سوموار 20 ذو القعدہ 1440 - 22 جولائی 2019
اردو

لڑکی نے بغیر ولی کے شادی کی اور نکاح خواں نے کہا کہ وہ اس کا ولی بن جائے گا، اور اس کا سرکاری نکاح نامہ بھی جاری کر دیا۔

273353

تاریخ اشاعت : 05-07-2019

مشاہدات : 265

سوال

مجھے ایک لڑکی سے محبت ہو گئی اور ہم نے شادی کرنے پر اتفاق کر لیا، اس کا ایک بڑا بھائی ہے لیکن لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ ہماری شادی میں رضا مند نہیں ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں شادی شدہ ہوں اور میرے چار بچے ہیں، تو ہم سرکاری نکاح خواں کے پاس گئے تو اس نے کہا: میں لڑکی کا ولی بن جاؤں گا؛ حالانکہ ہم اس سے پہلی بار ملے تھے اس سے پہلے ہماری اور اس کی کوئی جان پہچان ہی نہیں تھی، اس نے ہمارا نکاح پڑھا دیا اور سرکاری نکاح نامہ بھی جاری کر دیا۔ میں نے ابھی تک اس لڑکی سے تعلقات قائم نہیں کیے، متعدد لوگوں نے مجھے یہ کہا ہے کہ یہ نکاح باطل ہے۔ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے فتوی دیں کہ کیا یہ نکاح باطل ہے یا کیا ہے؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

نکاح کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے کہ لڑکی کا ولی یا ولی کا نمائندہ دو مسلمان گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں) اس حدیث کو ابو داود: (2085)، ترمذی: (1101) اور ابن ماجہ: (1881) نے ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، نیز اس حدیث کو البانی نے صحیح ترمذی میں صحیح قرار دیا ہے۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہے) اس حدیث کو سیدنا عمران اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے بیہقی نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح الجامع : (7557)میں صحیح قرار دیا ہے۔

عورت کا ولی : بالترتیب والد، دادا، بیٹا[اگر اس کی اولاد ہو تو]، پوتا، سگا بھائی، باپ کی طرف سے بھائی، ان دونوں کے بیٹے، چچا اور تایا، چچا اور تایا کے بیٹے، پھر باپ کے چچا اور تایا، آخر میں حکمران والی بنیں گے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں: "المغني" (7/ 14)

جبکہ نکاح خواں اسی وقت ولی بن سکتا ہے جب ولی اسے اپنا نمائندہ بنا دے، یا پھر لڑکی کے ولی ہی نہ ہوں تو پھر ایسی لڑکی کی شادی نکاح خواں یا مسلمانوں میں سے عادل آدمی کر سکتا ہے۔

اگر لڑکی کے ولی تو ہوں لیکن وہ کسی ایسے ہم پلہ لڑکے سے شادی نہ کریں جس کو لڑکی پسند کرتی ہو تو اس کا نکاح قاضی کرے گا؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جو کوئی بھی عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر لڑکا اس کے ساتھ ہم بستری بھی کر لے تو لڑکی کو مہر ملے گا کہ لڑکے نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لیے حلال جانا، اور اگر اس کے ولیوں میں اختلاف ہو جائے تو حکمران اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو) اس حدیث کو امام احمد: (24417) ، ابو داود: (2083) ، ترمذی: (1102) اور ابن ماجہ: (1879) نے روایت کیا ہے نیز البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ میں صحیح قرار دیا ہے۔

نکاح کے صحیح ہونے کے لئے ولی کی شرط مالکی، شافعی اور حنبلی جمہور فقہائے کرام نے لگائی ہے۔

جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے بغیر ولی کے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے۔

تو اس اختلاف کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر کسی ملک میں امام ابو حنیفہ کے فقہی مذہب پر عمل ہوتا ہے اور شرعی عدالتیں بغیر ولی کے نکاح کو صحیح قرار دیتی ہیں، اور قاضی خود نکاح کرواتا ہے، یا عقد نکاح کی توثیق کرتا ہے، تو یہ نکاح باطل نہیں ہو گا اور نہ ہی دوبارہ نکاح کرنا لازمی ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر اس نکاح کے صحیح ہونے کا حکمران کی جانب سے فیصلہ ہو جائے یا یہ نکاح ہی خود حکمران نے پڑھایا ہو، تو ایسی صورت میں اس کو باطل قرار دینا جائز نہیں ہے، اور یہی حکم دیگر تمام فاسد نکاحوں کا ہو گا۔" ختم شد
المغنی (7/ 6)

اس بنا پر: اگر نکاح خواں نے سرکاری نکاح نامہ جاری کر دیا ہے تو پھر اس نکاح کو باطل نہیں کہا جائے گا اور اس کے صحیح ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔

اگرچہ یہ بہتر ہے کہ آپ دوبارہ نکاح کر لیں؛ خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ آپ نے ابھی تک جسمانی تعلقات قائم نہیں کیے تا کہ آپ اختلافی نکتہ نظر سے نکل جائیں ، یہ آپ کی دینی اقدار کے لئے محتاط عمل بھی ہو گا اور آپ کی عزت آبرو پر حرف بھی نہیں آئے گا۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (132787) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں