جمعہ 16 ذو القعدہ 1445 - 24 مئی 2024
اردو

قضا اور قدر کے حوالے سے اہل سنت کے عقیدے کا خلاصہ

سوال

کیا یہ ممکن ہے کہ آپ مجھے تقدیر اور قضائے الہی پر ایمان لانے کے حوالے اسلامی تعلیمات بتلائیں کہ اس حوالے سے کیا عقیدہ ہونا چاہیے؟

جواب کا خلاصہ

-اہل سنت کے ہاں قضا و قدر پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ انسان بھر پور یقین رکھے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ اللہ تعالی کی تقدیر کے مطابق ہے۔ قضا و قدر پر ایمان لانا، ایمان کا چھٹا بنیادی رکن ہے، اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ 2- قضا و قدر پر ایمان کے 4 مراتب ہیں: علم، کتابت، ارادہ و مشیئت، اور خلق۔ 3- تقدیر پر صحیح ایمان کے لیے یہ لازم ہے کہ: انسان اس بات پر یقین رکھے کہ انسان کی بھی مشئیت اور اختیار ہے چنانچہ انسان اپنی مرضی سے ہر کام کرتا ہے، لیکن انسانی ارادہ اور مشیئت اللہ تعالی کے ارادے اور مشئیت سے خارج نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے ہی انسان کو آزادی اور اختیار کرنے کی صلاحیت دی ہے۔ انسان یہ بھی یقین رکھے کہ مخلوقات کی تقدیر اللہ تعالی کا راز ہے، جس قدر اللہ تعالی نے ہمیں بتلا دیا ہمیں اس کا علم ہے اور اس پر ہمارا یقین بھی ہے، اور جس کا اللہ تعالی نے نہیں بتلایا ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی مکمل معلومات اللہ کے سپرد مانتے ہیں۔ اس سارے کام میں اللہ تعالی کی حکمت کارفرما ہے، وہی خلق و امر کا اختیار رکھتا ہے۔

الحمد للہ.

قضا و قدر کے حوالے سے اسلامی نظریہ کے بارے میں گفتگو قدرے طویل ہو سکتی ہے، چنانچہ بات کو سمجھانے کے لیے پہلے ہم کچھ ابتدائی لیکن اہم باتیں ذکر کریں گے اور پھر اس کے بعد حسب ضرورت کچھ تفصیلات بھی بیان کریں گے، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہماری اس کاوش کو مفید بنائے اور اپنی بارگاہ میں قبول بھی فرمائے۔

قضا و قدر پر ایمان کی حقیقت

اہل سنت کے ہاں قضا و قدر پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ انسان بھر پور یقین رکھے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ اللہ تعالی کے فیصلوں کی وجہ سے ہے۔ قضا و قدر پر ایمان لانا، ایمان کا چھٹا بنیادی رکن ہے، اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ صحیح مسلم: (8) میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہیں کچھ لوگوں کے متعلق علم ہوا کہ وہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے مخاطب سے کہا: "جب تم ان لوگوں سے ملو تو کہہ دینا: میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی ان کا مجھ سے کوئی تعلق ہے۔ اور میں عبد اللہ بن عمر اللہ تعالی کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ: اگر ان میں سے کسی کے پاس پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اس سارے سونے کو اللہ کی راہ میں خرچ بھی کر دے تو اللہ تعالی اس سے یہ سونا اس وقت تک قبول نہیں فرمائے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا۔"

تقدیر پر ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک تقدیر کے چار مراتب پر ایمان نہ لایا جائے، جو کہ درج ذیل ہیں:
1-اس بات کا ایمان کہ اللہ تعالی ازل اور قِدم سے ہی ہر چیز کی مکمل اور کامل تفصیلات سے واقف ہے، زمین اور آسمانوں میں سے کہیں بھی کوئی ذرے برابر بھی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔

2-اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالی نے یہ سب کچھ لوح محفوظ میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے بھی 50 ہزار سال پہلے لکھا ہوا ہے۔

3-اللہ تعالی کی مشیئت اور کامل قدرت الہی پر ایمان کہ اس کائنات میں کوئی بھی خیر یا شر کی چیز اللہ تعالی کی مشیئت کے بغیر نہیں ہوتی۔

4- اس بات پر ایمان کہ تمام کائنات اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اور اللہ تعالی صرف انہی کا خالق نہیں بلکہ ان کی صفات اور افعال کا بھی خالق ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ‌خَالِقُ ‌كُلِّ ‌شَيْءٍ ترجمہ: یہی اللہ ہے جو تمہارا پروردگار ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہی ہر چیز کا خالق ہے۔[الانعام: 102]

تقدیر پر صحیح ایمان کے لوازمات

تقدیر پر صحیح ایمان ہونے کے کچھ لوازمات ہیں کہ آپ درج ذیل امور پر ایمان رکھیں گے تو تب آپ کا تقدیر پر ایمان صحیح ہو گا:

-انسان کا ذاتی ارادہ اور مشیئت ہے اسی ارادے کی بدولت انسان اپنے تمام کام سر انجام دیتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی نے انسانی ارادے اور مشئیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَن يَّسْتَقِيْمَ ترجمہ: تم میں سے اس کے لیے جو سیدھے راستے پر چلنا چاہے۔[التکویر: 28] ، اسی طرح فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَهَا ترجمہ: اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا۔[البقرۃ: 286]
[اس آیت سے محل استشہاد یہ ہے کہ: اللہ تعالی انسانی قدرت اور طاقت سے بڑھ کر جب حکم نہیں دیتا تو اس کا مطلب واضح ہوا کہ بندے کی قدرت اور ارادہ بھی ہے۔ مترجم]

-انسانی مشیئت اور قدرت اللہ تعالی کی قدرت اور مشیئت سے خارج نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے ہی انسان کو چیزوں میں تفریق اور امتیاز کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے واضح فرمایا: وَمَا تَشَاءُوْنَ إِلَّا أَن يَّشَاءَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ ترجمہ: اور جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔[التکویر: 29]

- مخلوقات کی تقدیر اللہ تعالی کا راز ہے، جس قدر اللہ تعالی نے ہمیں بتلا دیا ہمیں اس کا علم ہے اور اس پر ہمارا یقین بھی ہے، اور جس کا اللہ تعالی نے ہمیں نہیں بتلایا ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں، ہم اللہ تعالی کے افعال اور احکام سے متعلق اپنی کمزور اور ناقص عقل کے گھوڑے نہیں دوڑاتے، بلکہ ہم اللہ تعالی کے کامل عدل اور مکمل حکمت پر ایمان رکھتے ہیں، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کے افعال کے بارے میں تفتیشی انداز میں پوچھا نہیں جاتا ۔

سلف صالحین کا قضا و قدر کے حوالے سے مختصر عقیدہ بیان کرنے کے بعد ہم ذیل میں قضا و قدر سے متعلق کچھ تفصیلات ذکر کرتے ہیں، اور اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے اور حق بیان کرنے کی توفیق دے:

قضا و قدر کی تعریف اور دونوں میں تفریق کا بیان

عربی زبان میں لفظ"قضا" کا معنی ہے: کسی چیز کو محکم بنانا اور کام کو مکمل کرنا، جبکہ لفظ "قدر" کا معنی اندازہ لگانا، اور تقدیر لکھنا ہے۔

تو تقدیر یا قدر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ازل میں چیزوں کی تقدیر لکھی ، اور اللہ تعالی کو ازل سے علم ہے کہ کس وقت میں کیا چیز کب اور کس طرح رونما ہونی ہے، پھر اللہ تعالی نے اس سب کو لکھا بھی ہوا ہے، اور اللہ تعالی کی مشیئت سے ہی تمام امور ایسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالی نے تقدیر میں لکھا ہوا ہے اور جس طرح اللہ تعالی نے انہیں پیدا کرنا ہے۔

کچھ اہل علم قضا اور قدر دونوں میں تفریق کرتے ہیں، تاہم زیادہ بہتر یہی محسوس ہوتا ہے کہہ قضا اور قدر دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؛ کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں، اور کتاب و سنت میں ایسی کوئی واضح دلیل نہیں ہے جو ان میں تفریق کی دلیل بنے، بلکہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں، تاہم لفظ "قدر" کتاب و سنت میں زیادہ استعمال ہوتا ہے، جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رکن پر ایمان لانا واجب ہے۔ واللہ اعلم

دین میں قضا و قدر پر ایمان کا مقام و مرتبہ

قضا اور قدر پر ایمان لانا ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک ہے، یہ پورے چھ ارکان حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جبریل علیہ السلام کے ایمان کے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا: (تم اللہ تعالی پر ایمان لاؤ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ۔) مسلم: (8) پھر تقدیر کا تذکرہ قرآن کریم میں کئی جگہ پر ہوا ہے ، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّا كُلَّ شَيْئٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ترجمہ: یقیناً ہم نے ہر چیز کو اس کی تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے۔[القمر: 49] ، اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: وَكَانَ أَمْرُ اللهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا ترجمہ: اور اللہ تعالی کا ہر فیصلہ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔[الاحزاب: 38]

قدر یا تقدیر پر ایمان کے مراتب

اللہ تعالی آپ کو اپنی رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق دے، یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ تقدیر پر ایمان کے لیے درج ذیل چار مراتب پر ایمان ہونا ضروری ہے:

٭ علم: یعنی اللہ تعالی کے ایسے علم پر ایمان جو ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہے، آسمان اور زمین میں اللہ تعالی کے علم سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی خارج نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالی اپنی تمام تر مخلوقات کو انہیں پیدا کرنے سے بھی پہلے سے جانتا ہے، پھر اپنے قدیم علم کی بنا پر یہ بھی جانتا ہے کہ مخلوقات کیا کیا عمل کریں گی؟ ان تفصیلات کے بہت سے دلائل ہیں، مثلاً: فرمانِ باری تعالی ہے: هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ترجمہ: اللہ وہی ذات ہے جس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود بر حق نہیں، وہی حاضر اور غیب تمام کچھ جاننے والا ہے۔[الحشر: 22] اسی طرح اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے: وَأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ترجمہ: اور یقیناً اللہ تعالی نے ہر چیز کو اپنے علم کے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔[الطلاق: 12]

٭کتابت: یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کی تمام تر تقدیریں پہلے سے ہی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ترجمہ: کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی کو آسمان و زمین کی ہر چیز کا علم ہے، اور یقیناً یہ سب چیزیں لوح محفوظ میں ہیں، اور یہ سب کچھ اللہ تعالی کے لیے بہت آسان ہے۔[الحج: 70]

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھی ہے کہ: (اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے بھی 50 ہزار سال پہلے لکھ دی تھیں۔) مسلم: (2653)

٭ ارادہ و مشیئت: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب کچھ اللہ تعالی کی مشیئت کے ساتھ ہو رہا ہے، جو مشیئت الہی کے مطابق ہو وہ ہو جاتا ہے اور جو مشیئت کے مطابق نہ ہو تو وہ نہیں ہوتا، لہذا اس دنیا میں ہر چیز اللہ تعالی کی مشیئت کے تحت ہے، کوئی بھی چیز مشیئت الہی سے باہر نہیں ہے۔

اس کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے: وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّه ترجمہ: اور آپ کسی بھی کام کے لیے یہ ہرگز نہ کہیں کہ میں یہ کام کل کروں گا، لیکن ان شاء اللہ کہیں۔ [الکہف: 23]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:
وَمَا تَشَاءُوْنَ إِلَّا أَن يَّشَاءَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ
ترجمہ: اور جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔[التکویر: 29]

٭خلق: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ تعالی پر ایمان رکھیں کہ اللہ تعالی ہر چیز کا خالق ہے، اور ان میں بندوں کے افعال بھی شامل ہیں، اس لیے اس کائنات میں کوئی بھی چیز ہے تو اس کا خالق صرف اللہ تعالی ہی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ترجمہ: اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق ہے۔[الزمر: 62] اسی طرح فرمایا: وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُون ترجمہ: اور اللہ تعالی نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی۔[الصافات: 96]

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (یقیناً اللہ تعالی ہی ہر کاریگر اور اس کی صنعت کو پیدا کرنے والا ہے۔) اس حدیث کو امام بخاریؒ نے "خلق أفعال العباد" (25) میں اور ابن ابی عاصم ؒ نے "السنة" (257) اور (358) پر بیان کیا ہے، جبکہ البانیؒ نے اسے "سلسلہ صحیحہ "(1637) میں صحیح قرار دیا ہے۔

الشیخ ابن سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جس طرح اللہ تعالی نے لوگوں کو پیدا کیا ہے تو اسی طرح اللہ تعالی نے لوگوں میں پائی جانے والی عملوں کی صلاحیت ، قدرت اور ارادے کو بھی پیدا فرمایا ہے۔ البتہ نیکی اور نافرمانی پر مشتمل مختلف افعال انسان اپنی مرضی سے کرتے ہیں، لیکن اس مرضی اور چاہت کو بھی اللہ تعالی نے ہی پیدا کیا ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: "الدرة البهية شرح القصيدة التائية" (ص: 18)

عقلی باتوں کے ذریعے قضا و قدر کے مسائل میں گفتگو سے پرہیز

قضا و قدر پر ایمان در حقیقت اللہ تعالی پر صحیح ایمان کا مظہر ہے، تقدیر پر ایمان انسان کی معرفتِ الہی کا امتحان ہوتا ہے، اور اسی معرفتِ الہی کی وجہ سے حاصل ہونے والے سچے یقین کی پڑتال کا باعث بھی ہے، نیز تقدیر پر ایمان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالی کی صفات جلال و جمال کس حد تک جانتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقدیر اور قضا و قدر کے بارے میں مطلق العنان لوگ اپنی محدود عقل کے باعث بہت سے سوالات اور اشکالات اٹھاتے ہیں، بلکہ لوگ بحث و مباحثے میں اتنے دور نکل جاتے ہیں کہ تقدیر کا ذکر کرنے والی آیات کی تاویل کر بیٹھتے ہیں۔ دوسری جانب دشمنان اسلام کا ہر زمانے میں یہ وتیرہ رہا ہے کہ مسلمانوں کے عقائد میں رخنے ڈالنے کے لیے تقدیری مسائل کو تختہ مشق بناتے ہیں، اسی کے حوالے سے شبہات پیدا کرتے ہیں، تو ایسی صورت حال میں صحیح ایمان اور یقین پر وہی شخص باقی بچتا ہے جو اللہ تعالی کے اسمائے حسنی اور اعلی صفات کی مکمل معرفت رکھتا ہے، جو اپنے معاملات اللہ تعالی کے سپرد کیے ہوئے نفسیاتی طور پر مطمئن ہے، اسے اللہ تعالی پر مکمل بھروسا ہے چنانچہ ایسے شخص پر شکوک و شبہات اثر انداز نہیں ہو پاتے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ قضا و قدر پر ایمان ، ایمان کے دیگر ارکان کے درمیان بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ عقل بذات خود تقدیر کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ تقدیر مخلوقات کے متعلق اللہ تعالی کا راز ہے، تو جس قدر اللہ تعالی نے اس راز کے متعلق قرآن کریم میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی بتلایا ہمیں اس کا علم ہے اور ہم اس کی تصدیق کے ساتھ اس پر ایمان بھی رکھتے ہیں، اور تقدیر کے متعلق جن چیزوں سے سکوت فرمایا ہم اس کے بارے میں بھی اللہ تعالی کے کامل عدل اور مکمل حکمت پر یقین رکھتے ہوئے ایمان لاتے ہیں، اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالی کے افعال کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، پوچھ تاچھ تو مخلوقات سے کی جاتی ہے۔

واللہ تعالی اعلم، اللہ تعالی اپنے بندے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم ، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر رحمت، سلامتی اور برکت نازل فرمائے۔

مراجع:

1-حافظ بن احمد حکمی رحمہ اللہ کی کتاب: "أعلام السنة المنشورة لاعتقاد الطائفة الناجية المنصورة"

2- ڈاکٹر عبد الرحمن المحمود کی کتاب: "القضاء والقدر في ضوء الكتاب والسنة"

3- الشیخ محمد الحمد کی کتاب: "الإيمان بالقضاء والقدر"

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب