اتوار 2 صفر 1442 - 20 ستمبر 2020
اردو

كيا نجاست چھو جانے سے لباس نجس اور پليد ہو جاتا ہے ؟

9652

تاریخ اشاعت : 02-07-2007

مشاہدات : 5534

سوال

ہوائى جہاز كى ليٹرين بہت تنگ ہوتى ہے اور بعض اوقات اس كے فرش اور ديواروں ميں نجاست لگى نظر آرہى ہوتى ہے وہاں داخل ہونے اور وضوء كرنے ميں مجھے شك ہوتا ہے كہ اس كے ساتھ لگنے سے ميرے كپڑے پليد ہوگئے ہيں، ليكن ميں نماز ادا كر ليتا ہوں، اور سفر ختم ہونے كے بعد ميں لباس تبديل كر كے نماز كا وقت نكل جانے كے بعد نماز دوبارہ ادا كرتا ہوں تو اس كا حكم كيا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

ليٹرين كى ديواريں نجس ہونے كا ہميں يقين ہونا ضرورى ہو.

دوم:

اگر يہ يقين بھى ہو جائے تو صرف ديواروں كو كپڑا لگنے سے ہى ناپاك نہيں ہو جائيگا، ليكن اگر كپڑا گيلا ہو اور ديواريں بھى گيلى ہوں كہ كپڑے كو نجاست لگ سكے تو پھر ناپاك ہونگے.

سوم:

اور جب ہميں يہ يقين ہو جائے تو وہ نماز ناپاك اور پليد لباس ميں ادا كر رہا ہے، تو اس حالت ميں بعنيہ جہاں نجاست لگى ہے كپڑے سے نجاست دھو كر اسے پاك كرنا ضرورى ہے، اور اگر اسے پاك صاف لباس نہ ملے اور وہ اسى ميں نماز ادا كر لے تو اس پر نماز كا اعادہ نہيں كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

اللہ تعالى كا تقوى اپنى استطاعت كے مطابق اختيار كرو التغابن ( 16 ).

ماخذ: ديكھيں: اعلام المسافرين ببعض آداب و احكام السفر ما يخص الملاحين الجويين تاليف فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين ( 9 )