ہفتہ 15 شعبان 1440 - 20 اپریل 2019
اردو

طلوع فجر کے بعد لاعلمی میں کھانا کھالیا

سوال

یکم رمضان المبارک کوفجر کے وقت میری بیوی نے مجھے بیدار کیا اورکہنے لگے کیا پانی پینا ہے ؟ میں نے جب اس سے گلاس لیا توپوچھا کیا اذان ہوچکی ہے ؟ تووہ کہنے لگي ابھی نہیں ۔
لیکن پانی پینے کے پندرہ یا بیس منٹ بعد اقامت ہوگئي ، اس طرح میں نے اذان کے پانچ یا دس منٹ بعد پانی پیا تھا لھذا کیا مجھ پر کچھ ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
اگرکوئي شخص رات باقی سمجھتے ہوئے یا پھرطلوع فجر نہ ہونے کے گمان میں کھا پی لے تو ایسے شخص کے بارہ میں علماء کرام کا اختلاف ہے ، اوراسی طرح اس شخص کے بارہ میں بھی اختلاف کرتے ہیں جس نے غروب شمس سے قبل ہی غروب شمس کے گمان میں کھا لیا ۔

اس مسئلہ میں بہت سے علماء کرام کا مسلک تویہ ہے کہ اس کا روزہ فاسد ہوگا ، اوراس کے بدلے میں اسے روزہ رکھنا پڑے گا ۔

لیکن کچھ علماء کرام کہتے ہيں کہ : اس کا روزہ صحیح ہے اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے ، اوراس پراس روزہ کی قضاء نہيں ۔

اس قول کے قائلین میں تابعین میں سے امام مجاھد ، اورحسن ، شامل اورامام احمد کی ایک روایت بھی اوراسے شافعیہ میں سے المزنی نے اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہم اللہ جمیعا نے اختیار کیا ہے ، اورشیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی نے اسے راجح کہا ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

جولوگ سب میں روزے کو صحیح قرار دیتے ہیں ( یعنی جب کوئي دن کے شروع میں خطاء یا غلطی کرلے اوربھول جائے ) وہ کہتے ہیں کہ ہماری دلیل زيادہ قوی ہے ، اورکتاب وسنت کی اس پر دلالت بھی ظاہر ہے ۔

کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

اے ہمارے رب اگر ہم بھول جائيں اورغلطی کرلیں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا ۔

تویہاں پر خطاء اورنسیان میں جمع کیا ہے ، اوراس لیے کہ جس نے حج اورنماز کے محظورات کا غلطی سےارتکاب کیا وہ بھول کرکرنے والے کی طرح ہی ہے ۔

اورصحیح بخاری میں یہ ثابت ہے کہ :

کہ صحابہ کرام نے عھد نبوی میں روزہ افطار کرلیا اورسورج تھا ، اس حدیث میں اس کا ذکر نہيں کہ انہيں قضاء کا حکم دیا گيا ہو ۔

لیکن ھشام بن عروۃ کہتے ہیں کہ : قضاء ضروری ہے ، اوران کےوالد اس سے زيادہ علم رکھتے ہيں وہ یہ کہتے تھے : ان پر کوئي قضاء نہيں ۔

اورصحیحین میں ہے کہ :

کچھ صحابہ کرام اس وقت تک کھاتے تھے جب تک ان میں کسی ایک کو سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ میں تمیز نہ ہوجاتی ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو یہ فرمایا تھا : تیرا سرہانہ تو بہت وسیع وعریض ہے ، بلکہ اس سےتو رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی مراد ہے ۔

اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ انہيں قضاء کاحکم دیا ہو ، یہ لوگ حکم سے لاعلم اورجاہل تھے تواس لیے غلطی کی ۔

عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ سےثابت ہے کہ :

انہوں نے روزہ افطار کرلیا پھر دن ظاہر ہوگیا تو وہ فرمانے لگے : ہم قضا نہيں کرینگے کیونکہ ہم اثم اورگناہ کی طرف مائل نہيں ۔

اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہم اس کی قضا کرینگے ۔ لیکن پہلی روایت کی سند زيادہ قوی اورثابت ہے ۔

اور ان سے یہ بھی ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا : یہ معاملہ آسان ہے ۔

اس کی کچھ تو تاویل کرتے ہيں کہ انہوں نے کہا قضاء کا معاملہ آسان ہے ،لیکن الفاظ اس پردلالت نہيں کرتے ۔

مجموعی طور پر اثرو نظر کے اعتبارسے یہ قول زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے اورکتاب وسنت اورقیاس کی دلالت سے زيادہ مشابہ ہے ۔

دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 20 / 572 - 573 ) اورشرح الممتع ( 6 / 411)

تواس طرح روزہ صحیح ہونے اوراس پر قضاء نہ ہونے کے قول کے دلائل کی قوت ظاہرہوتی ہے ، لیکن اس کے باوجود اگر مسلمان احتیاط کرے اوراس کی قضا میں روزہ رکھے تو یہ بہتر اوراحسن ہے ۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں