منگل 14 جمادی ثانیہ 1440 - 19 فروری 2019
اردو

کیا پراپرٹی کرایہ پر لے کر پھر قرض لینے کیلیےگروی پر دے سکتا ہے؟

سوال

سوال: مجھے بینک سے قرض لینے کی ضرورت پڑی اور بینک نے مجھ سے قرض کے بدلے میں پراپرٹی گروی رکھنے کا مطالبہ کیا؛ لیکن میرے پاس کوئی پراپرٹی نہیں تھی، اس پر میں نے اپنے ایک دوست سے مشورہ کیا تو اس نے مجھے ایک تجویز دی کہ: وہ مجھے بینک کے پاس پراپرٹی گروی رکھنے کے لئے اپنی پراپرٹی دے گا اور میں اسے اس کے عوض قرض کی مدت تک کل قرض کا 10 فیصد سالانہ منافع دوں گا، تو کیا یہ حلال ہے یا حرام؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر یہ معاملہ پراپرٹی کو کرایہ پر لیکر کیا جائے تو بظاہر اس معاملے میں کوئی حرج نظر نہیں آتا، مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے دوست سے اس کی پراپرٹی  کرائے پر لے لیں اس کیلیے حسب اتفاق سالانہ یا ماہانہ کرایہ مقرر ہو اور پھر آپ اس پراپرٹی کو بینک کے پاس گروی رکھوا دیں۔

شیخ منصور بہوتی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"گروی رکھوانے والے کیلیے گروی چیز کا مالک ہونا ضروری ہے، چاہے یہ ملکیت محض استعمال کی حد تک [عارضی ہو] حقیقی نہ ہو، مثلاً: انسان کسی چیز کو گروی رکھنے کیلیے کرائے پر لے لے، [اور دوسری صورت یہ ہے کہ]یا پھر اس نے وہ چیز کسی سے گروی رکھنے کیلیے عاریۃً ادھاری لی ہو، ان دونوں صورتوں میں حقیقی مالک کی اجازت ضروری ہے، تو پھر اس چیز کو گروی رکھنا جائز ہو گا، [ان دونوں صورتوں میں] اگر قرض کے لیے چیز گروی رکھنے والا شخص حقیقی مالکان [کرایہ پر دینے والے یا عاریۃً ادھار دینے والے]کو قرضے کی مقدار نہ بھی بتلائے  تو بھی درست ہے، تاہم قرض لینے والے کیلیے بہتر یہ ہے کہ کرایہ پر دینے والے یا عاریۃً ادھار دینے والے کو متعلقہ چیز گروی رکھوانے کے متعلق بتلا دے کہ کتنی مقدار اور مدت کے قرضے کے عوض  یہ چیز گروی رکھوا رہا ہوں، تا کہ انہیں کوئی دھوکا نہ لگے" انتہی
"كشاف القناع عن متن الإقناع (8/ 154)

ہم نے یہی سوال اپنے شیخ محترم عبد الرحمن برّاک حفظہ اللہ کے سامنے رکھا تو انہوں نے بتلایا کہ:

اگر اجارہ کے طور پر یہ معاملہ کیا جائے تو جائز ہے، یعنی: جتنی دیر کیلیے گروی رکھوانی ہے اتنی دیر کیلیے کرایہ پر حاصل کر لے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں