بدھ 13 جمادی ثانیہ 1442 - 27 جنوری 2021
اردو

کیا غصے کی حالت میں ظہار ہو جاتا ہے؟

330605

تاریخ اشاعت : 01-01-2021

مشاہدات : 164

سوال

غصے کی حالت میں ظہار کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسا ظہار ہو جاتا ہے؟ یا اس پر بھی غضب کی تینوں حالتیں لاگو ہو سکتی ہیں جیسے کہ طلاق کے معاملے میں ہوتی ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول: مسلمان جو باتیں بلا اختیار اور غیر ارادی طور پر کر دے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔

جب کوئی مسلمان اپنی ذات پر اثر انداز ہونے والے کلمات زبان سے نکالے تو ان پر مواخذہ اسی وقت ہو گا جب مسلمان انہیں عمداً، مکمل اختیار اور دلی ارادے کے ساتھ کہے، اس بارے میں بنیادی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے: (یقیناً تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کی انسان نیت کرے) اس حدیث کو امام بخاری: (1) اور مسلم : (1907)نے روایت کیا ہے۔

لیکن جو باتیں غیر ارادی طور پر زبان سے نکل جائیں یا بلا اختیار نکلیں ، جیسے کہ جبری طور پر کسی سے کچھ کہلوانا یا غلطی سے کسی بات کا نکل جانا تو دونوں صورتوں میں مواخذہ نہیں ہو گا۔

اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
 ترجمہ: اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ اگر کوئی شخص اچھا کام کرے گا تو اسی کو اس کا اجر ملے گا اور اگر برا کام کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے ۔ ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی سے کوئی گناہ کر بیٹھیں تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا! اے ہمارے پروردگار! ہم پر اتنا بوجھ نہ ڈال جتنا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے پروردگار! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں وہ ہم سے نہ اٹھوانا۔ ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مولیٰ ہے لہذا کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ [البقرۃ: 286]

علامہ الشیخ محمد الامین شنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"فرمان باری تعالی :   رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا   [ترجمہ: ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی سے کوئی گناہ کر بیٹھیں تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا]میں اللہ تعالی نے یہ نہیں بتلایا کہ بھول چوک اور غلطی سے ہو جانے والی خطائیں معاف کرنے کی دعا اللہ تعالی نے قبول کی یا نہیں؟ تاہم دوسری جگہ پر اللہ تعالی نے اشارہ فرما دیا ہے کہ غلطی کے متعلق ان کی دعا قبول ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
 وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا  
ترجمہ: اور کوئی بات تم غلطی کی بنا پر کہہ دو تو اس میں تم پر کوئی گرفت نہیں، تاہم جو دل کے ارادے سے کہو [اس پر ضرور گرفت ہو گی۔]اللہ تعالی یقیناً معاف کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔ [الاحزاب: 5]

نیز تیسری جگہ پر یہ بھی بتلا دیا کہ بھول چوک کی صورت میں ہونے والی غلطی کی معافی کی دعا بھی قبول فرما لی، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
  وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ  
 ترجمہ: اور اگر شیطان آپ کو بھلا دے تو یاد آ جانے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔ [الانعام: 68]
تو اس آیت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ یاد آنے سے پہلے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔۔۔
مزید برآں صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ: (نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس وقت آیت پڑھی:  رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا   [ترجمہ: ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی سے کوئی گناہ کر بیٹھیں تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا] تو پھر اللہ تعالی نے فرمایا: ہاں میں نے تمہاری یہ دعا قبول کر لی ہے۔)" ختم شد
ماخوذ از: "أضواء البيان" (1 / 312)

اسی طرح ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ بات جو ہم نے کہی ہے کہ الفاظ کی ادائیگی میں نیت اور مقصد کا اعتبار ہوتا ہے، اور یہ کہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ پر اس وقت تک حکم نہیں لگتا جب تک متکلم ان الفاظ کو قصداً نہ بولے اور ان الفاظ کے موجب بننے والے احکامات کا ارادہ نہ رکھے، اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ متکلم مکمل اختیار سے اور ارادۃً وہ الفاظ بولے؛ چنانچہ دو طرح کے ارادوں کا پایا جانا ضروری ہے: اختیاری طور پر ان الفاظ کو بولنے کا ارادہ کرے اور ان الفاظ کے معنی اور تقاضوں کا ارادہ کرے، بلکہ یہاں پر معنی اور تقاضوں کا ارادہ الفاظ بولنے کے ارادے سے زیادہ ضروری ہے؛ کیونکہ اصل مقصود تو معنی اور نتائج ہی ہوتے ہیں جبکہ الفاظ ان معانی کو بیان کرنے کا ذریعہ اور وسیلہ بنتے ہیں، علمائے اسلام میں سے مفتیانِ کرام کا یہی موقف ہے۔۔۔" ختم شد
"أعلام الموقعين" (4 / 447)

دوم: غصے کی حالت میں ظہار اور طلاق

مذکورہ بالا تفصیل کی بنیاد پر غصہ کرنے والے شخص کے اقوال کو دیکھا جاتا ہے؛ چنانچہ غصے کی حالت میں اگر کوئی بھی شخص اپنی بات سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے، یا پھر الفاظ کا چناؤ اچھا نہیں کر پاتا اور انسان غصے کی وجہ سے غیر ارادی طور پر ایسے الفاظ بول جاتا ہے جو وہ نہیں بولنا چاہتا تھا، تو ایسے میں محض زبان سے الفاظ ادا ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہے، نہ ہی اس کی بات پر مزید احکامات لاگو ہوں گے، یہ بات طلاق کے مسئلے میں بالکل واضح نص میں موجود ہے۔

جیسے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (سخت غصے کی حالت میں طلاق یا غلام آزاد نہیں ہوتا۔) اس حدیث کو ابو داود: (2193) نے روایت کیا ہے اور البانیؒ نے اسے تمام اسانید کو جمع کر کے "إرواء الغليل" (7 / 113) میں حسن قرار دیا ہے، نیز امام ابو داودؒ حدیث کے عربی لفظ: { الْغِلَاقُ } کا معنی ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: اس سے مراد غصہ ہے۔"

اسی طرح ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ایسا غصہ جو انسان کو اپنی ہی بات سمجھنے نہ دے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کس سمت جا رہا ہے تو یہ بہت سخت نوعیت کا غصہ ہے ایسی حالت میں انسان پاگل، نشہ زدہ اور برسام نامی بیماری میں مبتلا شخص کے حکم میں ہوتا ہے، بلکہ نشہ زدہ شخص سے بھی زیادہ بری حالت میں ہوتا ہے؛ کیونکہ نشئی کبھی بھی اپنے آپ کو قتل نہیں کرتا نہ ہی اپنے بچے کو اوپر سے نیچے گراتا ہے، لیکن غصے کی حالت میں انسان ایسا کر جاتا ہے، تو اس اعتبار سے غصے کی حالت میں طلاق نہ ہونے کے بارے میں تو اختلاف سرے سے پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے، چنانچہ مذکورہ حدیث میں غصے والا شخص قطعی طور پر داخل ہو گا۔ " ختم شد
"إغاثة اللهفان" (ص 19)

اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر غصہ عقل میں تغیر پیدا کر دے تاہم عقل زائل نہ ہو تو بھی طلاق واقع نہیں ہو گی؛ کیونکہ غصے نے ہی طلاق تک پہنچایا ہے اور طلاق دینے پر ابھارا ہے، اور اپنے آپ کو سکون پہنچانے کے لیے طلاق جیسے ناگوار معاملے میں ملوث ہو گیا، اس طرح غصے کی حالت میں طلاق دینے والا غصے کے سامنے مجبور ٹھہرا اور اسے طلاق کے معاملے میں مکمل اختیار نہ رہا، یہی وجہ ہے کہ غصے کی حالت میں اپنی جان اور مال پر کی گئی بد دعا قبول نہیں کی جاتی اور نہ ہی غصے کی حالت میں نیکی کے کام کی مانی ہوئی نذر لازم ہوتی ہے۔" ختم شد
"الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف" (22 / 138 - 139)

چنانچہ جو بات طلاق کے بارے میں ہو گی وہی ظہار کے متعلق ہو گی؛ کیونکہ دونوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔

لیکن اگر غصے کی وجہ سے بات کرنے والے پر اتنا اثر نہیں پڑتا کہ وہ اپنی بات سمجھ نہ سکے، یا الفاظ کا بہتر چناؤ نہ کر سکے، اتنی معمولی نوعیت کا غصہ ہو کہ اپنی بات پر کنٹرول کر سکے، تو ایسی حالت میں اپنی زبان سے نکلنے والے الفاظ کا مکمل ذمہ دار ہو گا ۔

چنانچہ الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
"میری شادی میری چچا زاد سے ہوئی ہے، ان سے میرے پانچ بچے ہیں، میرا اپنی اہلیہ سے معمولی اختلاف ہوا جس پر میری اہلیہ مجھ سے اصرار کے ساتھ طلاق مانگتی رہی۔۔۔ مجھے غصہ آیا اور میں نے اسے کہہ دیا: تمہیں طلاق ہے، اور تم مجھ پر حرام ہو، تم دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں میرے لیے میری ماں جیسی ہو، تو اس کا کیا حکم ہے؟"

اس پر انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا:
"سب سے پہلے تو ہم پوچھیں گے کہ غصہ کس قدر تھا؟ کیا اتنا شدید غصہ تھا کہ تمہیں علم ہی نہیں ہوا کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟
اگر واقعی غصہ اتنا شدید تھا تو پھر تمہاری یہ باتیں کالعدم ہوں گی، نہ تو کوئی طلاق واقع ہوئی ہے اور نہ ہی ظہار ہوا ہے؛ کیونکہ شدید غصے کی حالت میں کہ انسان کو اپنی باتوں کا بھی نہ علم ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، انسان کی کہی ہوئی باتوں کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔

لیکن اگر غصہ اس سے کم درجے کا ہو کہ انسان کو اپنی باتوں کا ادراک ہو، اور اپنے آپ پر کنٹرول ہو، تو ایسی صورت میں ایک طلاق بھی واقع ہو گئی ہے اور ظہار بھی ہو گیا ہے؛ کیونکہ آپ نے اپنی بیوی کو اپنی ماں سے تشبیہ دی ہے، اور خاوند کا اپنی بیوی کو ماں سے تشبیہ دینا ظہار کہلاتا ہے۔۔۔" ختم شد
"فتاوى نور على الدرب" (10 / 444)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب