جمعرات 19 شعبان 1445 - 29 فروری 2024
اردو

ڈپریشن کے علاج کے لیے کون سا طریقہ کار بہتر ہے؟

سوال

ایک شخص شدید نفسیاتی تناؤ کا شکار ہے، اس نے اللہ تعالی سے دعا بھی کی ہے کہ اللہ تعالی اسے اس پریشانی ، ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے نجات دے ، تو کیا اس کے لیے کسی مسلمان ماہر نفسیات سے رجوع کرنا جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو پھر کیا ضروری ہے کہ ہمیں اس مسلمان معالج کے عقیدے کے متعلق علم ہو؟ اور کیا اعصاب پر اثر انداز ہونے والی ادویہ استعمال کرنا جائز ہو گا؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

انسان کو جو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں ان کا علاج کرنا جائز ہے، یہ منع نہیں ہے، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ ادویات کی وجہ سے جسم پر منفی اثرات موجودہ خرابی سے زیادہ رونما نہ ہوں۔

نفسیاتی مریض ہوں یا جسمانی ہم تمام بیماروں کو یہ نصیحت کریں گے کہ سب سے پہلے علاج کے لیے شرعی دم کا سہارا لیا کریں، شرعی دم میں ایسی آیات اور نبوی دعائیں ہیں جن کے متعلق آتا ہے کہ ان میں بیماریوں کا شرعی علاج ہے۔

اسی طرح ہم قدرتی چیزوں کے ذریعے علاج کی نصیحت بھی کریں گے، مثلاً: اللہ تعالی نے شہد اور جڑی بوٹیوں وغیرہ میں بہت سے امراض کے لیے شفا رکھی ہے، اور ان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ان چیزوں کے منفی اثرات بھی نہیں ہوتے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نفسیاتی امراض کے لیے کیمیکل سے بنی مصنوعی ادویات کے ذریعے علاج مت کریں، کیونکہ نفسیاتی مریض کو کیمیائی علاج کی بجائے روحانی علاج کی زیادہ ضرورت ہے۔

نفسیاتی مریض کو اللہ تعالی پر اپنے ایمان ، توکل اور بھروسے کو زیادہ کرنے کی ضرورت ہے، اللہ تعالی سے دعائیں بھی کرے اور اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط بنائے، جب نفسیاتی مریض یہ کام کرنے میں کامیاب ہو گیا تو ڈپریشن اس سے کوسوں دور چلی جائے گی۔ قلب و سینہ نیکیوں کے لیے آمادہ ہو جائے تو اس کا نفسیاتی بیماریاں ختم کرنے میں بہت زیادہ مثبت کردار ہوتا ہے، اس لیے ہم یہ نہیں سمجھتے کہ آپ کسی خراب نظریات والے ماہر نفسیات کے پاس جائیں، چہ جائیکہ آپ کسی کافر ماہر نفسیات سے اپنا علاج کروائیں۔ معالج شخص جس قدر اللہ تعالی اور دینِ الہی کے متعلق بصیرت رکھتا ہو گا، مریض کے لیے اتنا ہی خیر خواہ ہو گا۔

فرمانِ باری تعالی ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ترجمہ: مرد ہو یا عورت جو بھی حالت ایمان میں عمل صالح کرے گا تو ہم اسے نہایت آسودہ زندگی لازمی عطا کریں گے، اور ہم انہیں ان کے بہترین اعمال کا ضرور اجر عطا فرمائیں گے۔[النحل: 97]

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (مومن کا معاملہ تعجب خیز ہے؛ یقیناً اس کا ہر معاملہ خیر والا ہے، اور یہ صرف مومن کے لیے ہی ہے کہ اگر اسے خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے ؛اس طرح یہ شکر اس کے لیے خیر کا باعث بنتا ہے، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اس طرح یہ صبر اس کے لیے خیر کا باعث بنتا ہے۔) مسلم: (2999)

دنیا ہی مسلمان کا ہدف بن جائے یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے، اپنی روزی روٹی کے متعلق پریشانی کو قلب و عقل پر بٹھا لے تو اس سے بیماری اور پریشانی بڑھتی ہی چلی جائے گی۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جس شخص کا مقصد آخرت ہو تو اللہ تعالی اس کے دل کو غنی بنا دیتا ہے، اور اس کے معاملات بھی یکجا کر دیتا ہے، اس کے پاس دنیا ذلیل ہو کر آتی ہے۔ اور جس شخص کا مقصد دنیا ہو تو اللہ تعالی غربت اس کے ماتھے پر عیاں کر دیتا ہے، اور اس کے معاملات بھی بکھیر دیتا ہے اور اسے دنیا بھی اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔) اس حدیث کو ترمذی: (2389) نے روایت کیا ہے اور صحیح الجامع: (6510) میں اسے علامہ البانیؒ نے صحیح قرار دیا ہے۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جس شخص کا صبح ، شام مقصد صرف ایک اللہ تعالی کی ذات ہو تو اللہ تعالی اس کی ضرورتوں کو خود ہی پورا فرماتا ہے، اسے جتنی بھی پریشانیاں آتی ہے اللہ تعالی انہیں خود ہی حل فرما دیتا ہے، اس کے دل کو اپنی محبت کے لیے ، اس کی زبان کو اپنے ذکر کے لیے، اس کے اعضا کو اپنی اطاعت گزاری کے لیے فراغت نصیب کرتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص صبح سے لے کر شام تک دنیا داری کے پیچھے پڑا ہوا ہو، تو اللہ تعالی بھی دنیا بھر کے غم، پریشانیاں، اور نقصانات اسی پر ڈال دیتا ہے اور اسے اسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس طرح اس کے دل میں اپنی محبت کی بجائے مخلوق کی محبت ڈال دیتا ہے، اس کی زبان پر اپنے ذکر کی بجائے مخلوق کا ذکر ڈال دیتا ہے، اس کے اعضا پر اپنی اطاعت کی بجائے مخلوق کی نوکری چاکری ڈال دیتا ہے، وہ بے چارہ ایسے دوسروں کی خدمت میں مصروف ڈنگروں کی طرح مصروف رہتا ہے۔۔۔ چنانچہ در حقیقت جو بھی اللہ تعالی کی بندگی ، اطاعت، اور محبت سے رو گردانی کرے تو وہ مخلوق کی بندگی، محبت اور خدمت میں ملوث کر دیا جاتا ہے، اسی لیے فرمایا: وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ ترجمہ: اور جو رحمن کے ذکر سے اعراض کرے تو ہم اس کے لیے شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کے ساتھ چمٹا رہتا ہے۔[الزخرف: 36] " ختم شد
" الفوائد " ( ص 159 )

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال پوچھا گیا:
کیا کوئی مومن نفسیاتی مریض بھی ہو سکتا ہے؟ شریعت میں اس کا کیا علاج ہے؟ واضح رہے کہ جدید طب میں نفسیاتی امراض کا مصنوعی ادویات سے ہی علاج کیا جاتا ہے۔

تو انہوں نے جواب دیا:
"انسان کو نفسیاتی امراض لاحق ہو سکتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے، اس کی وجہ مستقبل کے متعلق پریشانی، اور ماضی پر دکھ ہوتا ہے، جسمانی امراض انسان کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا نفسیاتی امراض پہنچاتے ہیں۔ نفسیاتی امراض کا علاج شرعی امور سے ممکن ہے، یعنی دم اور رقیہ کے ذریعے، شرعی علاج کیمیائی ادویہ کے ذریعے علاج سے زیادہ مفید ہے۔ یہ مشہور و معروف بات ہے۔

نفسیاتی مرض کا علاج ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ: (کوئی بھی مومن بندہ جسے کوئی پریشانی، غم اور دکھ لاحق اور وہ کہے: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَداً مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ القُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلاَءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي وَغَمِّيْ 
ترجمہ: یا اللہ! میں تیرا بندہ ہوں ، اور تیرے بندے اور باندی کا بیٹا ہوں میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، میری ذات پر تیرا ہی حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق تیرا فیصلہ سراپا عدل و انصاف ہے، میں تجھے تیرے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو تو نے اپنے لیے خود تجویز کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ تو قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور، غموں کے لیے باعث کشادگی اور پریشانیوں کے لیے دوری کا ذریعہ بنا دے۔

تو اللہ تعالی اس کے سب دکھڑے اور غم مٹا دیتا ہے، اور اس کی مشکل کشائی فرماتا ہے)" تو یہ شرعی علاج ہے۔

اسی طرح انسان کثرت سے کہے: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ترجمہ: تیرے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں، تو ہی پاکیزہ ہے، یقیناً میں ہی ظالموں میں سے تھا۔[الانبیاء: 87]

ایسی مزید دعاؤں کے لیے اہل علم کی اذکار سے متعلق تالیفات کا مطالعہ کرے، مثلاً: ابن القیم رحمہ اللہ کی کتاب: " الوابل الصيِّب " ، ایسے ہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب: " الكلِم الطيب " اسی طرح علامہ نووی رحمہ اللہ کی کتاب: " الأذكار " اور ابن القیم رحمہ اللہ کی کتاب: " زاد المعاد " وغیرہ

لیکن جس وقت انسان کا ایمان کمزور ہو تو نفسیات شرعی علاج کا اثر قبول نہیں کرتی، جس کی وجہ سے لوگ مادی ادویات پر اعتماد زیادہ کرنے لگتے ہیں اور شرعی علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ لہذا جب انسان کا ایمان مضبوط ہو تو شرعی علاج کا اثر بھر پور ہوتا ہے، بلکہ ان کی تاثیر مادی ادویات سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جیسے کہ ایک واقعہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی سریہ میں بھیجا اور وہ کسی عرب قوم کے پاس بطور مہمان رکے، لیکن انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی، پھر اللہ کا کرنا ہوا کہ ان کے سربراہ کو سانپ نے کاٹ لیا۔ جس پر وہ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ : یہ جو لوگ تمہارے قریب ہی مسافر آ کر رکے ہیں ان سے بات کرو، شاید ان میں کوئی دم کرنے والا موجود ہو، تو اس پر کچھ صحابہ کرام نے انہیں کہا کہ: ہم تمہارے سربراہ کو اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمیں اتنی مقدار میں بکریاں نہیں دو گے۔ انہوں نے صحابہ کرام کی اس بات پر اتفاق کر لیا اور کہا ٹھیک ہے۔ تو ایک صحابی نے جا کر اس ڈسے ہوئے چودھری کو دم کیا، اور صرف سورت فاتحہ ہی پڑھی ، تو یہ ڈسا ہوا شخص ایسے توانا ہو کر کھڑا ہوا جیسے کہ وہ جکڑا ہوا تھا اور کسی نے رسی کھول دی۔

تو سورت فاتحہ نے اس شخص پر اس طرح اثر کیا ؛ کیونکہ یہ سورت ایسے شخص کی طرف سے پڑھی گئی تھی جس کا دل ایمان سے بھر پور تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ان کے مدینہ واپس لوٹنے پر ان سے پوچھا تھا: (تمہیں کس نے بتلایا تھا کہ یہ سورت فاتحہ دم بھی ہے؟)

لیکن ہمارے ہاں دین بھی کمزور اور ایمان بھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ ظاہری اور مادی چیزوں پر اعتماد کرنے لگے، بلکہ مادی چیزوں میں اوندھے منہ گرے ہوئے ہیں۔

ان کے مقابلے میں کچھ شعبدہ باز لوگ ہیں جو لوگوں کی عقلوں سے کھلواڑ کرتے ہیں، لوگوں کی صلاحیتوں اور باتوں کا استعمال کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ وہ نیک اور مخلص دم کرنے والے ہیں حالانکہ وہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپ کر رہے ہیں، تو در حقیقت لوگ دو مختلف انتہاؤں پر ہیں، کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ دم کا بالکل بھی اثر نہیں ہوتا، جبکہ کچھ غلط طریقے سے دم کے نام پر مال بٹورتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اس مسئلے میں اعتدال پسند نقطہ نظر رکھتے ہیں۔
" فتاوى إسلامية " ( 4 / 465 ، 466 )

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو بری پریشانیوں، اور تکالیف سے محفوظ رکھے، راسخ ایمان کے لیے ہماری شرح صدر فرمائے اور ہمیں ہدایت و اطمینان عطا فرمائے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب