سوموار 14 جمادی ثانیہ 1443 - 17 جنوری 2022
اردو

غیر مخلوط یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے بلا محرم رہنا پڑے گا، تو کیا مخلوط یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرے؟

سوال

میں چکی کے دو پاٹوں کے درمیان ہوں کہ غیر مخلوط یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے مسلمان عربی ملک میں محرم کے بغیر رہائش اختیار کروں (ویسے میرا رضاعی چچا اسی ملک، شہر اور محلے میں رہتا ہے لیکن صلہ رحمی میں کوتاہی کا شکار ہے۔) یا پھر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ مسلم عربی ملک میں رہوں لیکن یہاں پر شریعت کی پابندی بہت کم ہے ؛یہاں کی یونیورسٹی مخلوط نظام تعلیم رکھتی ہے اور یہاں پر ماحول بہت زیادہ خراب ہے، میں دونوں میں سے کون سی یونیورسٹی اپناؤں؟ میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں گھر والوں کے ساتھ بھی رہوں اور مخلوط یونیورسٹی میں بھی نہ جاؤ؛ کیونکہ یہاں تمام کی تمام یونیورسٹیاں مخلوط نظام تعلیم رکھتی ہیں، اور دوسری طرف میرے والد صاحب بھی مکمل طور پر مُصر ہیں کہ میں نے تعلیم جاری رکھنی ہے، وہ تعلیم ترک پر بالکل راضی نہیں ہیں؛ کیونکہ میرے والد صاحب شریعت کے پابند نہیں ہیں۔ میں اس کیفیت میں کیا کروں؟ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

ملازمت اور تعلیمی سرگرمیوں کے دوران مخلوط ماحول جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی خرابیاں اور مفاسد لازم آتے ہیں، اس بارے میں آپ تفصیلات جاننے کے لیے سوال نمبر: (1200 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اسی طرح اس لڑکی کے سرپرست اور ولی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ مخلوط ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کرے؛ کیونکہ یہ تو اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والی ذمہ داری میں کوتاہی اور کاہلی ہے، یہاں اس کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ حرام کام سے روکے، اور گناہوں سے بچائے، غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بیٹی کی عزت کو محفوظ بنائے۔

دوم:
کسی بھی عورت کے لیے محرم کے بغیر سفر کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (کوئی بھی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔) بخاری: (1862)

اسی طرح صحیح مسلم : (1339)میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے محرم کے بغیر ایک دن کی مسافت کا سفر کرنا جائز نہیں ہے۔)

تاہم کسی شہر میں محرم کے بغیر رہنا تو یہ اس وقت ممنوع نہیں ہے جب وہاں کسی قسم کا کوئی خوف اور خدشہ نہ ہو، اور کہیں بھی آتے جاتے اللہ تعالی کو اپنا نگران سمجھے، نیز مردوں کے ساتھ اختلاط نہ کرے ۔

چنانچہ اس بنا پر اگر آپ کا محرم آپ کے ساتھ سفر کرے اور یونیورسٹی کے شہر تک آپ کو پہنچا دے، وہاں آپ پر امن جگہ پر رہائش پذیر رہیں، یونیورسٹی جاتے ہوئے شرعی آداب ملحوظ خاطر رکھیں تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔

اور اگر فرض کریں کہ سفر میں آتے جاتے آپ کے ساتھ کوئی محرم نہیں ہوتا اور آپ کے گھر والے مذکورہ دونوں یونیورسٹیوں میں سے کسی ایک میں تعلیم جاری رکھنے پر مُصر ہوں ، اور آپ کے پاس تعلیم چھوڑنے کا اختیار بھی نہ ہو تو پھر اصول یہ ہے کہ: چھوٹی خرابی کو برداشت کر کے بڑی خرابی سے بچ جائیں۔

لہذا آپ دونوں میں کم خرابی والا معاملہ اپنائیں، اس کے لیے آپ دونوں اختیارات پر غور و فکر کریں تو ممکن ہے کہ آپ کا تنہا سفر کرنا کم خرابی کا باعث ہو؛ کیونکہ اس طرح آپ مخلوط نظام تعلیم سے محفوظ ہو جائیں گی، لیکن یہاں خرابی یہ ہے کہ آپ اپنے گھر والوں سے دور، اجنبی ملک میں ہوں گی۔ تاہم اگر یہ ممکن ہو کہ آپ اپنے رضاعی چچا سے رابطہ کریں اور وہ آپ کی دیکھ بھال کرتا رہے اور آپ کا تعاون کرے تو یہ بہت اچھا ہو گا۔

یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنا ایمان بڑھائیں اور اللہ تعالی کے ساتھ تعلق مضبوط کریں، نیک سہیلیوں کے ساتھ رہیں، اور حفظ قرآن کریم جیسے اچھے امور میں اپنے آپ کو مشغول رکھیں، نماز اور روزوں کی پابندی کریں۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کو کامیاب فرمائے اور درست فیصلے کروائے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب