اتوار 6 رمضان 1442 - 18 اپریل 2021
اردو

مجسمہ سازى كى حرمت

34839

تاریخ اشاعت : 26-05-2008

مشاہدات : 3718

سوال

كئى قسم كى اغراض و مقاصد كے ليے مجسمہ سازى كا اسلام ميں كيا حكم ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

حرام مقاصد و غرض ميں سے كسى بھى غرض اور مقصد كے ليے مجمسہ سازى حرام ہے، چاہے يہ بادشاہوں اور فوج كے سربراہان اور قائدين اور وى آئى پى اور مصلح قسم كے افراد كے ہوں، يا پھر عقل و شجاعت كے نشان و علامت سمجھے جائيں، مثلا ابو الھول كا مجسمہ يا كسى اور كا مجسمہ ہو، يا كسى اور غرض كے ليے ہو؛ يہ سب برابر ہيں؛ كيونكہ اس كى ممانعت ميں عمومى احاديث وارد ہيں.

اور اس ليے بھى كہ يہ شرك كا ذريعہ ہيں، جيسا كہ نوح عليہ السلام كى قوم ميں ہوا تھا " انتہى.

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 1 / 478 )