جمعرات 12 محرم 1446 - 18 جولائی 2024
اردو

انسان خود مختار اور صاحب ارادہ ہے، اور نیک یا بد بخت کون ہے یہ اللہ جانتا ہے۔

256427

تاریخ اشاعت : 15-01-2024

مشاہدات : 1154

سوال

کچھ عرصے سے میرے ذہن میں ایک پریشان کن سوال ہے، اور کچھ لوگوں سے میں نے اس حوالے سے بات بھی کی ہے لیکن پھر بھی مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ میں اس بات کو سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالی نے ہمیں اور جنوں کو ارادے کی آزادی عطا فرمائی ہے اور مجھے اس چیز کا حقیقی طور پر احساس بھی ہوتا ہے۔ لیکن صحیح بخاری کی کئی احادیث کے مطابق اللہ تعالی نے حقیقی طور پر یہ لکھا ہوا ہے کہ فلاں شخص متقی ہے یا فاسق، امیر ہے یا غریب، یا اسی طرح کی دیگر تقدیر میں لکھی گئی معلومات وغیرہ ۔ جیسے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اللہ تعالی نے رحم کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے تو وہ کہتا رہتا ہے کہ : اے رب! یہ نطفہ قرار پایا ہے۔ اے رب! اب علقہ یعنی جما ہوا خون بن گیا ہے۔ اے رب! اب مضغہ ( گوشت کا چبایا ہوا ٹکڑا ) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری کرے تو وہ پوچھتا ہے اے رب لڑکا ہے یا لڑکی؟ نیک ہے یا برا؟ اس کی روزی کیا ہو گی؟ اس کی موت کب ہو گی؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں۔) صحیح بخاری: (6595) اسی طرح سورت النحل کی آیت 93 میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ: وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَكِنَّ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَاءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ترجمہ: اور اگر اللہ چاہتا تو یقیناً تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا اور لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور یقیناً تم اس کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے۔ [النحل: 93]

تو مندرجہ بالا آیت اور حدیث سمیت دیگر بہت سی شرعی نصوص اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ہماری نیکیاں اور برائیاں دونوں ہی پہلے سے مقرر کی جا چکی ہیں۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالی کی جانب سے امتحان کی کیفیت میں ہیں جیسے کہ اللہ تعالی نے سورت العنکبوت کی پہلی آیت اور دیگر آیات میں بیان فرمایا ہے لیکن نیک یا بد عمل کرنے کی مکمل آزادی بھی ہمیں حاصل ہے۔

پھر کچھ آیات اور احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ شیطان سے بھی پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی صلاحیتوں اور مکاریوں کو استعمال کرتے ہمیں کیوں گمراہ کیا؟ تو شیطان کو ہماری اندرونی اور بیرونی کیفیت کا علم ہوتا ہے لیکن ہمیں شیطان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:
مکلف شخص چاہے جنوں سے تعلق رکھے یا انسانوں سے اسے قدرت، آزادانہ ارادہ اور اختیار حاصل ہے، انہی کی بدولت مکلف شخص ایمان لاتا ہے اور انکار کرتا ہے، اطاعت گزاری اور نافرمانی کرتا ہے، اسی کی طرف اللہ تعالی کے فرمان میں اشارہ ہے کہ:
وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا
 ترجمہ: اور کہہ دے: یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے، اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے؛ یقیناً ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کی ہے جس کی طنابیں انہیں اپنے گھیرے میں لیے ہوں گی۔[الکھف: 29]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:
إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (2) إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا
ترجمہ: بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا بنا دیا۔ [2] بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔ [الدھر: 2 - 3]

چنانچہ جس وقت مکلف شخص کو آزاد ارادہ اور خود مختاری دی گئی تو تبھی اس کے اعمال کا اسے بدلہ دیا جائے گا، اگر اچھے عمل کیے ہوں گے تو اچھا بدلہ اور اگر برے عمل ہوں گے برا بدلہ ملے گا، اور ہمارا رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا، اسی لیے فرمایا: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ترجمہ: تو جو بھی ذرے برابر خیر کا عمل کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا [7] اور جو کوئی ذرے برابر بد عملی کرے گا تو وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔ [الزلزلہ: 7 - 8]

اور اگر انسان اپنے اعمال میں مجبور محض ہو تو جبرا کروائے گئے اعمال پر اسے عذاب دینا اس پر ظلم ہے، اور اللہ تعالی ظلم سے پاک ہے۔

ہر انسان ارادے کی آزادی کو محسوس کرتا ہے؛ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ نیکی کے لیے کوئی بھی اسے نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کرتا، یا زبردستی مسجد نہیں بھیجتا، بالکل ایسے ہی برائی کے لیے بھی کوئی اسے حرام کام پر مجبور نہیں کرتا نہ ہی حرام کام کی جگہ پر جبرا کوئی اسے لاتا ہے۔

دوم:
جب ہمیں یہ یقین ہے کہ اللہ تعالی کی ذات ہی خالق ہے، تو اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ اللہ تعالی کو بندے کے مستقبل کے اعمال، بندے کے انجام، اس کے شقی اور سعید ہونے کا علم ہو؛ کیونکہ اللہ تعالی کو یہ چیزیں پہلے سے ہی معلوم ہیں، نیز اللہ تعالی نے ان معلومات کو اپنے ہاں لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، چنانچہ جس وقت بچہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اللہ تعالی فرشتے کو یہ تمام معلومات لکھنے کا حکم دیتا ہے۔

لیکن اللہ تعالی کا پیشگی علم انسان کے لیے غیب ہے، انسان کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا، نہ ہی انسان کو کسی کام کرنے یا نہ کرنے پر اسے مجبور کیا جاتا ہے، اس لیے انسان کے پاس ایک ہی راہ رہ جاتی ہے کہ انسان اچھی کارکردگی دکھائے؛ کیونکہ انسان کو اس کے اعمال کے مطابق ہی اجر دیا جائے گا، بالکل اس طالب علم کی طرح جسے ایک کتاب پڑھنے کے لیے دی جاتی ہے اور اسی کتاب میں سے اس کا امتحان لیا جاتا ہے، چنانچہ اگر طالب علم کے متعلق استاد کو اندازہ ہو کہ اس کے شاگرد کا نتیجہ کیسا ہو گا؟ پھر بھی اگر طالب علم محنت کرے تو کامیاب ہو جاتا ہے اور اگر محنت نہ کرے تو فیل ہو جاتا ہے۔ طالب علم کے نتیجے کو استاد کے اندازے اور تخمینے کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا، وہ ہر صورت میں طالب علم کی محنت کا نتیجہ ہے۔

طالب علم کی مثال صرف سمجھانے کے لیے بیان کی گئی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کے لیے صرف اعلی مثالیں ہی روا ہیں۔ لہذا اللہ تعالی تو انسان کا خالق بھی ہے، اور آنکھوں کے اشاروں اور دلوں کے رازوں تک کو جانتا ہے، اپنے بندے کے تمام تر حالات سے واقف ہے، پھر مزید بر آں وہ ذات تو وہ ہے کہ: أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ترجمہ: خبردار! جس ذات نے پیدا کیا ہے وہ سب جانتی ہے، اور وہ نہایت لطیف اور باخبر ذات ہے۔[الملک: 14]

سوم:
اللہ تعالی جسے چاہے گمراہ کر دے ، اور جسے چاہ راہ رو بنا دے، یہ اللہ تعالی کا اختیار ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
 ترجمہ: اللہ تعالی جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت دے دے، وہی غالب اور حکمت والا ہے۔[ابراہیم: 4]

{ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَكِنَّ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَاءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ}
ترجمہ: اور اگر اللہ چاہتا تو یقیناً تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا اور لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور یقیناً تم اس کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے۔ [النحل: 93]

مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي وَمَنْ يُضْلِلْ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
 ترجمہ: جس کی رہنمائی اللہ تعالی فرمائے وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے چاہے گمراہ کر دے تو یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔ [الاعراف: 178]

اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والی ہدایت دو طرح کی ہے: ہدایتِ عامہ اور ہدایتِ خاصہ

-ہدایت عامہ: سے مراد رہنمائی، حق بیان کرنا اور بتلانا ہوتا ہے، اس معنی میں ہدایت کا استعمال درج ذیل آیت میں ہوا ہے جس میں اللہ تعالی نے فرمایا:
وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى فَأَخَذَتْهُمْ صَاعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
 ترجمہ: اور جو ثمود تھے تو ہم نے انہیں ہدایت دی مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنے کو پسند کیا تو انہیں ان کی اپنی کارستانیوں کی وجہ سے ذلیل کرنے والے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا۔ [فصلت: 17] تو یہاں پر ہدایت سے مراد راستہ دکھانا ہے۔

اسی طرح ایک اور جگہ پر فرمایا:

إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا
ترجمہ: بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔ [الدھر: 3]

-ہدایت خاصہ: یہ قسم اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نیک کام کی توفیق ملے، اچھے کام کے لیے مدد اور تسلسل سے رہنمائی حاصل ہو، اس معنی میں ہدایت کا استعمال اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے:
أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ
 ترجمہ: یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے ہدایت دی ہے، پس آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کریں، کہہ دیں: میں تم سے اس پر کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا؛ یہ تو تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔[الانعام: 90]

اسی طرح اللہ تعالی کے اس فرمان میں استعمال ہوا ہے کہ:
وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحاً مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلا الْأِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُوراً نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
 ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے؟ اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ پر چلاتے ہیں اور بلاشبہ تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ [الشوری: 52]

اسی معنی میں ایک اور مقام پر فرمانِ باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
 ترجمہ: اور وہ لوگ جنہوں نے ہمارے بارے میں پوری کوشش کی ہم ضرور ہی انہیں اپنے راستوں پر چلا دیں گے اور بلاشبہ اللہ یقیناً نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ [العنکبوت: 69]

اسی ہدایت خاصہ کا تذکرہ دیگر الفاظ کے ساتھ یوں بھی ہے کہ:
وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (7) فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
ترجمہ: اور جان لو کہ بے شک تم میں اللہ کا رسول ہے، اگر وہ بہت سے کاموں میں تمھارا کہا مان لے تو یقیناً تم مشکل میں پڑجاؤ اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کردیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ ہدایت والے ہیں۔ [7] اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور کمال حکمت والا ہے۔ [الحجرات: 7 - 8]

جبکہ قرآن کریم میں ذکر ہونے والے اضلال [دوسروں کو گمراہ کرنا] کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی بندے کو اسی کے حال پر چھوڑ دے ، کامیابی اور مدد کے اسباب وغیرہ مہیا نہ فرمائے۔

چنانچہ علامہ طحاوی رحمہ اللہ اپنی عقیدے کے مشہور کتاب میں کہتے ہیں :
"اللہ تعالی جسے چاہے ہدایت دے کر غلطی سے معصوم بنا دے اور اسے عافیت سے نوازے یہ اللہ تعالی کا فضل ہے، اور جسے چاہے گمراہ کر کے رسوا اور آزمائش میں ڈال دے تو یہ اس کا عدل ہے۔ لہذا ساری مخلوقات اللہ تعالی کے فضل اور عدل کے درمیان ہی زندگی بسر کرتے ہیں۔"

تو اہل سنت کے ہاں اللہ تعالی کی طرف سے ہدایت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندے کی مدد فرمائے، اسے راہ راست پر رکھے اور معاملات اس کے لیے آسان فرما دے۔

جبکہ گمراہی اور رسوائی یہ ہے کہ: اللہ تعالی بندے کو تنہا اسی کی حالت پر چھوڑ دے اس کی مدد اور اعانت نہ فرمائے۔

تو یہاں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی مدد کیوں فرمائی اور فلانے کی مدد کیوں نہیں فرمائی؟

کیونکہ اللہ تعالی رہنمائی عطا کرے تو یہ اللہ کا فضل ہے، اور اگر رہنمائی نہ کرے تو یہ اللہ تعالی کا عدل ہے، اور اللہ تعالی کے اعمال کے متعلق اللہ تعالی سے نہیں پوچھا جا سکتا کہ اللہ تعالی نے یہ کام ایسے کیوں کیا؟ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ترجمہ: جو اللہ کرے اس کے بارے میں تفتیش نہیں کی جاتی ، جبکہ مخلوقات سے تفتیش کی جائے گی۔[الانبیاء: 23] یہ سب کچھ اس لیے نہیں کہ اللہ تعالی صاحب قدرت اور قاہر ذات ہے، بلکہ اس لیے کہ اللہ تعالی کا ہر کام علم، قدرت، رحمت اور حکمت کا مرقع ہے؛ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی احکم الحاکمین اور ارحم الراحمین ذات ہے، اللہ تعالی تو اپنے بندے کے ساتھ اس کی والدہ سے بھی بڑھ کر شفقت والا معاملہ فرماتا ہے پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اللہ تعالی نے تو تمام تر مخلوقات کو بہترین انداز سے پیدا فرمایا ہے۔" ختم شد
فتاوى شيخ الاسلام ابن تیمیہ: (8/79)

پھر اللہ تعالی کو یہ بھی علم ہے کہ کون اللہ تعالی کے فضل کا مستحق ہے، اور کون مستحق نہیں ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
 ترجمہ: لیکن اللہ تعالی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جانتا ہے۔[القصص: 56]

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ
 ترجمہ: اور ہم نے اسی طرح انہیں ایک دوسرے کے ذریعے آزمائش میں ڈالا تا کہ وہ کہہ دیں: کیا ہم میں سے یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی نے احسان فرمایا؟! تو کیا اللہ تعالی شکر گزاروں کو زیادہ نہیں جانتا؟[الانعام: 53]

الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس اہم مسئلے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"جب ہر چیز کا تعلق اللہ تعالی کی مشیئت کے ساتھ اس طرح ہے کہ تمام امور کی باگ ڈور اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، تو پھر انسان کا اس میں کیا کردار ہے؟! اگر اللہ تعالی نے انسان کے مقدر میں گمراہی لکھ دی ہے کہ اسے کبھی ہدایت نہیں مل سکتی تو انسان اب کیا کر سکتا ہے؟
اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں: اللہ تعالی اسی کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت کے اہل ہو، اور اسی کو اللہ تعالی گمراہ رکھتا ہے جو گمراہی کا اہل ہو، چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ
 ترجمہ: تو جب وہ ٹیڑھے ہوئے تو اللہ تعالی نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا فرما دیا۔ [الصف: 5]

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظّاً مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ
 ترجمہ: پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرما دی اور ان کے دل سخت کر دیے کہ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ انہیں نصیحت کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے ۔[المائدہ: 13]

تو یہاں پر اللہ تعالی نے بالکل واضح فرمایا کہ اگر اللہ تعالی کسی کو گمراہ کرتا ہے تو اس کی وجہ اس بندے کے اپنے اعمال ہوتے ہیں، پھر دوسری طرف یہ بھی ہے کہ بندے کو کیا معلوم کہ اللہ تعالی نے اس کے لیے کیا لکھا ہوا ہے؟! بندے کو تقدیر کا تبھی معلوم ہوتا ہے جب مقدر میں لکھی ہوئی چیز سامنے آتی ہے، تو اسے کیسے معلوم ہو گا کہ اللہ تعالی نے اس کے لیے ہدایت لکھی ہوئی ہے یا گمراہی؟!

لیکن پھر بھی گمراہی کے راستے پر اپنی مرضی سے چلتے ہوئے یہ دعوی کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس کے لیے گمراہی مقدر میں لکھی ہوئی تھی!!

تو یہاں یہ ٹھیک نہیں تھا کہ انسان اپنی مرضی سے ہدایت کے راستے پر چلتا اور پھر کہتا کہ اللہ تعالی نے مجھے صراط مستقیم کی ہدایت دی ہے!!" ختم شد
ماخوذ از: رسالة في القضاء والقدر، صفحہ: ص14

اس حوالے سے مکمل گفتگو سوال نمبر: (220690 ) کے جواب میں ملاحظہ فرمائیں۔

تو حاصل کلام یہ ہوا کہ:

1-مکلف شخص کو مکمل ارادی خود مختاری اور آزادی حاصل ہے، اسی لیے مکلف شخص اپنی مرضی سے اطاعت یا معصیت بجا لاتا ہے، اور انہی اعمال کا اسے بدلہ بھی دیا جائے گا۔

2-اللہ تعالی کو اپنے بندے کے انجام کا علم ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا، اور اللہ تعالی نے یہ اپنے پاس لکھا ہوا ہے۔

3-اللہ تعالی جسے چاہے تنہا چھوڑ دے اور اس کی مدد و اعانت نہ فرمائے؛ کیونکہ مدد اللہ تعالی کا فضل ہے، جبکہ تنہا چھوڑنا اللہ تعالی کا عدل ہے۔

5-کامیاب بندہ وہی ہے جو اللہ تعالی سے مدد اور اعانت مانگتا رہتا ہے؛ کیونکہ پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے فضل کے بغیر وہ نہیں رہ سکتا، اسی لیے اللہ تعالی نے سورت الفاتحہ میں فرمایا: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ترجمہ: ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ [الفاتحہ: 5]

تو نظام زندگی اور دین کی بنیاد انہی دو چیزوں پر ہے: عبادت اور استعانت

6-مومن بندہ اللہ تعالی کے فضل کا اقرار کرتا ہے، اللہ تعالی کی نعمتوں کے حصول کا اعتراف اپنی زبان پر جاری رکھتا ہے، کسی بھی بھلائی اور خیر کی توفیق کی نسبت اللہ تعالی کی طرف ہی کرتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی نے اہل جنت کے بارے میں قرآن کریم میں فرمایا:
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
 ترجمہ: ان اہل جنت کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کے خلاف کچھ کدورت ہو گی تو ہم اسے نکال دیں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ کہیں گے : تعریف تو اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ (جنت کی) راہ دکھائی اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم کبھی یہ راہ نہ پا سکتے تھے۔ ہمارے پروردگار کے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے، اس وقت انہیں صدا آئے گی: تم اس جنت کے وارث بنائے گئے ہو اور یہ ان (نیک) اعمال کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ [الاعراف: 43]

یہاں غور کریں کہ کس طرح اس آیت کریمہ میں اللہ کے فضل اور ہدایت کو بیان کر کے یہ کہا گیا ہے کہ جنت ، اہل ایمان کے عمل کی وجہ سے ہی انہیں دی گئی ہے۔

اس لیے آپ ایسے وسوسوں کی طرف توجہ مت دیں، اور مفید سرگرمیوں میں اپنے آپ کو مشغول رکھیں؛ کیونکہ یہ دنیا عمل کی دنیا ہے، یہاں جو بیجو گے وہی آخرت میں کاٹو گے؛ کیونکہ آخرت کا دن بدلے اور کٹائی کا دن ہو گا، بلکہ اہل جنت بھی دنیا میں کسی ایسی گھڑی پر بھی حسرت کریں گے جو انہوں نے اللہ کے ذکر کے بغیر گزاری ہو گی، اس لیے آپ نیکیاں اور ان کے فضائل حاصل کرنے کے لیے بھر پور کوشش کریں، اپنے ذمہ واجبات اور حقوق ادا کریں، بلند درجات پانے کے لیے جد و جہد کریں، پھر اللہ تعالی سے قبولیت کی دعا کرتے ہوئے مزید توفیق اور اعانت طلب کریں۔

جبکہ شیطان تو اسی کوشش میں لگا ہوا ہے کہ وہ کس طرح تمہیں گمراہ کر دے، لیکن اللہ تعالی کے مخلص بندے شیطان کے چنگل میں آنے والے نہیں ہوتے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (98) إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (99) إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِينَ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ
 ترجمہ: پس جب قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرو [98] یقیناً شیطان کا زور ایمان لانے والوں اور اپنے رب پر توکل کرنے پر نہیں بالکل نہیں چلتا۔ [99]یقیناً اس کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کے دوست بنتے ہیں اور جو اسے اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ [النحل: 98 - 100]

پھر قیامت کے دن یہی شیطان اپنے پیروکاروں سے اظہار لاتعلقی کر دے گا، اور انہیں بتلائے گا کہ اس نے انہیں زبردستی گمراہ نہیں کیا تھا، محض شیطان نے انہیں صدا لگائی تو وہ شیطان کے پیچھے چل پڑے تھے!!چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
 ترجمہ: اور شیطان کہے گا، جب سارے معاملات کا فیصلہ کر دیا جائے گا کہ: " بے شک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی اور میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمھیں بلایا تو تم نے میرا کہنا مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمھاری فریاد کو پہنچنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو، بے شک میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے اس سے پہلے شریک بنایا۔ یقیناً جو لوگ ظالم ہیں انہی کے لیے درد ناک عذاب ہے"۔ [ابراہیم: 22]

ہم اللہ تعالی سے اپنے لیے اور آپ کے لیے توفیق، راہ روی، اور بھلائی کی دعا کرتے ہیں۔

ماخذ: الاسلام سوال و جواب