منگل 18 شعبان 1440 - 23 اپریل 2019
اردو

ایک شخص کا دعوی ہے کہ اس کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں، اور وہ مسجد بنا کر انہیں اس میں محفوظ کرنا چاہتا ہے!

224579

تاریخ اشاعت : 25-03-2015

مشاہدات : 3903

سوال

سوال: میں جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرلا سے تعلق رکھتا ہوں، یہاں ایک مسلمان بااثر شخصیت نے یہ دعوی کیا ہے کہ اس کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک ہے، اور وہ ایک مسجد بنا کر اس میں اس بال کو محفوظ کریگا، اس شخص نے اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر دیندار طبقے میں ایک بحران پید اکر دیا ہے، جس میں تبرّک کا مسئلہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بارے میں کتاب و سنت کی روشنی میں تفصیلی وضاحت فرما دیں۔

جواب کا خلاصہ:

لہذا ساری تفصیل کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ: مزعومہ  بال سے تبرک حاصل کرنا جائز نہیں ہے، اور یہ شرک کا ذریعہ ہے؛ کیونکہ اس بال کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف  ثابت کرنا محال ہے، اسی طرح اس بال کو محفوظ رکھنے کیلئے مسجد بنانا بھی  جائز نہیں ہے،  اور اگر بفرضِ محال ہم مان بھی لیں  کہ یہ بال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے، اس کیلئے متصل سند بھی مل جائے تب بھی اس  کیلئے مسجد بنانا جائز نہیں ہوگا۔ مزید معلومات کیلئے آپ سوال نمبر: (147225) کا جواب ملاحظہ کریں۔ واللہ اعلم.

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت دور میں آپ کے آثار مبارکہ  سے تبرک حاصل کرنا صحابہ کرام کا طریقہ عمل تھا، اس کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی، آپکے کپڑے، کھانا،  بچا ہوا پانی، بال، اور آپکی ہر چیز کو استعمال  کیا جاتا تھا۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو چھو جانے والی اشیا سے تبرّک حاصل کرنا  بھی عہد صحابہ میں موجود تھا، اور یہی عمل تابعین نے بھی جائز قرار دیا ہےکیونکہ اس میں  حقیقی طور پر خیر و برکت  ہے، اور اسی عمل پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو برقرار رکھا، منع نہیں فرمایا۔

چنانچہ  "الموسوعة الفقهية" (10/ 70) میں ہے کہ:
"علمائے کرام کا نبی صلی  اللہ علیہ وسلم  کی باقیات سے تبرک حاصل کرنے کے بارے میں اتفاق ہے کہ یہ شرعی عمل ہے، چنانچہ سیرت ، حدیث نبوی اور شمائل  پر تصانیف لکھنے والوں نے ایسی  بہت سی احادیث ذکر کی ہیں جن میں صحابہ کرام کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد باقیات و آثار سے تبرک حاصل کرنے کا ذکر ہے" انتہی
مزید کیلئے آپ سوال نمبر: (10045) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:
اس انداز سے تبرّک  صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باقیات سے حاصل کیا جا سکتا ہے، چنانچہ کسی امتی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، لہذا  نیک صالح لوگوں کے باقی ماندہ آثار سے  تبرّک حاصل کرنا گھناؤنی  بدعت ہے، اور یہ عمل شرک کا دروزاہ ثابت ہوسکتا ہے۔

چنانچہ ابن عثیمین رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے، لعاب، لباس، اور بال سے تبرّک حاصل کیا کرتے تھے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور  کی باقیات سے  تبرّک حاصل کرنا  کسی صورت درست نہیں ہے، لہذا کسی انسان کے لباس، بال، ناخن اور دیگر اشیاء سے تبرّک حاصل کرنا جائز نہیں ہے، صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باقیات سے تبرّک حاصل کیا جاسکتا ہے" انتہی
"شرح رياض الصالحین" (4/ 243)

سوم:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باقیات میں سے اس وقت کسی چیز کے موجود ہونے کے بارے میں ٹھوس ثبوت نہیں ہیں ، اور  ایسی چیزوں کے بارے میں دعوی کرنے والوں کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ اشیاء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں، لہذا اس بنا پر کوئی بھی شخص  اپنے قبضے میں موجود اشیاء کے بارے میں ٹھوس  دلیل دئیے بغیر یہ دعوی نہیں  کر سکتا کہ یہ چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں! لیکن اسے اس بارے میں ٹھوس شواہد کہاں ؟!

علامہ  احمد پاشا تیمور عظیم مؤرخ  ہیں، کہتے ہیں:
"آپکی وفات کے بعد لوگوں میں  موجود موئے مبارک  ان بالوں میں سے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام میں تقسیم کیے تھے، لیکن اس وقت  مشکل یہ ہے کہ صحیح اور غلط میں  فرق کیسے کیا جائے؟" انتہی
"الآثار النبوية" از: احمد پاشا تيمور(91)

علامہ محدث ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ  ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باقیات مبارکہ سے برکت حاصل کرنے پر ایمان رکھتے ہیں، ہم اسکا بالکل بھی انکار نہیں کرتے، ہمارے مخالفین   کی باتوں سے  یہی وہم پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہم اسکا انکار کرتے ہیں۔

تاہم اس تبرّک کیلئے کچھ شرائط ہیں، جن میں سب سے پہلے  یہ ہے کہ ایسا ایماندار  شخص ہو جس کا ایمان شرعی طور پر قابل قبول ہو ، چنانچہ جو شخص مسلمان ہی نہیں ہے اسے اللہ تعالی اس تبرّک کی وجہ سے خیر و بھلائی عطا نہیں فرمائے گا، اسی طرح یہ بھی شرط ہے کہ تبرّک حاصل کرنے والے کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باقیات یا آپکے استعمال میں آنے والی اشیا میں سے کوئی چیز لازمی ہو۔

اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس، بال، اور دیگر اشیاء نا پید ہو چکی ہیں، اور اب کسی کیلئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ  کسی بھی چیز کی یقینی طور پر  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت ثابت کر دے، اگر معاملہ اتنا ہی  مشکل ہے  تو اس دور میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف منسوب ان باقیات سے تبرک حاصل کرنے والا معاملہ آپ کے حقیقی آثار سے تبرک کے موضوع سے حد درجہ مختلف ہے، حقیقی تبرک کی حیثیت ایک نظریاتی بحث سے زیادہ نہیں ہے ، لہذا اس مسئلہ  میں لمبی چوری گفتگو کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔" انتہی
"التوسل أنواعه وأحكامه " (144)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپکے موئے مبارک  سے تبرّک حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا:
"اس سوال کا جواب یہ ہے کہ: اب کسی صورت میں یہ ثابت کرنا ہی ناممکن ہے کہ یہ بال رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم کا ہے،  لوگوں میں مشہور ہے کہ مصر کے ایک عجائب گھر میں موجود ہے تو یہ بات درست نہیں ہے، اور نہ ہی وہاں کوئی حقیقی بال   ہے۔

صحابہ کرام  اس بارے میں کوئی خاص اہتمام نہیں کرتے تھے، صرف ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ان کے پاس رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ایک چاندی کی  شیشی میں موجود تھے،  جب کوئی بیمار ہوتا تو  موئے مبارک پر پانی ڈال کر شیشی کو اچھی طرح ہلاتی اور پھر پانی پلا دیتیں۔

اس لئے اب یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ بال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی بال ہے۔

جبکہ اہم ترین بات یہ ہے کہ  جو معنوی اور شرعی  آثار [مراد: شریعت]ہیں ان کا اہتمام کرنا ضروری ہے، اور  جسمانی آثار صرف آثار کا درجہ رکھتے ہیں، اگرچہ دلی میلان ایسی چیزوں کی طرف بہت زیادہ ہوتا ہے، لیکن پھر بھی شرعی آثار سب سے اہم ہیں" انتہی
"دروس از: شيخ  ابن عثیمین" (2/ 64) بمطابق شاملہ ترتیب

مزید رہنمائی کیلئے آپ سوال نمبر: (91969) ، (100105)  اور:(204831) کا مطالعہ کریں۔

جس شخص کو دینی و دنیاوی امور میں واقعی آپ صلی  اللہ علیہ وسلم  سے تبرک حاصل کرنے کا شوق ہے تو  وہ ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے، آپکی سنت اپنائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے منع کردہ اقوال، اعمال، اور عقائد سے  دور رہے، یہی ہر خیر و برکت کا سر چشمہ ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مدینہ  کے پاس آئے اسی وقت  سے وہ لوگ  آپ سے  برکت حاصل  کرنے لگے، کیونکہ  انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد آپکی اطاعت کی،  اور اسی برکت کی وجہ سے انہیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل ہوئی، بلکہ کوئی بھی مؤمن  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد آپکی  اطاعت کرے تو اسے  اپنے ایمان و اطاعت کی  وجہ سے ضرور دنیاوی اور  اخروی  بے پناہ برکت حاصل ہوتی ہے، جس کی مقدار اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا" انتہی
"مجموع الفتاوى" (11/ 113)

شیخ البانی  رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی وجوہات کی بنا پر صحابہ کرام کو غزوہ حدیبیہ  وغیرہ میں  اپنے آثار مبارکہ سے  تبرک  حاصل کرنے  کو برقرار رکھا، اور  حدیبیہ کے موقع پر  یہ وجوہات کچھ زیادہ اہم تھیں، وہ یہ کہ  اس وقت کفارِ قریش کے سامنے مسلمانوں  کی اپنے نبی کے ساتھ والہانہ محبت اور تعلق  کا اظہار مقصود تھا، جس  کی وجہ سے کفار پر مسلمانوں کا رعب اور دبدبہ  بیٹھ گیا، کفار کو اندازہ ہو گیا کہ  مسلمان کس طرح آپ  کی خدمت اور تعظیم میں مجنوں بنے پھرتے ہیں۔
لیکن یہاں  پر یہ بات بھی قابل غور، اور  بیان کرنے کے قابل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس  غزوہ کے بعد  کمال حکمت و دانائی  کے ذریعے  مسلمانوں کو اس عمل سے دور کرنے کی کوشش فرمائی، اور انہیں اس عمل سے  ہٹا کر  اللہ کے ہاں  اس سے بھی بہتر عمل کی طرف رہنمائی فرمائی، اس کی دلیل درج  ذیل حدیث ہے:
عبد الرحمن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن وضو فرمایا؛ تو آپکے صحابہ  وضو کے پانی کو اپنے جسم پر ملنے لگے، تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہیں یہ کام کرنے  پر کس چیز نے آمادہ کیا؟) صحابہ کرام نے جواب دیا: (اللہ اور اسکے رسول کی محبت نے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرنا چاہتا ہے  اسے چاہیے کہ جب بھی بات کرے تو سچ بولے،  جب امانت اس کے پاس رکھوائی جائے تو   واپس کرتے وقت مکمل امانت واپس کرے، اور اپنے پڑوسی کیساتھ حسن سلوک سے پیش آئے) یہ حدیث ثابت ہے، اسکی متعدد سندیں طبرانی کی معجم  الصغیر  اور الکبیر  کیساتھ ساتھ دیگر کتابوں میں بھی موجود ہے" انتہی
"التوسل" (ص 145)

خلاصہ یہ ہوا کہ:
اس آدمی کا یہ دعوی  کہ اس کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بال مبارک ہے، تو یہ بے بنیاد اور دلیل سے عاری بات ہے، جسے آپ زبانی جمع خرچ کہہ سکتے ہیں، چنانچہ کسی شخص کو اس کی اس بات  پر یقین  نہیں کرنا چاہیے، اور جس طرح سے  اس نے دعوی کیا ہے  اس میں تو مزید شکوک و شبہات بڑھ جاتے ہیں، اگر وہ شخص سچا ہوتا تو  یہ مخفی رہنے والی بات ہی نہیں تھی، بلکہ  دنیا جہاں کو اس بات کا علم ہوتا، اور اسے ہر کوئی جانتا ہوتا۔

چہارم:

اس شخص  کا مسجد بنا کر اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بال مبارک رکھنے کا عزم کرنا مقبول نہیں ہے، بلکہ مردود ہے، کیونکہ اس میں یہودیوں اور عیسائیوں کی نقالی  اور صراطِ مستقیم سے انحراف پایا جاتا ہے۔

کسی بھی قوم کی آزمائش  غلو کرنے سے  ہوتی ہے، اور اسی غلو کی بنا پر اس قسم  کے افعال سر زد ہوتے ہیں، اور آخر کار انسان بدعت و گمراہی کا شکار آ جاتا ہے۔

بخاری: (427) اور مسلم: (528) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ : "ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے  حبشہ کے ایک کنیسہ اور اس میں موجود بنی ہوئی تصاویر کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ لوگ اپنے کسی نیک آدمی کے فوت ہونے پر اسکی  قبر  پر مسجد بنا دیتے  ، اور مسجد میں اس قسم کی تصاویر  بھی آویزاں کرتے، حقیقت میں  یہ لوگ اللہ کے ہاں قیامت کے بد ترین مخلوق ہونگے)"

اگر اس کام کی وجہ سے یہ لوگ اللہ کے ہاں قیامت کے دن بد ترین مخلوق ہونگے ، حالانکہ انہیں یقینی طور پر علم تھا کہ اس قبر میں  ایک نبی کا جسد مبارک ہی ہے، تو ایسے لوگوں کا کیا حال ہوگا جنہیں شیطان اپنے چنگل میں پھانس  کر  ایسی بات کے پیچھے لگا دیتا ہے جس کے بارے میں انہیں یقینی طور پر علم ہی نہیں ہے! اس [بال] کی  کوئی قابل اعتماد  سند نہیں ہے، پھر مزید برآں کہ وہ اس بے بنیاد بات پر ایک مردود عمل بھی کرنا چاہتا ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے [آثار نبوی پر] مسجد بنانے کی اجازت نہیں دی، بلکہ انہیں اس سے منع فرمایا، اور ایسے کام کرنے سے خبردار بھی کیا۔

اگر یہ عمل اتنا عظیم ہی تھا تو  صحابہ کرام نے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باقیماندہ آثار کو محفوظ کیوں نہیں کیا؟ ایک دوسرے کو ان آثار کی حفاظت کرنے کی تنبیہ  کیوں نہیں کی؟ انہیں مساجد میں محفوظ کیوں نہیں کیا؟!.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں