سوموار 10 محرم 1444 - 8 اگست 2022
اردو

ذی روح چیزوں کی تصویر کشی کا حکم اور حرمت کی حکمت

سوال

نقش و نگاری ، یا پینٹنگ کو آپ اسلام میں حرام کیوں سمجھتے ہیں؟ قرآن و سنت میں اس کے حرام ہونے کی کیا دلیل ہے؟ میری تحقیق کے مطابق زیادہ سے زیادہ بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ ابھی مزید تحقیق طلب ہے، یا اس مسئلے میں مختلف آرا ہیں۔ اس کام کو حرام کہنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالی کی صفت تخلیق یعنی پیدا کرنے کی مقابلہ بازی پائی جاتی ہے، اور یہ عمل شرک ہونے کے ساتھ ساتھ عقیدہ توحید میں کمی بھی ہے؛ لیکن کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ بات اس وقت لاگو نہیں ہوتی جب نقش و نگار کرنے والا شخص عقیدہ توحید پر ہو اور اپنے عمل سے اللہ تعالی کے ساتھ مقابلہ بازی کا نظریہ نہ رکھتا ہو!؟ ایسے شخص کی جانب سے زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ ایک پہلے سے تخلیق شدہ چیز کی تصویر بناتا ہے، تو اس صورت میں نہ تو تخلیق ہے اور نہ ہی کسی نئی چیز کو وجود بخشنے کا معاملہ ہے؛ کیونکہ یہ کام تو صرف اللہ تعالی کی ذات ہی کر سکتی ہے، تو اس میں کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے!!

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

نقش و نگاری یا پینٹنگ کلی طور پر اسلام میں حرام نہیں ہ، بلکہ صرف وہی حرام ہے جس میں ذی روح چیز کی تصویر کشی کی جائے، چنانچہ یہ کام شرک نہیں ہے، بلکہ یہ حرام ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گناہ ہے؛ کیونکہ اس میں اللہ تعالی کے عمل سے مقابلہ بازی ہے اور یہ شرک کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی دو بنیادی اسباب ذی روح چیز کی تصویر کشی کے حرام ہونے کی وجہ ہیں۔

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"فرشتے ایسے گھر میں کیوں نہیں جاتے جس گھر میں ذی روح چیز کی تصویر ہوتی ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ تصویر سنگین نوعیت کی نافرمانی ہے اور اس میں اللہ تعالی کی تخلیق کی مشابہت بھی ہے" ختم شد
" شرح مسلم " ( 14 / 84 )

دوم:

مسلمان ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مسلمان کا کیا ہوا عمل حلال ہو گا، بلکہ اگر یہ مسلمان حقیقی طور پر مسلمان ہو تو شرعی حکم کے سامنے سر نگوں ہو جائے اور ممنوعہ عمل سے باز رہے۔ شریعت میں ایسے تمام کاموں سے ممانعت کی گئی ہے جو انسان کو شرک اور حرام کاموں کے قریب لے جائیں۔ اور اہل علم کے مطابق کسی بھی ذریعے کا حکم بھی وہی ہو گا جو اصل ہدف کا حکم ہے۔ اس بات پر ہم سب کا اتفاق ہے کہ بندہ اللہ تعالی کی مخلوق جیسی کوئی مخلوق نہیں بنا سکتا، اور بندے کو احادیث میں تصویر کشی اور شکل بنانے سے روکا گیا ہے جو کہ اللہ تعالی کا خاصہ ہے، اگر کوئی نافرمان بندہ شکل بناتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے عمل کی ظاہری طور پر مشابہت اپنا رہا ہے حقیقی طور پر نہیں۔

تصویر کشی کے معاملے کو بہت سے لوگ اہمیت نہیں دیتے، حالانکہ یہی تصویر کشی دھرتی پر سب سے پہلے شرک کے آغاز کا سبب بنی تھی؛ کیونکہ قوم نوح نے ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر جیسے اپنے بعض نیک لوگوں کی مورتیاں بنائیں، مورتی بنانے کا مقصد یہ تھا کہ انہیں دیکھ دیکھ کر دعا کریں، ثنا بیان کریں اور ان کی وجہ سے نیکیاں کریں، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ہی یہ لوگ انہی مورتیوں کی عبادت کرنے لگے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا . وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًا 
 ترجمہ: اور انہوں نے کہا کہ: تم اپنے الٰہوں کو مت چھوڑو، اور نہ ہی تو ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑو، حالانکہ انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے۔ اور تو ظالموں کو گمراہی میں ہی بڑھاتا ہے۔[نوح : 22-23]

الشیخ عبدالرحمن سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ نیک لوگوں کے نام ہیں، جب یہ نیک لوگ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے ذہنوں میں ایک اچھا خیال بنا کر ڈالا کہ وہ ان نیک لوگوں کی تصویریں بنا کر رکھیں، لوگ ان کی تصویریں دیکھ دیکھ کر عبادات کے لیے تیار ہوں گے، پھر وقت گزرتا گیا اور اگلی نسل آئی تو شیطان نے انہیں کہا کہ: تمہارے بڑے تو انہی لوگوں کی عبادت کیا کرتے تھے، انہی کو وسیلہ بناتے تھے ، انہی کی بدولت انہیں بارشیں عطا ہوتی تھیں، تو یہ نسل انہی مورتیوں کی عبادت کرنے لگی، اس لیے ان کے بڑوں نے اپنے پیروکاروں کو یہ تاکیدی نصیحت کی کہ انہی الٰہوں کی عبادت کو کبھی نہ چھوڑیں۔" ختم شد
" تفسیر سعدی " ( ص 889 )

سوم:

ذی روح چیزوں کی تصویر کشی کے حرام ہونے پر بہت سے دلائل ہیں، مثلاً:

1-سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یقیناً یہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، انہیں کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اس کو زندہ بھی کرو)
اس حدیث کو امام بخاری: (5607) اور مسلم : (2108)نے روایت کیا ہے۔

2-سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب والے لوگ وہ ہوں گے جو اللہ تعالی کے تخلیق میں مقابلہ بازی کرتے تھے)
اس حدیث کو امام بخاری: (5610) اور مسلم : (2107)نے روایت کیا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہمارے اور دیگر فقہائے کرام کہتے ہیں کہ: ذی روح کی تصویر بنانا سخت حرام ہے، یہ کبیرہ گناہ ہے؛ کیونکہ اس عمل پر احادیث میں بہت ہی شدید وعید ذکر کی گئی ہے، چاہے یہ تصویر کسی گھٹیا چیز سے بنائی جائے یا کسی اور چیز سے ہر حالت میں تصویر بنانا حرام ہو گا؛ کیونکہ اس میں اللہ تعالی کے ساتھ تخلیق میں مقابلہ بازی ہے، چاہے یہ تصویر کپڑے پر ہو یا چادر پر، درہم و دینار پر ہو یا سکوں پر، برتن پر ہو یا دیوار پر یا کسی بھی اور چیز پر۔ تاہم درخت اور اونٹ وغیرہ کے پالان کی ہو کہ جس میں روح نہیں ہے تو یہ حرام نہیں ہے، تصویر کا بھی یہی حکم ہے۔" ختم شد
" شرح مسلم " ( 14 / 82 )

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تصویر کشی سے صرف قریش کے کافروں کو ہی نہیں روکا تھا، بلکہ تمام صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مخاطب تھے، چنانچہ یہ ساری امت کو عمومی حکم تھا، اس لیے تصویر بنانے والا مسلمان ہے یا کافر اس سے تصویر کے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سعید بن ابو الحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ایک آدمی ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: میں تصویریں بناتا ہوں، مجھے اس بارے میں فتوی عنایت فرمائیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: میرے قریب ہو جاؤ۔ تو وہ شخص قریب ہو گیا۔ آپ نے اسے مزید کہا: میرے قریب ہو جاؤ۔ تو وہ شخص مزید قریب ہو گیا، اب ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: کیا میں تمہیں وہ بات بتلاؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: (جہنم میں ہر تصویر بنانے والے کے لیے اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے میں ایک جاندار چیز بنائی جائے گی جو اسے جہنم میں عذاب دے گی) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا: اگر تم لازمی طور پر تصویر کشی کرنا چاہتے ہو تو پودے وغیرہ بناؤ جن میں روح نہیں ہوتی۔"
اس حدیث کو امام بخاری: (2112) اور مسلم : (2110)نے روایت کیا ہے۔

خلاصہ کلام:
ذی روح چیزوں کی تصویریں چاہے وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا لکڑی وغیرہ پر کندہ کی گئی ہوں، یا مٹی وغیرہ سے بنائی گئی ہوں ان کی حرمت میں کوئی شک نہیں ہے، یہ تصویریں بنانے والے حدیث میں بیان کر دہ وعیدوں میں شامل ہیں، اس کی حرمت کے متعلق گفتگو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (34839 )، (10668 ) اور (39806 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب