ہفتہ 15 شعبان 1440 - 20 اپریل 2019
اردو

نماز عشا کے بعد چار رکعات کی فضیلت

سوال

سوال: کیا یہ حدیث: (جس شخص نے عشا ءکے بعد چار رکعات ادا کیں تو وہ اس کیلیے لیلۃ القدر میں چار رکعات ادا کرنے کے برابر ہوں گی) صحیح ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت گھر واپس آتے تو چار رکعات  پڑھتے تھے، اس بات کا ذکر ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے، آپ کہتے ہیں کہ: "میں نے اپنی خالہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا   کے گھر میں رات گزاری ، اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی کے ہاں تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کی نماز پڑھی اور اپنے گھر آ کر چار رکعات پڑھیں، اور پھر سو گئے ، پھر آپ بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: (لڑکا سو گیا ہے) یا آپ نے اسی سے ملتا جلتا کوئی اور جملہ بولا، پھر آپ قیام اللیل کیلیے  کھڑے ہو گئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات ادا کیں اور پھر دو رکعت پڑھیں، اور پھر دوبارہ سو گئے، اتنی گہری نیند سوئے کہ مجھے آپ کے خراٹے سنائی دینے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز کیلیے مسجد چلے گئے"
بخاری: (117)

بلکہ ایک حدیث -جس میں معمولی کمزوری ہے -کے مطابق عشا کی نماز کے بعد یہ چار رکعات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز پڑھ کر میرے پاس آتے اور چار یا چھ رکعات ادا کرتے تھے"
ابو داود: (1303) نے اسے روایت کیا ہے لیکن البانی نے اسے ضعیف ابو داود (الام) (2/57) میں ضعیف قرار دیا ہے۔

اسی طرح کی ایک حدیث عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، آپ کہتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء سے فارغ ہو جاتے تو چار رکعات ادا کرتے اور پھر ایک وتر پڑھتے، پھر اس کے بعد سو جاتے، اور پھر اٹھ کر رات کا قیام کرتے" امام احمد نے اسے مسند احمد (26/34) میں ذکر کیا ہے اور مؤسسہ رسالہ  کے ماتحت مسند احمد پر کام کرنے محققین نے اسے منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے۔

چنانچہ عملی سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشا ءکی نماز کے بعد چار رکعات پڑھا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام کا عشا کی نماز کے بعد ان چار رکعات پر اتفاق ہے، چاہے ان چار رکعات کے بارے میں کوئی خاص حدیث ثابت ہے یا نہیں ۔

حنفی فقہائے کرام نے عشا کے بعد کی ان چار رکعات کو سنت مؤکدہ قرار دیا ہے، جیسے کہ " فتح القدير " (441/1-449) میں موجود ہے۔

لیکن بہتر یہی معلوم ہوتا ہے -واللہ  اعلم-  کہ یہ چار رکعات مطلق نفل اور قیام اللیل میں شامل ہیں، ابن قدامہ رحمہ اللہ نے اسے " المغنی" (2/96) میں "نفل نماز "سے موسوم کیا ہے۔

دوم:

عشا ءکی نماز کے بعد چار رکعات کی فضیلت میں پانچ مرفوع احادیث اور دس آثار صحابہ و تابعین قولی یا عملی صورت میں وارد ہیں، اس بارے میں ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے "مصنف ابن ابی شیبہ" میں مستقل عنوان قائم کیا ہے: "باب ہے: عشا کے بعد چار رکعات کے بارے میں" اسی طرح مروزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب : "قیام اللیل" میں خصوصی عنوان قائم کرتے ہوئے کہا ہے کہ: "باب ہے: عشا کے بعد چار رکعات کے بارے میں" اسی طرح بیہقی نے "سنن الکبری" میں عنوان قائم کرتے ہوئے کہا: "باب ہے اس شخص کے بارے میں جو عشا کے بعد چار یا زیادہ رکعات پڑھے"، یہاں ہم یہ احادیث اور آثار ذکر کرینگے اور پھر ان پر مختصر گفتگو بھی کرینگے:

1- ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص با جماعت عشا کی نماز ادا کرے اور مسجد سے نکلنے سے پہلے چار رکعات ادا کرے تو یہ اس کیلیے لیلۃ القدر میں چار رکعات ادا کرنے کے برابر ہوں گی)
اسے طبرانی نے " المعجم الکبیر " (13-14 صفحہ: 130)، اور " المعجم الأوسط " (5/254)  میں اس سند کے ساتھ ذکر کیا ہے: "حدثنا محمَّد بن الفَضْل السَّقَطی ، ثنا مَهْدی  بن حَفْص ، ثنا إسحاقُ الأزرق ، ثنا أبو حنیفہ، عن مُحارب بن دِثار ، عن ابن عمر "

پھر امام طبرانی کی اسی سند سے ابو نعیم نے مسند ابو حنیفہ  صفحہ: 223 میں اسے روایت کیا ہے۔

امام طبرانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: اس حدیث کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صرف محارب بن دثار بیان کرتے ہیں اور محارب بن دثار سے صرف ابو حنیفہ بیان کرتے ہیں،  اسے اکیلے اسحاق بن ازرق روایت کرتے  ہیں۔

عراقی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس سند میں کمزوری ہے" انتہی
" طرح التثريب " (4/162)

ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس کی سند میں ضعیف راوی ہے ، جس پر جھوٹ بولنے کی تہمت نہیں "انتہی
" مجمع الزوائد " (2/40)

نیز ایک جگہ یہ بھی کہا کہ:
"اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جو حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہے" انتہی
" مجمع الزوائد " (2/231)

شیخ البانی رحمہ اللہ  امام طبرانی رحمہ اللہ کی گفتگو " اسے اکیلے اسحاق بن ازرق روایت کرتے  ہیں "پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"اسحاق سے مراد ابن یوسف واسطی ہے؛ لیکن وہ ثقہ ہیں، لیکن ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علاوہ اس کی سند کے دیگر راوی بھی  معتمد ہیں؛ کیونکہ اہل علم نے ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ضعیف قرار دیا ہے۔۔۔ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ضعیف ہونے کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے حافظ ہیثمی نے حدیث کے بعد کہا: " اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جو حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہے " اور نام نہیں لیا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہیثمی رحمہ اللہ کے زمانے میں موجود متعصب احناف کے شر سے بچنے کیلیے ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کا نام کھلے لفظوں میں نہیں لیا، اللہ تعالی ہمیں ہمہ قسم کے تعصب اور متعصبین سے محفوظ رکھے!! اس حدیث کی سند میں سقطی کے علاوہ تمام راویوں کے حالات زندگی "التہذیب" میں موجود ہیں ، جبکہ سقطی کے حالات زندگی " تاریخ بغداد " (3/153) میں موجود ہیں، چنانچہ خطیب بغدادی ان کے بارے میں کہتے ہیں: "آپ ثقہ تھے" نیز دارقطنی  نے سقطی کا ذکر کر کے انہیں "صدوق" کہا ہے" انتہی مختصراً
" سلسلة الأحاديث الضعيفة " (5060)

2- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (جو شخص عشا کی نماز کے بعد پہلی دو رکعتوں میں سورۃ الکافرون  اور سورۃ الاخلاص پڑھے جبکہ آخری دو رکعتوں میں سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک پڑھے تو یہ اس کیلیے لیلۃ القدر میں چار رکعت پڑھنے کے برابر لکھی جائیں گی)
اسے مروزی نے " قیام اللیل " (ص/92)  میں طبرانی نے " المعجم الكبير " (11/437) میں اور بیہقی نے  " السنن الکبری " (2/671)  میں روایت کیا ہے، سب کی سند "سعيد بن ابی  مریم ، حدثني عبد الله بن فروخ ، حدثني أبو فروة ، عن سالم الأفطس ، عن سعيد بن جبير ، عن ابن عباس  "ہے۔

اس کے بارے میں امام بیہقی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس روایت کو عبد اللہ بن فروخ مصری اکیلا بیان کرتا ہے"

نیز یہ سند ابو فروہ یزید بن سنان رہاوی کی وجہ سے ضعیف بھی ہے؛ علم حدیث کے ماہرین متفقہ طور پر اسے ضعیف کہتے ہیں۔
امام یحیی بن معین کہتے ہیں: " ليس بشيء " یعنی اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

امام نسائی  کہتے ہیں: " متروك الحديث " یعنی: اس کی احادیث کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

امام ابن عدی کہتے ہیں: " عامة حديثه غير محفوظ "اس کی اکثر احادیث محفوظ نہیں ہیں۔
مزید کیلیے دیکھیں: " تهذيب التهذيب " (11/336)

یہی وجہ ہے کہ: اس حدیث کو ہیثمی رحمہ اللہ نے " مجمع الزوائد " (2/231) میں اور البانی رحمہ اللہ نے " سلسلہ احادیث ضعیفہ "میں حدیث نمبر:  (5060) پر گفتگو کرتے ہوئے ضعیف قرار دیا ہے۔

3- انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ظہر سے پہلے چار رکعات کا عشا کے بعد چار رکعات پڑھنے کے برابر ہیں، اور عشا کے بعد چار رکعات لیلۃ القدر میں چار رکعات پڑھنے کے برابر ہیں)
اس حدیث کو طبرانی نے " المعجم الأوسط " (3/141) اس سند سے بیان کیا ہے: "یحیی بن عقبة بن أبي العيزار ، عن محمد بن جحادة " اس کے بعد کہا کہ: اس حدیث کو محمد بن جحادہ سے یحیی کے علاوہ کسی نے بیان نہیں کیا ۔

لیکن یہ سند یحیی بن عقبہ بن ابو عیزار کی وجہ سے سخت ترین ضعیف ہے، اس کے بارے میں ابو حاتم کہتے ہیں: یہ احادیث گھڑتا تھا۔

امام بخاری کہتے ہیں: "یہ منکر الحدیث" ہے۔

ابن معین کہتے ہیں: "یہ کذاب اور خبیث ہے"
دیکھیں: " لسان المیزان " (8/464)

نیز ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث کی سند میں یحیی بن عقبہ بن ابو عیزار ہے اور وہ سخت ضعیف راوی ہے"
انتہی
" مجمع الزوائد " (2/230)

اسی طرح البانی  رحمہ الله  کہتے ہیں:

 " یہ روایت سخت ضعیف ہے" انتہی
" سلسلہ احادیث ضعیفہ " حدیث نمبر:  ( 2739- 5058)

4- براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص ظہر سے قبل چار رکعات ادا کرے تو وہ ایسے ہی جیسے اس نے اس رات تہجد میں چار رکعات ادا کیں، اور جو شخص عشا کی نماز کے بعد چار رکعات ادا کرے تو وہ اس کیلیے ایسے ہی ہے جیسے اس نے لیلۃ القدر میں چار رکعات ادا کیں، جس وقت کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان سے ملے اور وہ اس کے ہاتھ کو [سلام کرتے ہوئے]سچے دل سے تھامے ، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کو بخش دیا جاتا ہے)
اس روایت کو طبرانی نے: " المعجم الأوسط " (6/254) میں اس سند سے بیان کیا ہے: "حدثنا محمد بن علي الصائغ ، ثنا سعيد بن منصور ، ثنا ناهض بن سالم الباهلي ، ثنا عمار أبو هاشم ، عن الربيع بن لوط ، عن عمه البراء بن عازب رضي الله عنه"

اس روایت کو بیان کرنے کے بعد امام طبرانی کہتے ہیں:
اس حدیث کو ربیع بن لوط سے صرف عمار ابو ہاشم ہی بیان کرتے ہیں، اور ناھض بن سالم اسے بیان کرنے میں اکیلے ہیں۔

نیز ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس کی سند میں ناھض بن سالم  باہلی کے علاوہ بھی غیر معروف راوی ہیں مجھے ان کا تذکرہ کہیں نہیں ملا" انتہی
" مجمع الزوائد " (2/221)

اسی طرح البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ روایت ضعیف ہے، ناھض بن سالم  باہلی  کا تذکرہ مجھے نہیں ملا، نیز اس حدیث کے بارے میں ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس کی سند میں ناھض بن سالم  باہلی کے علاوہ بھی غیر معروف راوی ہیں مجھے ان کا تذکرہ کہیں نہیں ملا"  اب یہاں ناھض کے علاوہ اور کون سا راوی ہے جس کا تذکرہ نہیں ملا مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی؛ تاہم ہو سکتا ہے کہ یہ بات طبرانی رحمہ اللہ کے استاد سے متعلق ہو؛ کیونکہ طبرانی نے اس کی سند بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ: " حدثنا محمد بن علي الصائغ ، حدثنا سعيد بن منصور ، حدثنا ناهض بن سالم الباهلي ..." لیکن ہیثمی رحمہ اللہ کی یہ عادت ہے کہ وہ طبرانی کے مجہول یا غیر معروف اساتذہ جن کا تذکرہ میزان وغیرہ میں نہ ہو ان  کے بارے میں گفتگو نہیں فرماتے۔ واللہ اعلم" انتہی
" سلسلہ احادیث ضعیفہ "حدیث نمبر:  ( 5053)

5- یحیی بن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:  "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: ان دونوں سورتوں کی ہر ایک آیت دیگر سورتوں کی ستر آیات کے برابر ہے، اور جو کوئی انہیں عشا کے بعد پڑھے تو یہ پڑھنے والے کیلیے لیلۃ القدر میں پڑھنے کے برابر ہونگی"
اس روایت کو امام عبد الرزاق  نے " المصنف " (3/382)  میں معمر بن راشد کے واسطے سے یحیی بن ابی کثیر سے بیان کیا ہے، لیکن یہ روایت مرسل ہے، کیونکہ یحیی بن ابی کثیر چھوٹے تابعین میں شامل ہیں کیونکہ آپ کی وفات 132 ہجری میں ہوئی اب یہ نہیں معلوم کہ انہوں نے یہ روایت کس کے واسطے سے سنی ہے؟ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس طرح حدیث ضعیف ہو جاتی ہے، دیکھیں: " تهذيب الكمال " (11/269)

سوم:

اس بارے میں صحابہ کرام اور تابعین سے مروی آثار  درج ذیل ہیں:

1- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "جو شخص عشا کی نماز کے بعد چار رکعات ایک ہی سلام سے پڑھے تو یہ لیلۃ القدر میں چار رکعات کا قیام کرنے کے برابر ہونگی"
اسے امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے " المصنف " (2/127) میں اس سند سے بیان کیا ہے:" حدثنا وكيع ، عن عبد الجبار بن عباس ، عن قيس بن وهب ، عن مرة ، عن عبد الله" اور یہ سند متصل اور جید ہے۔

2- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: " جو شخص عشا کی نماز کے بعد چار رکعات پڑھے تو یہ لیلۃ القدر میں چار رکعات کا قیام کرنے کے برابر ہوں گی "
اسے امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے " المصنف " (2/127) میں اس سند سے بیان کیا ہے:" حدثنا ابن إدريس ، عن حصين ، عن مجاهد ، عن عبد الله بن عمرو "

اس سند کے بارے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ: اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ کیا مجاہد نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی ہے یا نہیں؟
تاہم بردیجی رحمہ اللہ کہتے ہیں:  مجاہد نے ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت لی ہے، اور ایک موقف یہ بھی ہے کہ انہوں نے ان سے روایت نہیں لی۔
دیکھیں: " تهذيب التهذيب " (10/43)

3- عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: " عشا کے بعد چار رکعات لیلۃ القدر میں چار رکعات ادا کرنے کے برابر ہوتی ہیں"
اسے امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے " المصنف " (2/127) میں اس سند سے بیان کیا ہے:" حدثنا محمد بن فضيل ، عن العلاء بن المسيب ، عن عبد الرحمن بن الأسود ، عن أبيه ، عن عائشة "

اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، لیکن علاء بن مسیب کے اساتذہ میں عبد الرحمن بن اسود کا تذکرہ ہمیں کہیں نہیں ملا۔

4- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: " جس شخص نے عشا کے بعد مسجد سے نکلنے سے پہلے چار رکعات ادا کیں تو وہ اس کیلیے لیلۃ القدر میں چار رکعات ادا کرنے کے برابر ہوں گی "
اس حدیث کو محمد بن حسن شیبانی  نے "الآثار" (1/292) میں اپنے شیخ امام ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے اس کی بقیہ سند یوں ہے: " حدثنا الحارث بن زياد أو محارب بن دثار – شک محمد بن حسن کی طرف سے ہے– عن ابن عمر "

یہ سند شک اور تردد پائے جانے کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ حارث بن زیادہ کے حالات زندگی ہمیں کہیں نہیں ملے، تاہم حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہاں راوی کا نام یقینی طور پر محارب بن دثار ہے، کیونکہ حارث بن زیادہ کا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگردوں میں کہیں بھی تذکرہ نہیں ملتا" انتہی
" الإيثار بمعرفة رواة الآثار " (ص/57)

5- کعب بن ماتع المعروف کعب الاحبار کہتے ہیں: " جس شخص نے عشا کے بعد چار رکعات اچھی طرح رکوع و سجود کے ساتھ ادا کیں تو وہ اس کیلیے لیلۃ القدر میں چار رکعات ادا کرنے کے برابر ہوں گی "

یہ روایت کعب الاحبار سے متعدد سندوں سے مروی ہے، ہم طوالت کے خوف سے سب سندیں بیان نہیں کرینگے، تاہم انہیں بیان کرنے والوں میں ابن ابی شیبہ، امام نسائی، دارقطنی، اور بیہقی وغیرہ شامل ہیں۔

شیخ البانی رحمہ اللہ اس روایت کی ایک سند کے بارے میں کہتے ہیں:
"اس سند میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے، لیکن یہ کعب الاحبار کا اپنا قول ہے، اگر وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیتے تو یہ تب بھی  دلیل نہیں بنتی تھی، کیونکہ پھر یہ حدیث مرسل ہوتی ، تو موقوف حالت میں حجت کیسے بن سکتی ہے؟!" انتہی
" سلسلہ احادیث ضعیفہ " (5053)

6- میسرہ اور زاذان کہتے ہیں کہ : "آپ ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرتے اور دو رکعات ظہر کے بعد، دو رکعات مغرب کے بعد،  چار رکعات عشا کے بعد اور دو رکعات فجر سے پہلے"

یہ روایت مجھے اسی طرح صحابی کا نام ذکر کیے بغیر ملی ہے ، لیکن قوی احتمال ہے کہ یہ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا عمل ہے، کیونکہ میسرہ علی رضی اللہ عنہ سے ہی روایات بیان کرتے ہیں۔

اسے امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے " المصنف " (2/19) میں اس سند سے بیان کیا ہے:" حدثنا أبو الأحوص ، عن عطاء بن السائب "

7- عبد الرحمن بن اسود کہتے ہیں کہ: " جس شخص نے عشا کے بعد چار رکعات ادا کیں تو وہ اس کیلیے لیلۃ القدر میں چار رکعات ادا کرنے کے برابر ہو جائے گی "

اسے امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے " المصنف " (2/19) میں اس سند سے بیان کیا ہے:" حدثنا الفضل بن دكين ، عن بكير بن عامر ، عن عبد الرحمن "

8- عمران بن خالد خزاعی کہتے ہیں کہ: "میں عطاء کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ان کے پاس ایک آدمی نے آ کر کہا: "ابو محمد! [عطاء کی کنیت] طاؤوس کا کہنا ہے کہ: جس شخص نے عشا پڑھنے کے بعد دو رکعات ادا کیں اور پہلی میں سورہ سجدہ  پڑھی اور دوسری میں سورۃ الملک تو وہ اس کیلیے لیلۃ القدر میں قیام کرنے کے برابر ہوں گی "عطاء کہنے لگے: طاؤوس نے صحیح کہا ہے، میں نے انہیں کبھی نہیں چھوڑا"

اس واقعہ کو  ابو نعیم نے " حلیۃ الأولياء " (4/6)  میں اس سند کے ساتھ بیان کیا ہے: " حدثنا عمر بن أحمد بن عمر القاضي ، ثنا عبد الله بن زيدان ، ثنا أحمد بن حازم ، ثنا عون بن سلام ، ثنا جابر بن منصور أخو إسحاق بن منصور السلولي ، عن عمران بن خالد"

9- قاسم بن ابو ایوب کہتے ہیں کہ: "سعید بن جبیر رحمہ اللہ عشا کی نماز کے بعد چار رکعات پڑھا کرتے تھے، جب میں ان سے گھر میں بات کرتا تو مجھ سے بات نہ کرتے"

اس روایت کو  مروزی نے " تعظيم قدر الصلاة " (1/167)  میں اس سند سے بیان کیا ہے: " حدثنا يحيى ، ثنا عباد بن العوام ، عن حصين ، عن القاسم"

10- مجاہد کہتے ہیں: " عشا کے بعد چار رکعات لیلۃ القدر میں چار رکعات ادا کرنے کے برابر ہوتی ہیں"

اسے امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے " المصنف " (2/127) میں اس سند سے بیان کیا ہے:" حدثنا يعلى ، عن الأعمش ، عن مجاهد "

چہارم:

خلاصہ یہ ہوا کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشا کی نماز کے بعد چار رکعات ادا کرنا ثابت ہے، تاہم ان چار رکعات کی فضیلت کے بارے میں تمام مرفوع روایات سخت قسم کی ضعیف ہیں، ان مرفوع روایات میں سب سے بہتر حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جو کہ وہ بھی ضعیف ہے۔

تاہم اس بارے میں صحابہ و تابعین کے آثار  سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سلف صالحین ان پر عمل پیرا تھے، بلکہ ان کے ہاں یہ چار رکعات مشہور بھی تھیں؛ کیونکہ یہ چار رکعات کتاب و سنت کے دسیوں دلائل سے ثابت قیام اللیل میں شامل ہیں ۔

لیکن یہ کہنا کہ یہ چار رکعات لیلۃ القدر میں قیام کرنے کے برابر ہیں  تو اس بارے میں خاموشی اختیار کی جائے، چونکہ یہ فضیلت کعب الاحبار کی اپنی بات سے بھی منقول ہے اس لیے اس بارے میں خاموشی اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے اس لیے کہ کعب الاحبار شرعی امور میں بہت زیادہ وسعت سے کام لیتے تھے اور اہل کتاب کی باتیں اس میں بیان کر جاتے تھے، تو اس لیے ہمیں خدشہ ہے کہ اس فضیلت کا اصل محور کعب الاحبار ہو۔

جن صحابہ کرام نے کعب الاحبار سے یہ فضیلت سنی تو صرف اس اعتبار سے کہ اس کا تعلق ایسے فضائل اعمال سے ہے جن کے ثواب کی امید تو ہے لیکن عمل کرنے پر گناہ نہیں ہوگا، [کیونکہ یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، صرف فضیلت ثابت نہیں ہے]

شیخ البانی رحمہ اللہ اس فضیلت کو "حکمی مرفوع" کا درجہ دینے کے قائل تھے، جس سے اس فضیلت کو اپنانے اور دلیل بنانے کی راہ نکلتی ہے، البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ حدیث متعدد صحابہ کرام سے موقوف ثابت ہے۔۔۔ نیز امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے یہی عمل عائشہ ، ابن مسعود، کعب بن ماتع، مجاہد، اور عبد الرحمن بن اسود سے نقل کیا ہے، -کعب کے علاوہ -ان تمام آثار کی سندیں  صحیح ہیں اگر چہ یہ موقوف ہیں لیکن انہیں مرفوع حکمی کا درجہ حاصل ہے؛ کیونکہ ایسی بات ذاتی رائے کی بنا پر نہیں کہی جا سکتی" انتہی
" سلسلہ احادیث ضعیفہ "حدیث نمبر:  (5060)

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں