سوموار 15 رمضان 1440 - 20 مئی 2019
اردو

كيا اپنى زكاۃ مقروض ماموں كے دے دے، اور كيا ايسے اس كى خبر دے يا نہيں ؟

13937

تاریخ اشاعت : 12-02-2011

مشاہدات : 3037

سوال

بنك ميں ميرى كچھ رقم جمع ہے، اور اس كى زكاۃ نكالنے كا وقت آ گيا ہے، اور ميرے ماموں مقروض ہيں، اور وہ قرض كى ادائيگى كى استطاعت نہيں ركھتے، تو كيا ميرے ليے اپنى زكاۃ انہيں دينى جائز ہے تا كہ وہ اپنا قرض ادا كر سكيں؟ كيا ميں انہيں زكاۃ دے سكتا ہوں؟
دوم: كيا ميں ان كے علم ميں لائے بغير زكاۃ كا مال انہيں دے سكتا ہوں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

جب آپ كے ماموں فقير اور محتاج ہيں اور وہ زكاۃ كے مسحقين ميں شمار ہوتے ہوں تو پھر آپ اپنے مال كى زكاۃ انہيں دے سكتے ہيں، اور اس ميں يہ شرط نہيں كہ آپ ان كے علم ميں لائيں.

ليكن اگر آپ كو ان كے حالات كے بارہ ميں اچھى طرح معلومات نہيں ہيں تو پھر آپ انہيں ضرور بتائيں كہ يہ مال زكاۃ كا ہے تا كہ اگر وہ زكاۃ كے مستحق نہيں تو وہ زكاۃ لينے سے بچ سكيں.

ماخذ: الشیخ سعد الحمید

تاثرات بھیجیں