Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
70318

انشورنس كمپنى سے ديت وصول كرنا

ہمارے ملك ميں حكومت نے گاڑيوں كى انشورنس كرانے كا قانون بنا ركھا ہے اور ايسا كرنا لازم ہے، اس سے گاڑى كے مالك كو كوئى فائدہ نہيں ہوتا، صرف اتنا ہے كہ اگر انشورنس شدہ گاڑى نے كسى شخص كو ٹكر مار دى اور يہ اس حادثہ ميں كوئى زخمى ہو گيا يا وفات پا گيا تو اس كے اہل و عيال يہ معاملہ انشورنس كمپنى ميں اٹھاتے ہيں، اور انشورنس كمپنى انہيں زخمى يا فوت شدہ شخص كا معاوضہ ديتى ہے، اور اس معاوضہ سے گاڑى كا مالك نہ تو سلبى اثر ليتا ہے اور نہ ہى ايجابى، تو اس كا حكم كيا ہے، يہ علم ميں رہے كہ متوفى كے ورثاء گاڑى كے مالك كو معاف كر ديتے ہيں، اور حكومت وضعى قوانين كا نفاذ كرتى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

تجارتى انشورنس حرام معاہدہ اور لين دين ميں شامل ہوتى ہے، اور اس كى سارى قسميں حرام ہيں، كسى شخص كے ليے بھى انشورنس ميں شامل ہونا جائز نہيں، ليكن اگر كوئى شخص ايسا كرنے پر مجبور ہو مثلا اسے اس پر مجبور كيا جائے تو پھر كوئى حرج نہيں، اس كا حكم اور تفصيل سوال نمبر ( 8889 ) اور ( 39474 ) كے جوابات ميں بيان ہو چكى اس كا مطالعہ كريں.

دوم:

انشورنس ميں شركت كرنے كى حرمت كا معنى يہ نہيں كہ انشورنس كمپنى سے اپنا حق بھى نہ ليا جائے، اگر انشورنس كمپنى كو حادثہ كرنے والے كى جانب سے حق ادا كرنے كا كہا جائے تو يہ حق لينے ميں كوئى حرج نہيں.

اس بنا پر حادثہ ميں فوت ہونے والے كى قتل خطاء، يا زخمى ہونے كى ديت كسى بھى محكمہ سے لينے ميں كوئى حرج نہيں، چاہے وہ انشورنس كمپنى ہو يا كوئى اور؛ كيونكہ ديت كے مستحق لوگ تو حق كے مالك ہيں، اور دوسرے فريق كے انشورنس كمپنى كے ساتھ معاملہ كى حلت كے وہ ذمہ دار نہيں.

ہم نے فضيلۃ الشيخ ابن جبرين حفظہ اللہ سے انشورنس كمپنى سے معاوضہ لينے كے متعلق حكم دريافت كيا تو ان كا جواب تھا:

" يہ جائز ہے، كيونكہ ان كمپنيوں نے يہ كہہ ركھا ہے كہ جو بھى ان سے انشورنس كروائيگا وہ اس كى جانب سے حادثہ كے ذمہ دار ہونگے، اور جب وہ معاوضہ دينے كے پابند ہيں تو اس معاوضہ كو لينے ميں كوئى مانع نہيں، اور حادثہ ميں ـ كسى كى وفات ہونے كى حالت ميں ـ حادثہ كے مرتكب شخص كى غلطى كى بنا پر حادثہ ہونے كى حالت ميں اس پر قتل خطا كا كفارہ باقى رہتا ہے "

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments