Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
84271

حاجى اور عام شخص كے ليے ذوالجہ كے آٹھ روزے ركھنے كا استحباب

حاجى كے ليے ذوالحجہ كے پہلے آٹھ يوم كے روزے ركھنے كا حكم كيا ہے، يہ علم ميں ركھيں كہ يوم عرفہ كے روزے كے متعلق مجھے علم ہے كہ حاجى اس دن روزہ نہيں ركھ سكتا ؟

الحمد للہ:

ذوالحجہ كے پہلے آٹھ ايام كے روزے حاجى اور غير حاجى سب كے ليے مستحب ہيں؛ كيونكہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ان دس ايام ميں كيے گئے اعمال صالحہ اللہ تعالى كو سب سے زيادہ محبوب ہيں، تو صحابہ كرام نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اور جھاد فى سبيل اللہ بھى نہيں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اور نہ ہى جھاد فى سبيل اللہ، مگر يہ كہ جو آدمى اپنى جان اور مال لے كر اللہ كى راہ ميں نكلا اور اس ميں سے كچھ بھى واپس نہ لے كر آئے "

صحيح بخارى حديث ( 969 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 757 ) يہ الفاظ ترمذى كے ہيں.

اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں ہے:

" فقھاء كرام كا اتفاق ہے كہ يكم ذوالحجہ سے يوم عرفہ سے قبل آٹھ ذوالحجہ تك روزے ركھنا مستحب ہيں .....

اور مالكيہ اور شافعيہ كا بيان ہے كہ: ان ايام كے روزے ركھنے حاجى كے ليے بھى مسنون ہيں " انتہى.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 28 / 91 ).

اور نھايۃ المحتاج ميں ہے:

" يوم عرفہ سے قبل آٹھ روزے ركھنا مستحب ہيں، جيسا كہ " الروضہ " ميں تصريح بيان ہوئى ہے، اس ميں حاجى اور عام شخص برابر ہيں، ليكن حاجى كے ليے يوم عرفہ كا روزہ ركھنا مسنون نہيں، بلكہ اس كے ليے روزہ نہ ركھنا مستحب ہے، چاہے وہ طاقتور بھى ہو، كيونكہ اسى ميں ہى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى ہے، تا كہ وہ دعاء اور عبادت ميں تقويت حاصل كر سكے " انتہى بتصرف.

ديكھيں: نھايۃ المحتاج ( 3 / 207 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments