منگل 5 ربیع الاول 1440 - 13 نومبر 2018
اردو

رمضان میں بغیر عذر کے روزے چھوڑنے والے کا حکم

سوال

سوال: روزے نہ رکھنے والے بالغ شخص کا کیا حکم ہے؟ اور دنیا میں اس کی کیا سزا ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

رمضان کے روزے رکھنا اسلام کا رکن ہے، چنانچہ کسی بھی بالغ ، عاقل اور مکلف مسلمان کیلیے رمضان کے روزے بغیر عذر کے چھوڑنا جائز نہیں ہے، روزہ چھوڑنے کا عذر سفر ، بیماری اور دیگر شرعی وجوہات  پر مشتمل ہے،  چنانچہ اگر کوئی شخص صرف ایک دن کا روزہ بغیر کسی شرعی عذر کے چھوڑ دے تو اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا، اور اپنے آپ کو اللہ تعالی کی ناراضگی  کا مستحق ٹھہرایا، اس  پر اس گناہ سے سچی توبہ  کرنا لازمی ہے، نیز اکثر اہل علم کے ہاں چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بھی ضروری ہے، کچھ اہل علم نے اس موقف پر اجماع بھی نقل کیا ہے۔

مزید تفصیلات کیلیے سوال نمبر: (234125) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اور جو شخص رمضان میں جان بوجھ کر روزہ اس لیے چھوڑ دیتا ہے کہ وہ روزے کی فرضیت کو ہی نہیں مانتا تو اسے اپنے موقف سے توبہ کا موقع دیا جائے گا ، تو بہ کر لے تو اچھا ہے وگرنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔

کھلے عام روزہ خوری کرنے والے کو حکمران کی جانب سے تعزیری سزا دی جائے گی، اس کی سزا اتنی سخت ہونی چاہیے کہ  مجرم کو تو نصیحت ہو ہی ساتھ میں دوسروں کو بھی سبق ملے۔

اس بارے میں اہل علم کے درج ذیل اقوال ہیں:

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کوئی شخص رمضان میں روزے نہ رکھے اور اسے اپنے لیے حلال سمجھے حالانکہ اسے اس کی حرمت کا علم بھی ہو تو اسے قتل کرنا  واجب ہے۔

اور اگر وہ فاسق شخص ہے: تو اسے رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر سزا دی جائے گا اور سزا کا تعین حکمران کی صوابدید پر ہوگا۔

اور اگر اسے روزوں کی فرضیت کا علم ہی نہیں ہے تو پھر اسے سمجھایا جائے گا" انتہی
"الفتاوى الكبرى" (2/ 473)

اسی طرح ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"140 -141 واں کبیرہ گناہ: رمضان میں روزے نہ رکھنا، یا رمضان میں جماع وغیرہ سے روزہ توڑ دینا  حالانکہ سفر یا بیماری کی صورت میں کوئی عذر بھی نہ ہو" انتہی
"الزواجر" (1/ 323)

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
"بغیر کسی شرعی عذر کے مکلف شخص کی جانب سے رمضان میں روزہ چھوڑنا کبیرہ گناہ ہے" انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (10/ 357)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"رمضان کا ایک روزہ بھی بغیر کسی شرعی عذر کے چھوڑنے والا بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، چونکہ اللہ تعالی سے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے اس لیے اسے سچے دل کے ساتھ توبہ کرنی چاہیے، اپنے کیے پر پشیمان ہو اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم کرے، اللہ تعالی سے کثرت کے ساتھ بخشش مانگے، اور جس دن کا روزہ اس نے چھوڑا ہے اس کی جلد از جلد قضا دے" انتہی

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے رمضان میں بغیر کسی عذر کے روزہ چھوڑنے کے متعلق پوچھا گیا  تو انہوں نے کہا:
"بغیر عذر کے رمضان کا روزہ چھوڑنا کبیرہ ترین گناہ ہے، اس عمل کی وجہ سے انسان فاسق ہو جاتا ہے، اس پر اللہ تعالی سے توبہ کرنا ضروری ہے، اور اس دن کی جلد از جلد قضا بھی دے" انتہی
"مجموع فتاوى ورسائل ابن عثیمین" (19/ 89)

امام نسائی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "سنن النسائی الکبری" میں حدیث: (3273)  نقل کی ہے جسے ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا: (میں سویا ہوا تھا  کہ میرے پاس دو آدمی آئے اور انہوں نے مجھے میرے بازو سے پکڑ لیا)۔۔۔ لمبی حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی ہے کہ: (وہ مجھے ایک ایسی قوم کے پاس لے گئے جنہیں ان کی ایڑھیوں کے بل لٹکایا گیا تھا، ان کی بانچھیں چیر دی گئی تھیں اور ان سے خون بہہ رہا تھا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: "یہ افطاری کا وقت ہونے سے پہلے روزہ افطار کرنے والے لوگ ہیں")

اسے البانی رحمہ اللہ نے "سلسلہ صحیحہ "(3951)میں صحیح کہا ہے، اس کے بعد کہتے ہیں:
"یہ ایسے شخص کی سزا ہے جس نے روزہ تو رکھا لیکن اسے وقت سے پہلے ہی  کھول لیا، تو اس شخص کا حال کیا ہو گا جس نے بالکل روزہ رکھا ہی نہیں ہے! ہم اللہ تعالی سے دنیا و آخرت میں سلامتی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں" انتہی

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (38747) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں