Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
9412

ختنہ كى كيفيت اور اس كے احكام

كيا يہ ممكن ہے كہ آپ ہمارے ليے يہ واضح كريں كہ ختنہ كيا ہے، اور اس كى جگہ كونسى ہے ؟

الحمد للہ:

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى نے پيدا ہونے والے بچے كے احكام كے متعلق ايك بہت قيمتى كتاب لكھى ہے جس كا نام " تحفۃ المولود في احكام المولود" ركھا ہے، اور اس كتاب ميں ختنہ اور اس كے احكام كے متعلق ايك باب مخصوص كيا ہے جس ميں تفصيل كے ساتھ بحث كى ہے، ہم ذيل ميں اس كى تلخيص اور اس كے علاوہ دوسرے اہل علم كى كلام بھى پيش كرتے ہيں:

1 - ختنہ كا معنى و مفہوم:

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

الختان خاتن كا اسم فعل ہے، اور يہ النزال اور القتال كى طرح مصدر ہے، اور ختنہ والى جگہ اسى نام سے موسوم ہے، اور حديث ميں ہے:

" جب دونوں ختنے مل جائيں تو غسل واجب ہو جاتا ہے "

اور لڑكى كے ليے خفض كا لفظ استعمال ہوتا ہے، كہا جاتا ہے: ختنت الغلام ختنا و خفضت الجاريۃ خفضا .

اور عضو تناسل ميں اسے اعذار كے نام سے موسوم كيا جاتا ہے، اور جو ختنہ كے بغير ہو اسے المعذور يعنى اغلف اور اقلف كہا جاتا ہے.

ديكھيں تحفۃ المولود ( 1 / 152 ).

2 - ختنہ كرانا ابراہيم عليہ السلام اور ان كے بعد والے انبياء كى سنت ہے:

بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ابراہيم عليہ السلام نے اسى برس كى عمر كے بعد ختنہ كرايا، اور كلہاڑى كے ساتھ ختنہ كيا گيا "

صحيح بخارى حديث نمبر( 6298 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 2370)

حديث ميں لفظ " القدوم " استعمال ہوا ہے، اس كے دو معنى كيے جاتے ہيں ايك تو كلہاڑى اور دوسرا يہ شام ميں ايك جگہ كا نام ہے.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

راجح يہى ہے كہ حديث ميں وارد شدہ لفظ سے مراد آلہ ہے ( كلہاڑى ) ابو يعلى نے على بن رباح كے طريق سے روايت كيا ہے كہ:

" ابراہيم عليہ السلام كو ختنہ كرانے كا حكم ديا گيا، تو انہوں نے كلہاڑى كے ساتھ ختنہ كرايا جس سے انہيں بہت تكليف ہوئى تو اللہ تعالى نے ان كى طرف وحى كى كہ: آپ نے بہت جلدى كى قبل اس كے ہم آپ كو آلہ كا بھى حكم ديتے، تو ابراہيم عليہ السلام كہنے لگے: اے ميرے پروردگار ميں نے تيرے حكم ميں تاخير كرنا ناپسند كى " اھـ

اور ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ختنہ بھى ان خصلتوں ميں شامل تھا جن كے ساتھ اللہ تعالى نے اپنے خليل ابراہيم عليہ السلام كو آزمايا تو ابراہيم عليہ السلام نے انہيں پورا كيا تو اللہ تعالى نے انہيں لوگوں كا امام بنا ديا.

اور يہ بھى مروى ہے كہ ابراہيم عليہ السلام سب سے پہلے شخص تھے جن كا ختنہ كيا گيا، جيسا كہ پہلے بھى بيان ہو چكا ہے، صحيح يہى ہے كہ ابراہيم عليہ السلام نے اسى برس كى عمر ميں ختنہ كرايا تھا، اور عيسى السلام تك ان كے بعد آنے والے رسول اور ان كے پيروكار بھى ختنہ كراتے رہے، عيسى السلام نے بھى ختنہ كرايا اور نصارى بھى جس طرح عيسائى يہ اقرار كرتے ہيں كہ انہوں نے خنزير كا گوشت حرام كيا اسى طرح وہ ختنہ كا بھى انكار نہيں كرتے...

ديكھيں: تحفۃ المودود ( 158 - 159 ).

ختنہ كے حكم كے متعلق علماء كرام كا اختلاف ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

سب قولوں ميں سب سے زيادہ قريب قول يہ ہے كہ:

مردوں كے ليے ختنہ كرانا واجب ہے، اور عورتوں كے ليے سنت، اور ان دونوں ميں فرق يہ ہے كہ:

مردوں كے حق ميں مصلحت نماز كى شروط ميں سے ايك شرط طہارت و پاكيزگى كى طرف لوٹتى ہے، اس ليے كہ اگر يہ چمڑى باقى رہے تو عضو تناسل كے سوراخ سے نكلنے والا پيشاب اس ميں باقى رہ كر جمع ہوگا اور پھر جب بھى حركت كرے تو جلن اور سوزش كا باعث بنےگا، يا پھر جب يہ چمڑى دبائى جائے تو يہ پيشاب نكل كر باقى جاقى كو بھى نجس كرےگا.

اور عورت كے حق ميں زيادہ سے زيادہ اس كا فائدہ يہ ہے كہ: اس كى شہوت ميں كمى ہو گى، اور يہ طلب كمال ہے، نہ كہ اذيت كو زائل كرنے كے باب سے تعلق ركھتى ہے.

ديكھيں: شرح الممتع ( 1 / 133 - 134 ).

امام احمد رحمہ اللہ كا يہى مسلك ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى " المغنى " ميں رقمطراز ہيں:

ختنہ مردوں كے ليے واجب اور عورتوں كے ليے باعث عزت و تكريم ہے ليكن ان پر واجب نہيں . اھـ

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ المقدسى ( 1 / 115 ).

3 - ختنہ كى جگہ:

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ابو البركات اپنى كتاب " الغايۃ " ميں لكھتے ہيں:

مرد كا ختنہ كرتے وقت عضو تناسل كے سرے كى چمڑى كاٹى جائيگا اور اگر اس ميں سے اكثر حصہ كى چمڑى كاٹنے پر ہى اكتفا كيا جائے تو جائز ہے، اور لڑكى كا ختنہ كرنے والى ختنہ كرتے وقت زيادتى نہ كرے بلكہ گوشہ كاٹے.

عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا جاتا ہے كہ انہوں نے ختنہ كرنے والى عورت سے فرمايا تھا: جب تم ختنہ كرو تو اس ( چمڑى ) ميں سے كچھ حصہ باقى رہنے دو .

خلال رحمہ اللہ نے اپنى كتاب " الجامع " ميں باب " ختنہ كرتے وقت كس چيز كو كاٹا جائيگا " كے تحت بيان كيا ہے كہ:

مجھے محمد بن حسين نے خبر دى كہ فضل بن زياد نے انہيں بيان كيا كہ امام احمد رحمہ اللہ سے سوال كيا گيا:

ختنہ كرتے وقت كتنى چمڑى كاٹى جائيگى ؟

تو امام صاحب كا جواب تھا: حتى كہ عضو تناسل كا حشفہ ( يعنى اگلا سرا ) ظاہر ہو جائے.

اور حشفہ عضو تناسل كے سرے كو كہتے ہيں.

ديكھيں: لسان العرب ( 9 / 47 ).

اور ابن صباغ اپنى كتاب " الشامل " ميں رقمطراز ہيں:

مرد پر واجب يہ ہے كہ ختنہ كے وقت وہ عضو تناسل كے سرے پر موجود چمڑى كو كاٹے حتى كہ عضو تناسل كا سارا حصہ واضح ہو جائے، ليكن عورت كا ختنہ كرتے وقت وہ چمڑى كاٹى جائيگى جو شرمگاہ كى اوپر والى طرف دونوں پلڑوں كے درميان مرغ كى كلغى كى طرح ہے، اور جب اسے كاٹ ديا جائے تو اس كى اصل باقى رہے جو كھجور كى گٹھلى جيسى ہو.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

صحيح اور مشہور يہ ہے كہ حشفہ يعنى عضو تناسل كے سرے كو ڈھانپنے والى سارى چمڑى كاٹى جائے. اھـ

ديكھيں: المجموع للنووى ( 1 / 351 ).

جوينى كہتے ہيں: عورت كا ختنہ كرتے وقت اتنى مقدار كاٹى جائيگى جس پر اس كے نام كا اطلاق ہوتا ہو، ان كا كہنا ہے:

حديث ميں اس كا بيان ملتا ہے جو اسے كم كاٹنے پر دلالت كرتا ہے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اشمى و لا تنہكى "

يعنى اس كى اونچى جگہ باقى رہنے دو اور اسے جڑ سے ہى نہ كاٹ ڈالا كرو ، اشم اونچى جگہ كو كہتے ہيں.

ديكھيں: تحفۃ المودود ( 190 - 192 ).

حاصل يہ ہوا كہ: لڑكے كا ختنہ كرتے وقت وہ چمڑى كاٹى جائيگى جس نے عضو تناسل كا سرا ڈھانپ ركھا ہے، اور لڑكى كا ختنہ كرتے وقت وہ حصہ كاٹا جائيگا تو شرمگاہ كى اوپر والى جانب مرغ كى كلغى نماز حصہ ہوتا ہے.

4 - ختنہ كرانے كى مشروعيت كى حكمت:

مرد كا ختنہ اس ليے كيا جاتا ہے كہ ختنہ كيے بغير مرد كے ليے پيشاب سے مكمل طہارت و پاكيزگى حاصل نہيں ہوتى، كيونكہ پيشاب كے كچھ نہ كچھ قطرات اس چمڑى كے نيچے جمع ہو جاتے ہيں جس كى بنا پر خدشہ ہے كہ بعد ميں نكل كر كپڑے اور بدن كو نجس اور ناپاك كر دينگے.

اسى ليے عبد اللہ بن عباس رضى اللہ عنہما ختنہ كى سلسلہ ميں سختى كيا كرتے تھے.

امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما اس معاملہ ميں بہت سختى برتتے تھے اور ان سے يہ مروى ہے كہ انہوں نے فرمايا اگر وہ ختنہ نہ كروائے تو اس كا نہ تو كوئى حج ہے اور نہ ہى نماز.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 115 ).

اور عورت كا ختنہ كرنے كى مشروعيت ميں حكمت يہ ہے كہ اس كى شہوت كو اعتدال ميں لايا جائے تا كہ اس ميں توسط پيدا ہو.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

آيا عورت ختنہ كرائےگى يا نہيں ؟

تو ان كا جواب تھا:

الحمد للہ:

جى ہاں عورت ختنہ كرائےگى، اور اس كا ختنہ يہ ہے كہ شرمگاہ كى اوپر والى طرف مرغ كى كلغى جيسى چمڑى كاٹى جائے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لڑكيوں كا ختنہ كرنے والى عورت كو فرمايا تھا:

" تم اونچى جگہ كاٹنا اور اسے بالكل ختم ہى نہ كر ديا كرو، كيونكہ يہ چہرے كو زيادہ خوبصورت كرتى ہے، اور خاوند كے ليے زيادہ باعث محظوظ ہے "

يعنى تم كاٹنے ميں مبالغہ سے كام نہ لو، يہ اس ليے كہ مرد كا ختنہ كرنے كا مقصد مرد كو قلفہ يعنى چمڑى كے نيچے جمع ہونے والى نجاسب سے پاك كرنا ہے، اور عورت كا ختنہ كرنے كا مقصد اس كى شہوت كو اعتدال ميں لانا ہے، كيونكہ اگر لڑكى كا ختنہ نہ ہو تو اس كى شہوت بہت زيادہ شديد ہوتى ہے.

اسى ليے عرب كے ہاں گالى گلوچ كے وقت " يا بن القلفاء " كہا جاتا ہے، جس كا معنى ہے بغير ختنہ كے زيادہ شہوت والى كے بيٹے.

اسى ليے تتارى اور انگريزوں كى عورت ميں اتنى زيادہ فحاشى پائى جاتى ہے جو مسلمان عورت ميں نہيں، اور اگر لڑكى كا ختنہ كرتے وقت چمڑى كاٹنے ميں مبالغہ كيا جائے اور زيادہ كاٹ دى جائے تو پھر شہوت كمزور ہو جاتى ہے، جس سے مرد كا مقصد پورا نہيں ہوتا، اور اگر كاٹنے ميں مبالغہ نہ ہو تو پھر شہوت كو اعتدال ميں لانے كا مقصد پورا ہو جاتا ہے.

واللہ تعالى اعلم. اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 21 / 114 ).

5 - ختنہ كرنے والے شخص كو اجرت يا مال دينا جائز ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ختنہ اور علاج معالجہ كرنے كے ليے كسى شخص كو اجرت پر لانا جائز ہے، ہمارے علم كے مطابق تو اس ميں كوئى اختلاف نہيں پايا جاتا، اور اس ليے بھى كہ يہ ايسا فعل ہے جس كى ضرورت ہے، اور پھر اس كى شرعا بھى اجازت ہے، اس ليے دوسرے مباح اور جائز كاموں كى طرح اس كام كے ليے كسى كو اجرت پر لانا جائز ہوا.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 5 / 314 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments