بدھ 6 ربیع الاول 1440 - 14 نومبر 2018
اردو

ایمان کے ساتھ استقامت بھی ہو تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟

192610

تاریخ اشاعت : 16-06-2018

مشاہدات : 121

سوال

ایمان کے ساتھ استقامت بھی ہو تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اللہ تعالی کا فرمان ہے: ( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ )
ترجمہ: جو مرد یا عورت ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے تو ہم اسے خوشحال زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور ان کے بہترین اعمال کا اجر دیں گے جو وہ کرتے تھے۔[النحل:97]

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایمان کی حالت میں عمل صالح کرنے والے مرد و زن کیلیے وعدہ ہے، عمل صالح یہ ہے کہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کے مطابق کام ہو۔  اور وعدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اسے دنیا میں اچھی زندگی عطا فرمائے گا اور آخرت کے دن  اسے بہترین اجر و ثواب سے نوازے گا۔

اچھی زندگی میں  ہر طرح کی آسائش اور راحت کو  شامل ہے، بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر اہل علم سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے اچھی زندگی کی تفسیر پاکیزہ رزق حلال  سے کی ہے ۔ جبکہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اچھی زندگی سے مراد قناعت لی ہے، یہی موقف ابن عباس، عکرمہ اور وہب بن منبہ کا ہے۔ نیز علی بن ابو طلحہ نے ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: اس سے مراد خوشحال زندگی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس سے مراد رزق حلال اور دنیا میں عبادت کی توفیق ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ ایک اور جگہ کہتے ہیں کہ : اس سے مراد شرح صدر کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت ہے؛ لیکن صحیح موقف یہی ہے کہ اچھی زندگی میں یہ سب چیزیں شامل ہیں " ختم شد
تفسیر ابن کثیر(4/ 516)

اللہ تعالی کا ایک مقام پر فرمان ہے:
( وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ )
ترجمہ: جو مرد یا عورت ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے تو   تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور انہیں جنت میں بغیر حساب کے رزق دیا جائے گا۔[غافر:40]

ایک اور مقام پر فرمایا:
( وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا)

 ترجمہ: اور جو  آخرت چاہتا ہے اور اسی کیلیے ایمان کی حالت میں خصوصی کاوش کرتا ہے؛ تو یہی لوگ ہیں جن کی کاوش کی قدر کی جائے گی۔ [الإسراء:19 ]،

ایسے ہی فرمایا:
( وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا )
ترجمہ:اور جو بھی ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے تو اسے کسی ظلم اور زیادتی کا خدشہ بھی نہیں ہو گا۔ [ طہ:112]

تو ان آیات میں واضح ہے کہ جب انسان اللہ تعالی پر ایمان رکھے اور اللہ کیلیے  اخلاص کے ساتھ عمل کرتا رہے، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے، اللہ کی شریعت پر استقامت اختیار کرے، شرعی حدود سے تجاوز نہ کرے: تو اس کیلیے دنیا و آخرت میں سعادت مندی ہو گی، دنیا و آخرت میں وہ شخص کامیاب ہو جائے گا،  ایسے انسان کو دنیا میں حاصل ہونے والی عظیم ترین نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالی اسے نفسیاتی اطمینان عطا کرتا ہے، اس کی شرح صدر فرماتا ہے، حالات سنوار دیتا ہے، اور انسان ایمان و یقین کے ساتھ اللہ کی اطاعت میں مگن رہتا ہے، اس کا ذہن کسی اور جانب متوجہ نہیں ہوتا، اللہ تعالی کی طرف سے اس پر یہ بھی احسان ہوتا ہے کہ اللہ اس کے دل کی اصلاح فرماتا ہے، اس کے کردار اور گفتار میں عمدگی پیدا فرما دیتا ہے، وہ ظاہری اور باطنی فتنوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

چنانچہ اگر وہ اسی حالت پر فوت ہو جائے : تو اللہ تعالی اسے عذاب کی آزمائشوں سے بچا لیتا ہے، پھر جب اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو اس کا حساب آسان کر  کے اجر بھی بڑھا چڑھا کر عطا کرتا ہے، اس کی برائیوں کو بھی اچھائیوں میں بدل  کر اپنی رحمت کے صدقے اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے، تو وہ ہمیشہ راحت میں رہے گا اور کبھی بھی اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی، وہ جنت میں ابدی اور سرمدی زندگی گزارے گا، وہاں اسے وہ کچھ ملے گا جو آج تک کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان کے بارے میں کانوں نے سنا ہے بلکہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال تک نہیں آیا، انہی امور کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ * نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ * نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ)
ترجمہ: بیشک جن لوگوں نے کہا: ہمارا پروردگار اللہ ہے، پھر وہ اسی پر ڈٹ گئے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں [اور کہتے ہیں] کہ تم خوف نہ کرو نہ ہی غم کھاؤ، بلکہ جنت  کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا(30) ہم تمہارے دنیا کی زندگی اور آخرت میں بھی دوست ہیں، اور تمہارے لیے  وہاں وہ کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے، اور تمہیں وہاں وہ کچھ ملے گا جس کا مطالبہ کرو گے (31) یہ بخشنے والے نہایت رحم کرنے والے پروردگار کی جانب سے مہمان نوازی ہو گی۔[ فصلت:30-32]

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں