جمعرات 13 شعبان 1440 - 18 اپریل 2019
اردو

فارمیسی میں کام کرنے اور ایسی ادویات بنانے یا بیچنے کا حکم جن میں الکحل یا جیلاٹین (Gelatine) شامل ہوتی ہے۔

سوال

میں دواخانے پر کام کرنے والا فارماسسٹ ہوں، میں اس وقت جرمنی میں مقیم ہوں اور جرمنی میں کام کے ساتھ تعلیم مکمل کرنے کیلیے اپنی ڈگری کا مساوی سرٹیفکیٹ لینے کے مرحلے میں ہوں۔ میں اس ملک میں فارمیسی پر کام کرنے کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میں مجھے ایسی دوا بنانا یا فروخت کرنا پڑتی ہے جس میں سور سے ماخوذ جیلاٹین (Gelatine) یا الکحل شامل ہوتی ہے، واضح رہے کہ اگر جیلاٹین (Gelatine) کا متبادل موجود ہو تو میں یہ ادویات مسلمانوں کو فروخت نہ کرنے کی پوری کوشش کروں گا ۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

الکحل یا خنزیر سے حاصل شدہ جیلاٹین (Gelatine) پر مشتمل ادویات بنانے  کی ملازمت کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ الکحل شراب ہے اور شراب تناول کرنا جائز نہیں ہے نہ ہی اس سے علاج کرنا جائز ہے، نیز شراب کو کھانے  یا کسی مشروب کے ساتھ ملانا بھی جائز نہیں ہے، بلکہ واجب یہ ہے کہ شراب کو تلف کر دیا جائے۔

اسی طرح جو چیز خنزیر سے حاصل کی جائے تو وہ نجس ہے اس سے اجتناب لازمی ہے بلکہ جس چیز کو لگ جائے اسے پاک کرنا بھی ضروری ہے، اس لیے کسی دوائی، کھانے یا مشروب میں اسے شامل کرنا جائز نہیں ہے۔

اس بارے میں ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"حرام چیزوں کے ذریعے علاج عقلی اور شرعی ہر دو اعتبار سے قبیح ہے: شرعی اعتبار سے اس لیے کہ ہم پہلے اس بارے میں احادیث  وغیرہ ذکر کر چکے ہیں، جبکہ عقل کے اعتبار سے اس لیے کہ اللہ تعالی نے اس چیز کو حرام اسی لیے کیا ہے کہ وہ چیز خبیث ہے، اللہ تعالی نے اس امت کو سزا دینے کیلیے کوئی بھی اچھی چیز حرام نہیں کی ، جیسے کہ بنی اسرائیل کو سزا دینے کیلیے کچھ چیزیں ان پر حرام کی گئیں تھیں، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ
ترجمہ: یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر پاکیزہ چیزیں [بطورِ سزا ] حرام کر دیں جو ان کیلیے حلال قرار دی گئیں تھیں۔[النساء: 160]
لہذا اس امت کیلیے کوئی بھی چیز حرام کی گئی ہے تو اس کی وجہ اس چیز کا خبیث ہونا ہے۔

نیز اللہ تعالی نے ان چیزوں کو حرام قرار دے کر اس امت کو مزید تحفظ اور  بچاؤ فراہم کیا ہے؛ اس لیے یہ بالکل بھی مناسب نہیں ہے کہ بیماریوں اور امراض سے شفا حرام چیزوں میں تلاش کی جائیں؛ کیونکہ اگرچہ حرام چیز بیماری کے خاتمے کیلیے مؤثر ہو سکتی ہے لیکن اس کے مضر اثرات دل میں موجودہ بیماری سے بڑی بیماری پیدا کر دیں گے؛ اس لیے کہ اس میں خباثت انتہائی طاقتور ہوتی ہے، گویا کہ حرام چیز سے علاج کرنے والا قلبی بیماری کے عوض میں جسم کو تندرستی دینے کا سودا کرتا ہے۔

اسی طرح کسی چیز کو حرام قرار دینے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس چیز سے دور رہیں، اس سے بچنے کیلیے تمام وسائل بروئے کار لائیں، لیکن اگر حرام چیزوں سے دوا بنائی جائے گی تو اس سے ان حرام چیزوں کے بارے میں ترغیب ملے گی اور استعمال میں بھی آئیں گے جو کہ شرعی مقاصد سے عین متصادم بات ہے۔

اسی طرح : حرام چیز اس لیے حرام ہے کہ وہ بذات خود بیماری ہے جیسے کہ صاحب شریعت نے واضح لفظوں میں یہ بات بیان فرمائی ہے، اس لیے ان چیزوں کو بطور دوا بھی اپنانا جائز نہیں ۔

یہ بات بھی اس میں شامل کریں کہ: حرام چیز کا استعمال انسانی روح  اور طبیعت میں خباثت پیدا کر دیتا ہے؛ کیونکہ انسانی مزاج دوا کے مزاج کو بہت جلدی اور واضح انداز میں قبول کرتا ہے، اس لیے اگر حرام چیز کا مزاج خباثت سے بھر پور ہوا تو استعمال کنندہ کا مزاج بھی ویسا ہی ہو جائے گا!

اسی لیے اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر ایسی غذائیں، مشروب اور لباس حرام قرار دئیے ہیں جو خبیث ہیں؛ کیونکہ اس سے انسانی نفس خباثت حاصل کرتا ہے۔" انتہی
"زاد المعاد" (4/141)

اسی طرح "فتاوى اللجنة الدائمة" (22/106) میں ہے کہ:
"الکحل یا شراب کو کھانے پینے کے علاوہ دیگر استعمال میں لانے کا کیا حکم ہے، مثلاً: انہیں گھر کے سامان، علاج، بطور ایندھن، صفائی، خوشبو، اور سرکہ وغیرہ بنانے کیلیے استعمال کیا جائے"

جواب:  جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو تو وہ شراب ہے، اور شراب چاہے تھوڑی ہو یا زیادہ ، اسے الکحل کا نام  دیا جائے یا کوئی اور ہر حالت میں اسے انڈیل کر ضائع کر دینا واجب ہے، نیز اسے کسی بھی استعمال کیلیے رکھنا چاہے صفائی کیلیے ہو یا چیزوں کو پاک کرنے کیلیے یا بطور ایندھن استعمال  کیلیے یا خوشبو میں ڈالنے کیلیے یا اسے سرکہ بنانے کیلیے یا کسی بھی اور استعمال کیلیے  رکھنا حرام ہے۔

البتہ جس کی زیادہ مقدار بھی نشہ آور نہ ہو  تو وہ شراب کے زمرے میں نہیں آتی، اسے صفائی ستھرائی، خوشبو، علاج، اور زخموں کو صاف کرنے اور  دیگر کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عبد الله بن قعود ۔۔۔ عبد الله بن غديان ۔۔۔عبد الرزاق عفیفی۔۔۔ عبد العزيز بن عبد الله بن باز " انتہی

دوم:

اگر کوئی ادارہ دوا میں الکحل یا حرام جیلاٹین شامل کر دیتا ہے تو وہی گناہ گار ہو ں گے، پھر اس کے بعد ملاوٹ شدہ دوا کو دیکھیں گے: اگر اس میں شامل کی جانے والی حرام چیز معمولی مقدار میں ہے  کہ اس کی بہت زیادہ مقدار بھی استعمال کی جائے تو نشہ آور نہیں ہوتی ، یا اتنی معمولی مقدار ہے کہ وہ دوا میں تحلیل ہو گئی ہے اور اس کا اپنا کوئی وجود باقی نہیں رہا کہ اس کا ذائقہ، رنگ اور بو کچھ بھی باقی نہ ہو تو پھر اسے استعمال کرنا اور اس سے علاج کرنا جائز ہے۔

جیسے کہ فتاوى اللجنة الدائمة (22/ 297) میں ہے کہ:
"بازار میں کچھ ادویات  یا ٹافیاں پائی جاتی ہیں جن میں انتہائی معمولی مقدار میں الکحل شامل ہے، تو کیا انہیں کھانا جائز ہے؟ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص انہیں پیٹ بھر کر بھی کھا لے تو کبھی بھی نشے کی حد تک نہیں پہنچے گا۔

جواب: اگر ٹافی یا ادویات میں الکحل کی مقدار انتہائی معمولی ہو کہ ان کی بہت زیادہ مقدار کھانے پر بھی نشہ نہیں آتا تو پھر انہیں کھانا یا فروخت کرنا جائز ہے؛ کیونکہ اس میں الکحل کا ذائقے ، رنگت، یا بو میں سے کسی پر کوئی بھی اثر رونما نہیں ہوگا، اس لیے الکحل اس میں اپنا وجود کھو چکی ہے اور طاہر و مباح شے میں تبدیل ہو چکی ہے، لیکن ایک مسلمان کو چاہیے کہ ایسی کوئی چیز خود مت بنائے اور نہ ہی مسلمانوں کے کھانے میں اسے شامل کرے اور نہ ہی ایسا کھانا بنانے کیلیے تعاون کرے" انتہی

سوم:

ایسی ادویات فروخت کرنا جائز ہے جن میں الکحل یا حرام جیلاٹین انتہائی معمولی مقدار میں  موجود ہو یا اپنی اصلی ماہیت کھو چکی ہو۔

چنانچہ جن ادویات میں الکحل انتہائی معمولی مقدار میں  ہے ان کے جائز ہونے کے متعلق متعدد فقہی اکادمیوں ، فتوی کمیٹیوں اور عالم اسلام کے متعدد دار الافتاء کی جانب سے فتاوی صادر ہو چکے ہیں، اور سب  کے سب اس بات کو افضل  اور مستحب قرار دیتے ہیں کہ الکحل کو ادویات سے دور رکھا جائے تا کہ کسی قسم کا شبہ ہی پیدا نہ ہو۔

چنانچہ اسلامی کانفرنس تنظیم کے ماتحت اسلامی فقہ اکیڈمی کے اعلامیہ نمبر: 23 (11/3)  جو کہ عالمی انسٹیٹیوٹ برائے اسلامی فکر (IIIT) واشنگٹن کے سوالات کے متعلق ہے، اس میں ہے کہ:

"بارہواں سوال:

بہت سی ایسی ادویات ہیں جن میں الکحل کی مختلف مقدار پائی جاتی ہے جو کہ ایک فیصد سے لیکر 25 فیصد کے درمیان ہوتی ہے، ان ادویات میں سے اکثر ایسی دوائیاں ہیں جو کہ زکام، گلہ بند ہونے، اور کھانسی جیسی عام و معروف بیماریوں  کیلیے استعمال ہوتی ہیں، نیز ان بیماریوں کیلیے موجود ادویات میں 95 فیصد ادویات میں الکحل پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے الکحل سے خالی ادویات کی تلاش بہت مشکل ہو جاتی ہے، تو ایسی ادویات کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب:  اگر الکحل سے پاک ادویات مسلمان کیلیے میسر نہ ہوں تو پھر الکحل ملی ہوئی ادویات مسلمان استعمال کر سکتا ہے، بشرطیکہ کہ کوئی اس پیشے کا ماہر طبیب اس کیلیے یہ دوا تجویز کرے" انتہی
"مجلۃ المجمع" شمارہ نمبر:  3، جلد نمبر:   3، صفحہ:  1087

اسی طرح رابطہ عالم اسلامی کے تحت فقہی اکیڈمی  کے اعلامیہ میں ہے کہ:
"ایسی ادویات کو استعمال کرنا جائز ہے جن میں الکحل اتنی معمولی مقدار میں ہو جو اپنا وجود باقی نہ رکھ سکے، نیز الکحل ایسی صورت میں دوا میں شامل کی جائے جب دوا کی تیاری کے مراحل کیلیے کوئی دوسرا متبادل میسر نہ ہو، لیکن یہ شرط ہے کہ کوئی عادل طبیب اس دوا کو  بطور نسخہ تجویز کرے" انتہی
"قرارات المجمع الفقهي الإسلامي بمكة المكرمة" صفحہ: 341

ایسی ادویات اور لوشن جن میں حرام جیلاٹین یا گلیسرین شامل ہوتی ہے ان کے بارے میں تفصیل سے جاننے کیلیے سوال نمبر: (97541) کا جواب ملاحظہ کریں۔

چہارم:

اگر کوئی ایسی دوا یا لوشن پائی جائے جس کی زیادہ مقدار استعمال کرنے پر نشہ ہونے لگے، یا اس دوائی میں خنزیر  کی چربی اس انداز سے شامل ہو کہ وہ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہو، تو ایسی صورت میں وہ دوا استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اسے فروخت کرنا جائز ہے۔

لہذا فارمیسی اور میڈیکل اسٹور میں کام کرنے والے افراد کیلیے انہیں فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

خلاصہ کلام:

یہ ہے کہ دوا خانے اور فارمیسی میں کام کرنا اصلاً جائز ہے، نیز عام طور پر ادویات مباح چیزوں سے  بنائی جاتی ہیں ۔

اگر کسی ایسی دوا کا علم ہو کہ اس کا استعمال حرام ہے تو پھر اسے فروخت کرنا بھی جائز نہیں ہے، تاہم آپ فارمیسی میں اپنی ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں لیکن حرام چیز فروخت کرنے سے اجتناب کریں گے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں