات۔۔۔ اور اسی طرح کے دیگر اسالیب اپنائے)

- یہ بہت ضروری بات ہے کہ بچہ کی چاہت و تمنا کو مکمل طور پر رد نہ کیا جائے خواہ وہ مکمل طور پر آپ کی بات نہ بھی سمجھے ، بلکہ اسے سمجھانے میں نرمی کا پہلو اختیار کیا جائے، کھیلنے کا ٹائم ٹیبل مقرر ہو، اور جس قدر ممکن ہو سکے بتدریج تربیت کریں، ساتھ میں اسالیب میں تنوع بھی لائیں۔

- یہ اچھا ہے کہ جب بچہ کوئی اچھا کام مکمل کرے مثلاً: کوئی سورت یاد کر لے یا حدیث یاد کر لے یا کوئی شعر یاد کرے اسی طرح اپنے  ذمے کوئی  کام مکمل کر لے یا اپنے کمرے کی صفائی کر لے یا گھر کے کام کاج میں مدد کروائے  تو پھر بچے کی خواہش پوری کر دیں، لیکن اس کے با وجود وقت کی پابندی لازمی کروائیں۔

- سب سے اہم متبادل ذریعہ ، جس کے بعد دیگر متبادل ذرائع کا درجہ آتا ہے ، وہ یہ ہے کہ والدین بذاتِ خود بچوں کو وقت دینے کیلیے مکمل طور پر تیار ہوں، بچوں کے ساتھ بیٹھیں، ان کے ساتھ گھل مل کر گپ شپ لگائیں، انہیں جو کام ذمے لگایا گیا ہے اس کی تکمیل تک مکمل نگرانی کریں۔ لیکن اگر گھر کے افراد بڑوں سے لیکر چھوٹوں تک سب ہی اپنے اپنے سسٹم کو لیکر بیٹھے ہوں   اور اسی پر سارا وقت گزرتا ہے ، وہ صرف کھانے کے موقع پر ہی جمع ہوتے ہیں، اور پھر والدین بچوں کیلیے مناسب متبادل تلاش کریں تو یہ پانی میں مدھانی مارنے وای بات ہو گی،  اس وقت  مذکورہ بالا  متبادل ذرائع سے بالکل فائدہ نہیں ہو گا۔

- اس طرح کبھی کبھار تفریحی جگہوں میں جانا بہت مفید ہو سکتا ہے بچوں کے ساتھ ایسی جگہوں کا رخ کریں بلکہ ویڈیو گیمز کھلنے کے وقت میں سے ہی باہر جانے کا وقت نکالیں ۔

- متبادل ذرائع میں سے یہ بھی ہے کہ بچوں کو ایسے سماجی اداروں میں داخل کروایا جائے جن میں بچوں کیلیے تربیتی  اور تفریحی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں، ان پروگراموں کی وجہ سے بچوں میں سماجی اور فنی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور بچہ ویڈیو گیمز کی لت سے بچ سکتا ہے۔

- جو کچھ بھی کہہ لیا جائے  جس شخص کا بچوں کی تربیت کے ساتھ تعلق ہے ہمیشہ اس کے ذہن میں ان ویڈیو گیمز کے متبادل ذرائع کے متعلق خدشات منڈلاتے رہیں گے، اس لیے والدین کی خصوصی طور پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے بچوں کی تقوی الہی پر تربیت کریں، سمجھدار بچوں کے دلوں میں خلوت و جلوت میں اللہ کا ڈر بٹھائیں؛ کیونکہ خوفِ الہی ان تباہ کن آلات کے منفی اثرات سے بچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے پورے الحاح اور گڑگڑا کر بچوں کیلیے دعائیں کریں، کہ اللہ تعالی انہیں ہدایت اور بھلائی کی توفیق دے ، اس کے بعد  جہاں تک ممکن ہو سکے مکمل کوشش کریں کہ بچوں کو مفید کاموں میں مشغول رکھیں، اور اس میدان میں والدین اپنی استطاعت کے مطابق بھر پور کوشش کریں۔.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں