111513: طلوع فجر ميں شك ہو تو كھا لے، اور غروب آفتاب ميں شك ہو تو نہ كھائے


1 ـ روزے دار كے ليے افطارى كرنا اس وقت جائز ہے جب اسے غروب آفتاب كا يقين ہو جائے، يا پھر ظن غالب ہو كہ سورج غروب ہوگيا ہے.
اس ليے اگر اس نے غروب آفتاب ميں شك ہونے كى بنا پر افطارى كر لى اور پھر اسے پتہ چلا كہ سورج غروب نہيں ہوا تو وہ اس دن كى قضاء كريگا.
2 ـ جس نے طلوع فجر ميں شك ہونے كى بنا پر كھا پى ليا تو كيا اس كا روزہ صحيح ہوگا يا نہيں.
سوال يہ ہے كہ: پہلے مسئلہ ميں قضاء كيوں واجب ہوتى ہے، اور دوسرے مسئلہ ميں قضاء كيوں نہيں ؟

الحمد للہ:

روزے دار كو غروب آفتاب ميں شك ہو اور وہ روزہ افطار كر لے تو وہ روزہ كى قضا كريگا، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا ارشاد ہے:

{ پھر تم روزہ رات تك پورا كرو } البقرۃ ( 187 ).

رات تو غروب آفتاب سے شروع ہوتى ہے، اور اسے يقين تھا كہ ابھى دن ہے صرف غروب آفتاب ميں شك تھا، اس ليے وہ افطارى اس وقت كرے جب اسے غروب آفتاب كا يقين ہو جائے يا پھر ظن غالب ہو كہ سورج غروب ہو چكا ہے.

كيونكہ اصل يہى ہے كہ دن باقى ہے، اس ليے اس اصل كو يقين يا ظن غالب سے ہى ختم كيا جا سكتا ہے.

ليكن جب طلوع فجر ميں شك ہو اور كھا پى لے تو اس روزہ كى قضاء نہيں كى جائيگى كيونكہ اللہ عزوجل كا فرمان ہے:

{ اور تم كھاؤ پيئو حتى كہ فجر كا سياہ دھاگہ رات كے سياہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے }البقرۃ ( 187 ).

يہاں اللہ تعالى نے فرمايا ہے:

حتى كہ تمہارے ليے واضح ہو جائے .

يہ اس كى دليل ہے كہ طلوع فجر كا يقين ہونے سے قبل كھانے پينے كى اجازت ہے، اور اس ليے بھى كہ اسے يقين تھا كہ ابھى رات ہے، اس ليے اس پر كھانا پينا حرام اس وقت ہى ہوگا جب طلوع فجر كا يقين ہو جائے، كيونكہ اصل ميں رات باقى ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 38543 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments