سوموار 17 شعبان 1440 - 22 اپریل 2019
اردو

وہ مرتد ہو گئی تھی پھر توبہ کر لی تو کیا اس دوران کی نمازوں اور روزوں کی قضا دے گی؟

220618

تاریخ اشاعت : 19-05-2016

مشاہدات : 1543

سوال

سوال: میرا تعلق مسلمان خاندان سے ہے، لیکن کئی سالوں تک میں نے کوئی اسلامی عبادت سر انجام نہیں دی، بلکہ میں نے کسی اور دین کو سیکھنے کی بھی کوشش کی اور یومیہ اس پر عمل بھی کیا، میری یہ حالت تقریباً سات سال تک رہی اس دوران میں رمضان کے روزے رکھتی تھی لیکن پھر بھی کچھ روزے چھوڑ دیتی تھی، اب الحمد للہ مجھے اسلام کے بارے میں پوری بصیرت حاصل ہو چکی ہے، اب میں چھوڑے ہوئے روزوں کی تعداد یاد کرنے کی ناکام کوشش میں ہوں، اب اس دوران حیض کے دن کتنے تھے یہ بھی مجھے معلوم نہیں، نیز میں اپنی اس کیفیت کے پہلے سال کے بارے میں بھی مطمئن نہیں ہوں کہ کیا میں نے اس سال کے روزوں کی قضا دے دی تھی؟
اب میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا میرے لیے پہلے سال کے روزوں کی قضا دینا ہو گی جن کے بارے میں مجھے یقین نہیں ہے کہ قضا دی تھی یا نہیں؟ اور بقیہ چھ سالوں کے روزوں کی قضا کس طرح دوں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو اسلام کے بارے میں بصیرت اور رہنمائی عطا فرمائی نیز دین کا پابند بنایا، ہم اللہ تعالی سے اپنے لیے اور آپ کیلیے مرتے دم تک دین پر ثابت قدمی اور صراط مستقیم  پر گامزن رہنے کا سوال کرتے ہیں۔

اسلام سے رو گردانی اور مرتد ہونے پر اللہ تعالی سے کثرت کے ساتھ استغفار کریں، اپنی کمی کوتاہی کی بھی معافی مانگیں، یہ آپ کیلیے خوش آئند بات ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف کر دیتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
( وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ)
ترجمہ: وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور  برائیوں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو  وہ انہیں جانتا ہے [الشورى:25]

اسی طرح فرمایا: ( قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ * وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ * وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ )
ترجمہ: آپ کہہ دیں: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے [53] اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کا حکم مان لو قبل اس کے کہ تم پر عذاب  آئے پھر تمھیں کہیں سے مدد بھی نہ مل سکے[54] اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوا ہے اس کے بہترین  پہلو کی پیروی کرو پیشتر اس کے کہ اچانک تم پر عذاب آ جائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو ۔[الزمر:53-55]

دوم:

آپ نے دین اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دین کی تعلیمات سیکھنا شروع کیں اور پھر آپ نے اس پر عمل بھی شروع کر دیا ، اگرچہ آپ کچھ کام دین اسلام والے بھی کر رہی تھیں  پھر بھی یہ اجماعی طور پر بالکل واضح انداز میں اللہ کے دن سے ارتداد ہے، بلکہ اگر آپ تمام اسلامی امور بھی سر انجام دیتی رہتیں تب بھی یہ ارتداد ہی شمار ہوتا؛ کیونکہ  اسلامی تعلیمات  پر ٹھوس انداز میں ثابت قدم نہ رہنا، یا اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان اپنے آپ کو متذبذب رکھنا، یا کسی اور دین کو اپنا لینا لیکن ساتھ میں اسلام کے احکامات پر بھی پابند رہنا  بہر صورت میں یقینی طور پر اللہ کے دین سے مرتد ہونا متصور ہو گا؛ اس دوران میں کیا ہوا کوئی بھی عمل اسلام کے اعمال میں شامل نہیں ہو گا، چاہے وہ کتنے ہی اعمال کرلے، جب تک وہ مرتد ہونے سے توبہ نہیں کرتا اور دین اسلام کے سوا تمام ادیان چھوڑ نہیں دیتا۔

فرمانِ باری تعالی ہے:
( وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ )
ترجمہ: جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کسی بھی دین کی جستجو میں رہے تو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔[ آل عمران:85]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:
 ( إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ )
ترجمہ: بیشک اللہ تعالی کے ہاں دین اسلام ہی ہے۔[ آل عمران:19]

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی بھی دین اپنانے کی اجازت ہے وہ اپنے دین میں آزاد ہے ؛ تو وہ اللہ تعالی کے ساتھ کفر کر رہا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان تو یہ ہے کہ:
( وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ)
ترجمہ: جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کسی بھی دین کی جستجو میں رہے تو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا [ آل عمران:85]
اسی طرح فرمایا:
( إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ )
ترجمہ: بیشک اللہ تعالی کے ہاں دین اسلام ہی ہے۔[ آل عمران:19]

اس لیے کسی کیلیے یہ نظریہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین اپنا لے، یا اللہ تعالی کی عبادت کسی بھی دین کے ذریعے کرے؛ بلکہ اگر اس نے یہ اعتقاد رکھا تو اہل علم نے یہ بات صراحت سے لکھی ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور کافر ہے" انتہی
"مجموع فتاوی ابن عثیمین " (3/ 100)

ایک مقام پر انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ:
"ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  کی شریعت ہی دین اسلام ہے اور اسی کو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے پسند فرمایا ہے، نیز اللہ تعالی اس شریعت سے ہٹ کر کوئی بھی شریعت قبول نہیں فرمائے گا۔۔۔

اور ہم یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اگر آج کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ دین اسلام  کے علاوہ یہودیت، عیسائیت یا کوئی اور دین بھی اللہ تعالی کے ہاں مقبول ہے ؛ تو وہ کافر ہے، اسے توبہ کا موقع دیا جائے اگر توبہ کر لے تو اچھا ہے وگرنہ اسے مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا جائے؛ کیونکہ اس نے قرآن کو جھٹلایا ہے" انتہی
" عقيدة أهل السنة والجماعة " (ص 21)

سوم:

جب یہ بات واضح ہو گئی  تو مرتد شخص اگر توبہ کر کے اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اب اس پر مرتد ہونے کی مدت میں چھوڑی ہوئی نماز، روزے وغیرہ کی قضا لازم نہیں ہے؛ کیونکہ اسلام سابقہ تمام گناہوں کو جڑ سے مٹا کر رکھ دیتا ہے، اور توبہ سے گزشتہ تمام پاپ منہدم ہو جاتے  ہیں۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"اگر کوئی مرتد  توبہ کر لے تو کیا اس پر سابقہ نماز روزے کی قضا لازم ہو گی؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"اس پر قضا واجب نہیں ہو گی ؛ کیونکہ اللہ تعالی توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے، اگر کوئی شخص عمداً نماز چھوڑ دے ، یا نواقضِ اسلام میں سے کسی پر عمل کر لے پھر اللہ تعالی اسے ہدایت دے  اور وہ توبہ کر لے تو اس پر نماز کی قضا  نہیں ہے۔

اہل علم کی آراء میں سے یہی رائے درست ہے؛ کیونکہ اسلام سابقہ تمام گناہوں کو جڑ سے مٹا کر رکھ دیتا ہے، اور توبہ سے گزشتہ تمام پاپ منہدم ہو جاتے ہیں۔
فرمانِ باری تعالی ہے:
( قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ )
ترجمہ: آپ کفار سے کہہ دیں کہ: اگر وہ باز آ جائیں تو ان کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔[الأنفال:38]
یہاں اللہ تعالی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کافر جس مسلمان ہو جائے تو اللہ تعالی اس کی گزشتہ تمام خطائیں معاف فرما دیتا ہے۔

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و سلم  کا فرمان ہے: (کیونکہ توبہ سابقہ تمام گناہوں کو جڑ سے مٹا کر رکھ دیتی ہے، اور اسلام لانے سے گزشتہ تمام پاپ منہدم ہو جاتے ہیں)انتہی
" مجموع فتاوى ابن باز " (29/ 196)

اسی طرح دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی میں ہے کہ:
"مرتد شخص اگر دائرہ اسلام میں دوبارہ داخل ہو جائے تو اس پر مرتد ہونے کی حالت میں چھوڑے ہوئے نماز، روزے اور زکاۃ وغیرہ  کی قضا نہیں ہے۔

اسی طرح مرتد ہونے سے پہلے اس کے کئے ہوئے نیک اعمال بھی  ضائع نہیں ہونگے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے اس کے اعمال کے ضائع ہونے کو کفر پر موت کے ساتھ منسلک فرمایا ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
( إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ )
ترجمہ: بیشک جو لوگ کفر کریں اور کفر کی حالت میں ہی مر جائیں  ۔[البقرة:161]
اسی طرح فرمایا:
( وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ )
ترجمہ: اور تم میں سے اگر کوئی اپنے دین سے مرتد ہو جائے پھر اس حالت میں مرے کہ وہ کافر ہی ہو تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں  ضائع ہو گئے ۔[البقرة:217]"انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (2/ 9)

اس بنا پر ؛ اگر آپ واقعی مرتد ہو کر دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی ہیں اور سچی توبہ کر لی ہے ، نیز دیگر تمام ادیان کو آپ نے چھوڑ دیا ہے تو پھر آپ پر جان بوجھ کر چھوڑے ہوئے نماز روزے میں سے کسی کی بھی قضا نہیں ہے، اسی طرح پہلے سال یا اس کے بعد کے سالوں میں یا پھر ایام حیض میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا بھی آپ پر نہیں ہے۔

آپ کثرت سے استغفار کرتی رہیں، کثرت سے نوافل ادا کریں اور مستقبل میں نماز روزوں کی خوب پابندی کریں، کسی قسم کی سستی کا شکار مت ہوں۔

ہم اللہ تعالی سے اپنے اور آپ کیلیے ہدایت، اور اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق اور مرتے دم تک دین پر ثابت قدمی کی دعا کرتے ہیں ۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں